اردو زبان کے فروغ میں نمایاں کردار ادا کرنے والے محقق، استاد، اور ڈیجیٹل جہدکار کی علمی خدمات کا جائزہ
تحریر: ابوشحمہ انصاری سعادت گنج، بارہ بنکی
اردو زبان کی دنیا میں چند ایسے نام ہیں جنہوں نے قومی حدود سے نکل کر بین الاقوامی سطح پر اپنی زبان، تہذیب اور ادب کا پرچم بلند کیا۔ انہی ممتاز شخصیات میں ایک معتبر نام خواجہ محمد اکرام الدین کا بھی شامل ہے، جنہوں نے اردو زبان و ادب کو نہ صرف علمی سطح پر نئی جہتوں سے روشناس کرایا بلکہ اس کے بین الاقوامی فروغ کے لیے عملی اقدامات بھی کیے۔
جھارکھنڈ کے ضلع گریڈیہہ میں پیدا ہونے والے خواجہ اکرام الدین نے ہائی اسکول ، انٹر اور بی-اے آنرس تک کی تعلیم پٹنہ سے حاصل کی۔ بعد ازاں وہ جواہر لعل نہرو یونیورسٹی، نئی دہلی سے اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے کے بعد وہیں اردو کے استاد مقرر ہوئے۔ وہ نہ صرف ایک ماہر لسانیات اور محقق ہیں بلکہ ادارہ قومی کونسل برائے فروغ اردو زبان (NCPUL) کے ڈائریکٹر کی حیثیت سے بھی نمایاں خدمات انجام دے چکے ہیں۔
تعلیم و تحقیق کی دنیا میں ان کا دائرۂ عمل وسیع ہے۔ وہ نہ صرف اردو کے محقق اور نقاد ہیں بلکہ متعدد تحقیقی منصوبوں کے نگران بھی رہ چکے ہیں۔ کئی بین الاقوامی کانفرنسوں میں شرکت کے ساتھ ساتھ انہوں نے اردو زبان کی بین الاقوامی شناسائی میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ ان کی تحریریں صرف ہندوستان میں ہی نہیں بلکہ پاکستان، خلیج، یورپ اور امریکہ جیسے خطوں میں بھی پڑھا اور سراہا جاتا ہے۔
ادبی خدمات کے اعتبار سے خواجہ اکرام کا دامن بے حد وسیع ہے۔ ان کی تصانیف کی تعداد دو درجن سے زائد ہے جن میں زبان، ادب، میڈیا، تنقید، سفرنامہ، سوانح، اور مخطوطات کی تدوین جیسے متنوع موضوعات پر تحریریں شامل ہیں۔ ایک محقق کی حیثیت سے انہوں نے اردو کی شعری اصناف، اردو میڈیا، اور سفرنامہ نگاری جیسے موضوعات کو نئی جہت عطا کی ہے۔
اگر خواجہ اکرام کی ادبی کائنات پر ایک نظر ڈالی جائے تو ان کی چند اہم تصانیف درج ذیل ہیں: رشید احمد صدیقی کے اسلوب کا تجزیاتی مطالعہ، اردو کی شعری اصناف (دو ایڈیشن)، نوائے آزاد اور دیوان شانی (فارسی مخطوطات کی تنقیدی تدوین)، اسلامی تاریخ کے اہم شہر (ترجمہ)، اردو میڈیا، اردو زبان کے نئے تکنیکی وسائل اور امکانات، اردو سفرناموں میں ہندوستانی تہذیب و ثقافت، اکیسویں صدی میں اردو: فروغ اور امکانات، ملاقاتیں، وسیم بریلوی کی شاعری کے فکری و فنی جہات، اردو کا عالمی تناظر، سید محمد اشرف: نمائندہ افسانے، اردو شاعری: نمائندہ شعرا کا تعارف اور ان کی شاعری، اردو، عربی اور فارسی میں رزمیہ ادب، اور ان کا معروف سفرنامہ مشاہدات۔
