از: ابھے کمار ریسرچ اسکالر
نفرت پر مبنی افواہوں کا بازار اس قدر گرم ہے کہ فرقہ پرست افراد بے بنیاد الزامات لگا کر نکل پڑتے ہیں، اور ان سے باز پرس کرنے والا کوئی نہیں ہوتا
ہندوستان کا کمبھ میلہ اور مسلمان: 12 سال کے طویل انتظار کے بعد پریاگ راج میں مہا کمبھ پر خوب ہلچل ہے۔ مقدس گنگا، جمنا، اور سرسوتی کے سنگم پر عقیدت مند غسل کرتے ہوئے اپنے مذہبی فرائض ادا کر رہے ہیں ۔ چھ ہفتوں تک جاری رہنے والے اس میلے میں کروڑوں عقیدت مند حاضر ہوئے۔ دعوی کیا جا رہا ہے کہ یہ دنیا کا سب سے بڑا مذہبی اجتماع ہے۔ اگر چہ کمبھ میلے کی مقبولیت نے جدید دور میں شدت اختیار کی ہے۔ انگریزوں کی آمد اور ریل کی سہولتوں کے فروغ کے ساتھ عقیدت مندوں کی تعداد میں نمایاں اضافہ ہوا۔ بعد ازاں ہند و احیا پرستوں نے کمبھ میلے کو ہند و شناخت کا ایک اہم حصہ قرار دے کر اس کی اہمیت کو مزید اجاگر کیا۔ اسی طرح حکمرانوں کے درمیان کبھ کے بہترانتظام کا کریڈٹ لینے کے لیے بھی مسابقت دیکھنے میں آئی۔ اس بار بھی بھارتیہ جنتا پارٹی کی یوپی حکومت کا محکمہ تعلقات عامہ وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ کونہ صرف کمبھ میلے کا کامیاب منتظم بلکہ ہندو سماج کے عظیم رہنما کےطور پر پیش کرنے کی بھر پور و کوشش کر رہا ہے۔ دوسری جانب ہندو انتہا پسند کمبھ جیسے مذہبی اجتماع کو فرقہ وارانہ رنگ دینے سے باز نہیں آ رہے ہیں۔
جہاں ملک اور دنیا کے میڈیا کی نظریں کمبھ میلے پر مرکوز ہیں، وہیں شدت پسند تنظیمیں مسلمانوں کے اس میلے میں داخلے کی اجازت روکنے اور ان کے معاشی بائیکاٹ کا مطالبہ کر رہی ہیں۔
حالانکہ انتظامیہ کی جانب سے مسلمانوں کو کمبھ میں داخلے سے روکنے کے لیے کوئی حکم جاری نہیں کیا گیا لیکن اقلیتوں میں یہ بے چینی محسوس کی جارہی ہے کہ یوگی حکومت نے شدت پسندوں کے خلاف کوئی واضح موقف اختیار نہیں کیا ہے. ایک مشہور ہندی نیوز چینل کو دئے گئے انٹرویو میں یوگی آدتیہ ناتھ نے کہا کہ کمبھ میلے کے دروازے سب کے لیے کھلے ہیں مگر ساتھ ہی فرقہ پرستوں کے بیانیے کے مطابق یہ بھی کہا کہ جو لوگ سناتن دھرم کا احترام نہیں کرتے وہ اس میلے میں نہ آئیں تو بہتر ہوگا جہاں ایک طرف ایسے فرقہ وارانہ مطالبات بھارت کی سیکولر شناخت کو نقصان پہنچا رہے ہیں وہیں بہت سارے مسلمانوں کو یہ احساس ہو رہا ہے کہ انہیں میلے میں اپنی دکانیں سجانے کے مواقع سے محض ان کے مذہبی تشخص کی وجہ سے محروم رکھا جا رہا ہے
ہندوتوادی نظریہ کی حامل تنظیم اکھل بھارتیہ اکھاڑا پریشد نے مطالبہ کیا ہے کہ جو لوگ غیر سناتنی ہیں انہیں کمبھ میلے میں داخل ہونے کی اجازت نہیں ہونی چاہئے اور نہ ہی انہیں میلے کے اندر کوئی ہوٹل یا دکان چلانے کا موقع ملنا چاہئے یہ تنظیم یوگی آدتیہ ناتھ کی حکومت پر دباؤ ڈال رہی ہے کہ وہ مسلمانوں پر پابندی عائد کرے مسلم دشمنی کی شدت کا عالم یہ ہے کہ اس تنظیم سے وابستہ مذہبی لیڈروں نے ہندو روایات سے منسلک فارسی کے الفاظ کو بھی تبدیل کرنے کی تجویز دی ہے مثال کے طور پر شاہی اسنان میں استعمال ہونے والے شاہی لفظ کو بدلنے کی سفارش کی گئی ہے اور جہاں پیشوائی جیسے اصطلاحات استعمال کی جاتی رہی ہیں انہیں بھی تبدیل کرنے کی وکالت کی جارہی ہے ایک الزام یہ بھی عائد کیا جارہا ہے کہ مسلمانوں کی موجودگی یا ان کے ہوٹل چلانے سے کمبھ میلے میں نظم و ضبط کا مسئلہ پیدا ہو سکتا ہے انتہا پسندوں کے بے بنیاد دلائل کے مطابق گر مسلمانوں نے کمبھ میلے میں کھانے پینے کے ہوٹل کھول لئے تو اس سے عقیدت مندوں کے عقائد مجروح ہوسکتے ہیں کیونکہ ان کے مطابق مسلمان دانستہ طور پر کھانے پینے کی اشیاء کو آلودہ کرکے پیش کرتے ہیں نفرت پر مبنی