
گزشتہ چوبیس برسوں سے یہ پلیٹ فارم شاعری، مکالمے اور ثقافتی یکجہتی کے ذریعے بھارت کی روح کا جشن منا رہا ہے: سید صلاح الدین
لکھنؤ/ دبئی(پریس ریلیز) ایک بار پھر ادبی اور ثقافتی جشن کا زندہ مرکز بننے جا رہا ہے۔ ہفتہ، 31 جنوری 2026 کو دبئی کے موقر مقام مووِن پک گرینڈ ال بستاں میں 24واں بھارتی یومِ جمہوریہ کَوی سمیلن و مشاعرہ منعقد کیا جائے گا۔ بھارت کے 77ویں یومِ جمہوریہ کے موقع پر منعقد ہونے والا یہ باوقار ادبی پروگرام گزشتہ دو دہائیوں سے زائد عرصے میں بھارت سے باہر ہندی۔اردو شاعری کا سب سے معتبر اور ممتاز پلیٹ فارم بن چکا ہے۔
یہ ادبی اجتماع نہ صرف بھارت کی مضبوط جمہوری اقدار کی عکاسی کرتا ہے بلکہ شاعری کے ذریعے اس کی عظیم ادبی روایت کا جشن بھی مناتا ہے، جو نسلوں اور سرحدوں سے ماورا ہو کر گونجتی ہے۔
سید صلاح الدین کی جانب سے قائم اور تصور کیا گیا بھارتی یومِ جمہوریہ کَوی سمیلن و مشاعرہ آج متحدہ عرب امارات میں بھارتی تارکینِ وطن کے لیے ایک ثقافتی شناخت کی صورت اختیار کر چکا ہے۔
ہر برس دنیا کے مختلف حصوں سے شاعری کے شائقین، دانشور اور ثقافتی ذوق رکھنے والے افراد الفاظ، جذبات اور قومی فخر کے اس منفرد سنگم کا مشاہدہ کرنے کے لیے دبئی کا رخ کرتے ہیں، جس سے دبئی ایک عالمی ثقافتی مرکز کے طور پر مزید مستحکم ہوتا جا رہا ہے۔
2026 کے اس ادبی ایڈیشن کی صدارت سید فرجان رضوی کریں گے، جس سے اس باوقار ادبی شام کی شان میں مزید اضافہ ہوگا۔
کَوی سمیلن و مشاعرے کی نظامت معروف ادیب اور لکھنؤ یونیورسٹی کے شعبۂ اردو کے سربراہ پروفیسر ڈاکٹر نیر جلال پوری انجام دیں گے۔ ان کی علمی وقار اور ادبی بصیرت اس تقریب کو ہر برس ایک نئی جہت عطا کرتی رہی ہے۔
اس سال کے کَوی سمیلن و مشاعرے میں ملک و بیرونِ ملک کے ممتاز شعرا و شاعرات کی ایک نمایاں جماعت شریک ہوگی، جن میں منظر بھوپالی، اعظم شکری، ڈاکٹر رما سنگھ، پروفیسر ڈاکٹر نیر جلال پوری، نغمہ نور، اتل اجنبی، ہمانشی بابرا، سیف بابر، رادھیکا گپتا، آیوشی راکھیچا اور ڈاکٹر دلشاد گورکھپوری شامل ہیں۔
ان کی شرکت ہندی اور اردو کی ادبی روایتوں کو ایک ہی اسٹیج پر سلیقے سے پروتے ہوئے فکری گہرائی، شعری حسن اور لسانی ہم آہنگی سے بھرپور ایک یادگار شام کا وعدہ کرتی ہے۔
تقریب کا ایک خاص پہلو خصوصی یادگاری مجلہ (سمِرِتی پستک) کی رسمِ اجرا ہوگا، جو اس روایت کو آگے بڑھائے گا جس میں عصری شاعری کے ساتھ ساتھ بھارتی یومِ جمہوریہ کی معنویت پر فکری تحریروں کو محفوظ کیا جاتا ہے۔ یہ اشاعت قارئین اور ادبی ذخیرہ کرنے والوں کے لیے ایک قیمتی ورثہ ثابت ہوگی۔
آئندہ پروگرام پر روشنی ڈالتے ہوئے اس تقریب کے بانی اور چیف آرگنائزر سید صلاح الدین نے کہاچوبیس برسوں سے یہ پلیٹ فارم شاعری، مکالمے اور ثقافتی یکجہتی کے ذریعے بھارت کی روح کا جشن منا رہا ہے۔ دنیا کے مختلف حصوں سے لوگوں کا دبئی آ کر اس ادبی شام کا حصہ بننا میرے لیے نہایت عاجزی اور تحریک کا باعث ہے۔ میں متحدہ عرب امارات کی قیادت کا تہہ دل سے شکریہ ادا کرتا ہوں، جن کی شمولیتی سوچ اور ثقافتی کشادگی ایسے پروگراموں کو پنپنے کا موقع فراہم کرتی ہے۔ بھارتی یومِ جمہوریہ کَوی سمیلن و مشاعرہ 2026 اس بات کا بھرپور ثبوت ہے کہ ادب میں وہ قوت موجود ہے جو معاشروں کو جوڑتی ہے، سرحدوں سے بلند ہو جاتی ہے اور دبئی کے دل میں مشترکہ تہذیبی ورثے کا جشن مناتی ہے۔