حال ہی میں دہلی اردو اکیڈمی کے زیرِ اہتمام ان کی تازہ ترین کتاب ڈیجیٹل میڈیا اور اردو زبان و ادب منظرِ عام پر آئی ہے، جو اردو زبان کے مستقبل اور ڈیجیٹل دور میں اس کے امکانات پر ایک بصیرت افروز تصنیف ہے۔ یہ دراصل ایک سیمینار کے منتخب مقالات کا مجموعہ ہے، جس کی ترتیب اور تدوین خود خواجہ اکرام نے نہایت سنجیدگی سے انجام دی ہے۔ مقدمہ جو انہوں نے خود تحریر کیا، وہ اردو زبان کی موجودہ ڈیجیٹل صورتِ حال کا ایک فکری و تحقیقی تجزیہ پیش کرتا ہے۔
زبان و ثقافت کے سفیر کی حیثیت سے ان کی پہچان صرف تعلیمی اداروں تک محدود نہیں رہی۔ خواجہ اکرام نے اردو کے فروغ کے لیے بیرون ملک مختلف کانفرنسوں میں شرکت کی اور وہاں اردو تدریس کے ماڈلز پر تبادلہ خیال کیا۔ ان کا شمار ان گنے چنے ماہرین میں ہوتا ہے جنہوں نے اردو زبان کی ڈیجیٹل موجودگی کو ایک سنجیدہ تحقیقی موضوع میں بدل کر اسے عملی میدان میں نافذ کیا۔
دیارِ غیر میں اردو کی ترویج ہو یا ملکی سطح پر نئی نسل میں اردو کے لیے بیداری، ان کی خدمات ہر سطح پر نمایاں ہیں۔ پروفیسر خواجہ اکرام نے نوجوانوں کے لیے اردو کے نئے وسائل پر کام کیا ہے، جن میں آن لائن لغات، ورچوئل کلاسز، اور ڈیجیٹل لائبریریز شامل ہیں۔ ان کی کوشش رہی ہے کہ اردو زبان کو محض جذباتی طور پر نہیں بلکہ تحقیقی و تکنیکی انداز میں اگلی نسل تک منتقل کیا جائے۔
اردو صحافت پر بھی ان کی نگاہِ باریک بین رہی ہے۔ ان کی کتاب اردو میڈیا ایک ایسی کوشش ہے جو اردو صحافت کی تاریخ، موجودہ صورتِ حال اور مستقبل کی راہوں کو سمجھنے میں مدد دیتی ہے۔ اس کتاب کا دوسرا ایڈیشن بھی شائع ہو چکا ہے، جو اس کے مقبول ہونے کی دلیل ہے۔
تنقید و تدوین کے میدان میں بھی ان کی خدمات ناقابلِ فراموش ہیں۔ انہوں نے کئی نادر فارسی مخطوطات کو نہ صرف دریافت کیا بلکہ ان کی باقاعدہ تدوین و اشاعت بھی کی، جس سے اردو و فارسی ادب کے مابین روابط کی نئی پرتیں وا ہوئیں۔
ادب میں ان کا طرزِ اظہار متوازن، سلیس اور مدلل ہوتا ہے۔ انہوں نے جہاں سادہ بیانی سے قاری کو اپنی گرفت میں رکھا، وہیں تحقیقی استدلال سے تحریر کو علمی وقار بھی عطا کیا۔ ان کے انٹرویوز پر مبنی کتاب ملاقاتیں کئی اہم ادبی شخصیات کے خیالات و افکار کا خزانہ ہے۔
پروفیسر خواجہ محمد اکرام الدین کی شخصیت ایک ایسے انسان کی تصویر پیش کرتی ہے جو علم و ادب کے راستے سے انسان دوستی، قومی یکجہتی اور تہذیبی ہم آہنگی کی جانب سفر کرتا ہے۔ انہوں نے اردو زبان کو محض ایک ادبی اظہار کا وسیلہ نہیں، بلکہ تہذیبی شناخت اور بین الاقوامی رابطے کا ذریعہ بنانے کا خواب دیکھا اور اسے عملی جامہ بھی پہنایا۔
آج جب اردو زبان کے مستقبل پر سوال اٹھائے جا رہے ہیں، پروفیسر خواجہ اکرام جیسے افراد امید کی کرن بن کر سامنے آتے ہیں۔ ان کی تحریریں، تحقیقی کام، تدریسی خدمات اور فکری رہنمائی نئی نسل کو راستہ دکھاتی ہیں کہ اردو محض ماضی کی میراث نہیں بلکہ مستقبل کی زبان بھی بن سکتی ہے، بشرطیکہ اسے سمجھ کر، سنوار کر اور زمانے کے ساتھ ہم آہنگ کرکے پیش کیا جائے۔