افواہوں کا بازار اس قدر گرم ہے کہ فرقہ پرست افراد بے بنیاد الزامات لگا کر نکل پڑتے ہیں اور ان سے جواب طلب کرنے والا کوئی نہیں ہوتا حال ہی میں ایک ویڈیو وائرل ہوئی تھی جس کی بنیاد پر خبر چلائی گئی کہ کسی مسلم شخص نے کمبھ میلے کے بینر پر پیشاب کردیا تھا اس افواہ کا مقصد یہ تھا کہ ہندوؤں کے دلوں میں مسلمانوں کے خلاف نفرت پیدا کی جائے کہ مسلمان ان کے مقدس میلے کمبھ کی بے حرمتی کر رہا ہے تاہم رائے بریلی کی پولس نے گیارہ جون کو واضح کردیا کہ پیشاب کرنے والا شخص مسلمان نہیں بلکہ ایک ہندو تھا جو نشے کی حالت میں تھا اور اس نے کسی دیوار کے قریب پیشاب کیا تھا اس واقعہ کا کمبھ میلے کے بینر کی بے حرمتی سے کوئی براہ راست تعلق نہیں تھا اس نوعیت کی افواہیں اور متعلقہ ویڈیوز حالیہ دنوں میں خوب وائرل کی گئی ہیں جن میں مسلمان جیسی شکل یا نام والے شخص کو کھانے پینے کی اشیاء کو آلودہ کرتے ہوئے دکھایا گیا ہے جہاں تک ہوٹلوں میں صفائی کا تعلق ہے یہ ایک اہم مسئلہ ہے اور انتظامیہ کو چاہیے کہ وہ صفائی کے معاملے میں غفلت برتنے والے ہوٹل مالکان کے خلاف کارروائی کرے تاہم یہ بالکل بھی مناسب نہیں کہ صفائی جیسے اہم مسئلے کو فرقہ وارانہ رنگ دے کر مسلم مخالف نفرت پیدا کی جائے حقیقت یہ ہے کہ فرقہ پرست اچھی طرح جانتے ہیں کہ جب تک وہ مسلم مخالف بیانیہ نہیں پھیلائیں گے تب تک انہیں مسلم مخالف پالیسی بنانے میں مشکلات کا سامنا ہوگا اسی مقصد کے تحت یہ بات خوب پھیلائی جا رہی ہے کہ مسلمان ہوٹل والے جان بوجھ کر گندہ اور نا پاک کھانا پیش کرتے ہیں۔ اس پروپیگنڈے کا اصل مقصد مسلمانوں کے ہوٹلوں کو بند کرانا اور ان کی کاروباری سرگرمیاں ہندوتو وادی جماعت کے قریبی لوگوں کے حوالے کرنا ہے، تاکہ مسلمانوں کو معاشی طور پر مجبور اور مفلسی میں مبتلا کر دیا جائے۔ کئی اقتصادی ماہرین یہ بات فراموش کر دیتے ہیں کہ نسل پرستی فرقہ پرستی اور ذات پات کا گہرا تعلق تجارت کی کامیابی اور ناکامی سے ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہوٹلوں میں کام کرتے ہوئے اکثر دلت مزدور دکھائی دیتے ہیں، مگر دلتوں کے نام سے ہوٹل کم دکھائی دیتے ہیں۔ قانونی طور پر چھوت چھات کا خاتمہ سالوں پہلے ہو چکا ہے، لیکن دلتوں اور مسلمانوں کے خلاف تعصب اور امتیاز کی ذہنیت اب بھی برقرار ہے۔ جیسے ہی کسی فرقہ پرست کو یہ پتہ چلتاہے کہ کسی دکان یا ہوٹل کا مالک دلت یا مسلمان ہے، وہ اس کا بائیکاٹ کرتا ہے۔ بی جے پی حکومت نے مذہبی عقیدت کے احترام کے نام پر ہوٹل ملکان کو اپنے نام کی پلیٹ ظاہر کرنے پر مجبور کیا ہے، جس کا مقصد یہ ہے کہ دلت اور مسلمان مالکان کی پہچان واضح کی جائے تا کہ محکوم طبقات کے خلاف معاشی بائیکاٹ کا دروازہ کھل جائے۔
سرکاری نوکریوں میں مسلمانوں کی شرح تقریبا 5 فیصد ہے۔ اور بیشتر مسلمان مزدوری یا چھوٹے کام کر کے اپنا گزارہ کرتے ہیں۔ اگر فرقہ پرستوں کے مذکورہ نا پاک عزائم کمبھ کے میلے میں کامیاب ہو گئے تو مسلمانوں کی موجودگی کاروبار اور تجارت میں مزید کم ہو جائے گی، اور وہ سڑکوں پر آجائیں گے۔ فرقہ پرست طاقتیں یہی چاہتی ہیں کہ مسلمانوں کو ہر محاذ پر کمزور کیا جائے۔ لیکن اس وقت کی سب سے اہم ضرورت یہ ہے کہ ہم حکومت کو یہ یاد دلائیں کہ سیکولر نظام میں دھرم پر مبنی پالیسی نہیں بنائی جاسکتی، اسی طرح حکمراں جماعت کو یہ بات واضح کرنی ہوگی کہ عید دسہرہ اور کرسمس کے موقع پر لگنے والا میلہ کسی ایک مذہبی گروپ کا نہیں ہوتا ہے بلکہ انہیں پورا معاشر مل کر مناتا ہے۔






[…] ہیں تو شروع سے ہی چل پڑتی ہے ۔ لیکن اس سلسلے میں اکثرجھوٹ بولا جاتا ہے کہ وہ پرانے والا دکاندار واپس آرہا ہے۔ یا […]