تحریر۔ابوشحمہ انصاری
سعادت گنج،بارہ بنکی
یہ سوال آج ہر اس شخص کے ذہن میں کروٹیں لے رہا ہے جو اردو سے محبت کرتا ہے، اردو میں سوچتا ہے اور اردو کے مستقبل کو لے کر فکرمند ہے۔ زبانیں اچانک نہیں مرتیں، نہ ہی یکایک زندہ رہتی ہیں۔ زبانوں کا زوال یا عروج دراصل سماج کے رویّوں، ترجیحات اور اجتماعی فیصلوں کا نتیجہ ہوتا ہے۔ اردو بھی آج اسی دوراہے پر کھڑی ہے، جہاں اس کے چاہنے والے تو بہت ہیں، مگر اسے جینے کا حق دینے والے کم ہوتے جا رہے ہیں۔
اکثر کہا جاتا ہے کہ نئی نسل اردو سے دور ہو گئی ہے۔ یہ بات اپنی جگہ درست ہے، مگر سوال یہ ہے کہ کیا یہ دوری خود بخود پیدا ہو گئی؟ یا اس کے پیچھے ہماری اجتماعی غفلت، ہماری ترجیحات کی تبدیلی اور ہماری سہل پسندی کارفرما ہے؟ سچ یہ ہے کہ اردو سے نئی نسل کی دوری کا الزام اگر صرف نوجوانوں کے سر ڈال دیا جائے تو یہ نہ صرف ناانصافی ہوگی بلکہ مسئلے سے فرار بھی۔
سب سے پہلے ہمیں اپنے گھروں کا جائزہ لینا ہوگا۔ کبھی اردو گھریلو زبان تھی۔ ماں بچوں کو اردو میں لوریاں دیتی تھی، باپ اردو میں سمجھاتا تھا، بزرگ اپنی باتوں میں محاورے اور کہاوتیں استعمال کرتے تھے۔ آج صورت حال یہ ہے کہ گھروں میں اردو بولنے پر باقاعدہ جھجک محسوس کی جاتی ہے۔ والدین خود فخر سے کہتے ہیں کہ ہمارا بچہ اردو نہیں جانتا، صرف انگریزی بولتا ہے۔ گویا اردو جاننا کم مائیگی اور انگریزی بولنا ذہانت کی علامت بن چکا ہے۔ ایسے ماحول میں پلنے والا بچہ اردو سے محبت کیسے کرے گا؟
اس کے بعد باری آتی ہے ہمارے تعلیمی نظام کی۔ اردو کو نصاب میں تو جگہ دی گئی، مگر اسے اس انداز سے پڑھایا گیا کہ وہ بچوں کے لیے دلچسپی کے بجائے خوف بن گئی۔ اردو کو زبان کے طور پر نہیں بلکہ ایک مشکل مضمون کے طور پر پیش کیا گیا۔ نہ اساتذہ کی مناسب تربیت ہوئی، نہ جدید تدریسی طریقے اپنائے گئے۔ نتیجہ یہ کہ اردو کلاس میں بیٹھا بچہ امتحان پاس کرنے کی فکر میں تو رہتا ہے، مگر زبان سے رشتہ قائم نہیں ہو پاتا۔
اردو کے اساتذہ پر بات کرنا شاید کچھ لوگوں کو ناگوار گزرے، مگر سچ یہ ہے کہ ہمیں یہاں بھی خود احتسابی کی ضرورت ہے۔ ہر استاد ایسا نہیں، مگر ایک بڑی تعداد ایسی ضرور ہے جس نے اردو کو محض نوکری کا ذریعہ بنا لیا ہے۔ زبان کی روح، ادب کی تازگی اور تخلیقی فکر کہیں پیچھے رہ گئی ہے۔ نئی نسل سوال پوچھتی ہے، نئے زاویے چاہتی ہے، مگر اسے اکثر پرانے سانچوں میں ڈھالنے کی کوشش کی جاتی ہے۔
پھر اردو صحافت کی طرف نظر جاتی ہے۔ کبھی اردو اخبار نوجوانوں کی آواز ہوا کرتے تھے۔ آج بیشتر اردو اخبارات خود ایک محدود دائرے میں قید ہو چکے ہیں۔ زبان وہی گھسی پٹی، موضوعات وہی مخصوص، اور لہجہ وہی ماضی پرست۔ نئی نسل جب اپنا عکس اردو اخبار میں نہیں دیکھتی تو اس سے جڑاؤ کیسے پیدا ہوگا؟ اگر اردو صحافت نوجوانوں کے مسائل، خوابوں اور سوالوں کو جگہ نہیں دے گی تو وہ خود بخود اس سے دور ہو جائیں گے۔
اکثر سوشل میڈیا اور موبائل فون کو بھی اردو کے زوال کا ذمہ دار ٹھہرا دیا جاتا ہے، حالانکہ یہ آدھا سچ ہے۔ اصل مسئلہ یہ نہیں کہ نوجوان ڈیجیٹل دنیا میں ہیں، مسئلہ یہ ہے کہ ہم اردو کو وہاں باوقار اور معیاری انداز میں پیش نہیں کر سکے۔ اگر انگریزی اور دیگر زبانیں سوشل میڈیا پر زندہ رہ سکتی ہیں تو اردو کیوں نہیں؟ دراصل ہم نے اس میدان کو یا تو نظر انداز کیا یا پھر غیر سنجیدہ لوگوں کے حوالے کر دیا، جس کا نقصان زبان کو ہوا۔
ایک اور تلخ حقیقت یہ ہے کہ ہم اردو کے ساتھ جذباتی تو بہت ہیں، مگر عملی نہیں۔ مشاعروں میں واہ واہ، تقاریب میں لمبی تقریریں، مگر بچوں کے مستقبل کے فیصلے کرتے وقت اردو کو سب سے پہلے قربان کر دیا جاتا ہے۔ ہم خود اردو کو روزگار، ترقی اور کامیابی کے راستے میں رکاوٹ سمجھنے لگے ہیں۔ یہی پیغام نئی نسل تک جاتا ہے، اور وہ اسے سنجیدگی سے لے لیتی ہے۔
یہ بھی نہیں بھولنا چاہیے کہ زبانیں وقت کے ساتھ بدلتی ہیں۔ اگر اردو خود کو نئے عہد کے تقاضوں سے ہم آہنگ نہیں کرے گی تو فاصلہ بڑھے گا۔ اردو کو صرف ماضی کی عظمت کا حوالہ بنا کر زندہ نہیں رکھا جا سکتا۔ اسے حال کے سوالوں اور مستقبل کے خوابوں سے جوڑنا ہوگا۔ ادب ہو یا صحافت، تعلیم ہو یا اظہار، اردو کو زندگی کے ہر شعبے میں فعال کردار ادا کرنا ہوگا۔
اب سوال یہ ہے کہ کیا سب کچھ ختم ہو چکا ہے؟ نہیں۔ ابھی بھی وقت ہے۔ اردو آج بھی کروڑوں دلوں میں زندہ ہے۔ ضرورت صرف اس بات کی ہے کہ ہم زبان سے اپنی محبت کو دعووں سے نکال کر عمل میں بدلیں۔ گھروں میں اردو بولی جائے، بچوں کو اردو میں کہانیاں سنائی جائیں، اسکولوں میں اردو کو تخلیقی انداز میں پڑھایا جائے، صحافت میں نئی نسل کو جگہ دی جائے، اور ڈیجیٹل دنیا میں اردو کو وقار کے ساتھ پیش کیا جائے۔
اردو کسی ایک طبقے یا مذہب کی زبان نہیں، یہ ہندوستان کی مشترکہ تہذیب کی علامت ہے۔ اگر نئی نسل اردو سے دور ہو رہی ہے تو یہ محض لسانی مسئلہ نہیں بلکہ تہذیبی بحران ہے۔ اس بحران کا حل الزام تراشی میں نہیں بلکہ اجتماعی شعور میں ہے۔ ہمیں خود سے سوال کرنا ہوگا،کیا ہم واقعی اردو کو آنے والی نسلوں تک منتقل کرنا چاہتے ہیں، یا صرف اس کے ماضی پر فخر کرکے مطمئن ہو جانا چاہتے ہیں؟
اردو آج بھی ہم سے امید لگائے بیٹھی ہے۔ سوال یہ ہے کہ ہم اس امید پر پورا اترتے ہیں یا نہیں۔
مضمون نگار آل انڈیا ماٸناریٹیز فورم فار ڈیمو کریسی کے شعبہ نشرواشاعت کے سکریٹری ہیں۔




