
اساتذہ اور طلبہ اپنے آپکو اللہ والا بنائیں : مولانا ظفر الدین ندوی
دار العلوم فتح پور بارہ بنکی سے تعلیمی و تربیتی رحلہ دار العلوم ندوۃ العلماء، اور لکھنؤ مرکز پہونچا، اساتذہ و ذمہ داران نے تعلیمی رحلہ کو طلبہ کیلئے علمی و روحانی ترقی کیلئے مفید قرار دیا
بارہ بنکی(ابوشحمہ انصاری)دینی و عصری علوم کا سنگم دارالعلوم فتح پور بارہ بنکی سے تعلیمی و تربیتی رحلہ دار العلوم ندوۃ العلماء لکھنؤ پہونچا، دار العلوم ندوۃ العلماء کے اساتذہ اور مختلف شعبوں کے ذمہ داران سے ملاقات ہوئی انھوں نے تعلیمی رحلہ کے روح رواں ناظم دار العلوم فتح پور مولانا عطاء الرحمن ندوی مبارکباد پیش کی اور اس رحلہ کو تعلیمی ترقی اور روحانی ترقی کیلئے مفید قرار دیا اور مفید مشوروں سے نوازا، اس قافلہ میں پچاس کے قریب طلبہ تھے، مولانا و ڈاکٹر محمد فرمان ندوی استاد، امام و خطیب دار العلوم ندوۃ العلماء نے اور مولانا ظفر الدین ندوی استاذ ندوۃ العلماء نے یہاں کی پرشکوہ مسجد میں طلبہ سے قرآنی آیات کی روشنی میں نہایت چشم کشا اور بصیرت افروز گفتگو کی اور ندوۃ العلماء کی تاریخ سے بھی واقف کرایا۔
مولانا محمد فرمان ندوی نے کہا کہ طلباء مدارس کو اللہ کے دین کی سربلندی کیلئے اپنے کو وقف کرنے جذبہ سے علم دین حاصل کرنا چاہیئے اور صحابہ کرام اور اکابرین امت اور وہ عظیم شخصیات جنہوں نے تعلیم اور تبلیغ دین کیلئے کوششیں کیں انکی سیرت اور تاریخ کو پڑھیں تاکہ ہمارے سامنے نمونہ ہو، نمونہ سیرت اور کریکٹر کو بنانے میں سب مؤثر چیز ہے، انھوں نے اساتذہ کی خدمت اور صحبت کی طرف توجہ مبذول کراتے ہوئے کہا کہ تاریخ یہ بتاتی ہے انسان جب اپنے مقصد پر توجہ دیتا ہے اور اپنے اساتذہ کی خدمت کرتا ہے اور انکے ساتھ لگا رہتا ہے تو اللہ تعالیٰ اسے دنیا کا امام بنادیتا ہے،
مولانا فرمان ندوی نے دار العلوم ندوۃ العلماء کی تاریخ کے حوالے سے کہا کہ دار العلوم ندوۃ العلماء عالمی اور بین الاقوامی شہرت یافتہ ایسا تاریخی ادارہ ہے جہاں دین کے داعی،سپاہی،دعوت کے افراد اور قرآن و حدیث کے ماہرین تیار کئے جاتے ہیں اورانکے اندر اسلام کے لئے مر مٹنے کا جذبہ پیدا کیا جاتا ہے اور ایسے افراد آج سے نہی بلکہ ۱۳۲/سال سے تیار کئے جاتے رہے ہیں ہزار ہا ہزار محدثین ہزار ہزار فقہ اسلامی کے ماہرین ہزار ہا ہزار قراء و حفاظ یہاں سے نکلے کر دنیا میں اقامت دین کی کوشش میں مصروف ہیں، آپ کا یہاں آنا مبارک ہو یہاں کی ایک ایک چیز کو قدر کی نگاہ سے دیکھئیے
دار العلوم ندوۃ العلماء کے استاد مولانا ظفر الدین ندوی نے طلباء کو قیمتی نصائح سے مستفید کیا اور اپنے طویل تجربات کی روشنی میں مفید مشوروں سے بھی نوازا، اپنے خطاب میں طلبہ اور اساتذہ سے کہا کہ اپنے آپکو اللہ والا بنائیں اس لئے کہ علمِ دین کا بنیادی مقصد خدا کی معرفت اور حصولِ رضا ہے۔اخلاصِ نیت، اساتذہ کا ادب، شب و روز کی محنت، اور دینی علم کے ساتھ عملی زندگی میں سنت نبویﷺ کی پیروی کرنے سے ہم اللہ تعالیٰ کے قریب ہوں گے اور ان صفات کی برکت سے ساری دنیا میں اللہ تعالیٰ اپنے فضل سے کام لے گا۔ مولانا ظفر الدین ندوی نے ناظم ادارہ مولانا عطاء الرحمن ندوی کو اس تعلیمی رحلہ پر مبارکباد دی اور کہا کہ یہ رحلہ تعلیمی ترقی، شخصیت سازی،اجتماعی زندگی اور روحانی ترقی کا ذریعہ بنے گا،
رحلہ میں شریک تمام کے دار العلوم ندوۃ العلماء کی تاریخی علامہ شبلی نعمانی کے نام سے لائبریری پہونچنے پر لائبریری کے انچارج مولانا فیضان نگرامی ندوی نے تمام طلبہ کا استقبال اور اکرام کیا، لائبریری کے حوالے سے اہم معلومات دیں انھوں نے کہا کہ ندوۃ العلماء کا یہ اہم عظیم کتب خانہ ہند وپاک میں خصوصی امتیاز رکھتا ہے،بیرونی ممالک کے ریسرچ اسکالر بھی اس کتب خانہ سے مستفید ہوتے ہیں، اس کے تین شعبے ہیں : شعبۂ مطبوعات، شعبۂ مخطوطات، اور شعبۂ انگریزی، اس کتب خانہ میں ڈھائی لاکھ کے قریب کتابیں موجود ہیں آپکو چاہئیے کہ اپنے اساتذہ کی نگرانی میں کتابوں کا مطالعہ کریں یہ مطالعہ حصول علم و کمال کا زینہ ہے اس قافلہ میں شریک طلبہ نے دیگر شعبوں سے بھی استفادہ کیا اور انتہائی خوشی کا اظہار کیا، رحلہ کا آخری پڑاؤ لکھنؤ مرکز میں ہوا جہاں نماز عصر اور مغرب ادا کی،یہاں کے ذمہ داران نے گرم جوشی سے استقبال کیا اور کہا کہ آپکا یہاں آنا قابل قدر ہے، تعلیم کے ساتھ ساتھ دعوت الی اللہ کے عملی میدان میں ابھی سے اپنے کو پیش کیجئیے تاکہ ساری دنیا میں اللہ اپنے دین کا پیغام پہونچانے کیلئے قبول کرے اس کے لئے اپنے مدرسہ کے اطراف میں روزانہ محنت کا نظام بنائیے،اس قافلہ میں ناظم دار العلوم مولانا عطاء الرحمن ندوی، مفتی محمد حذیفہ ثاقبی، قاری محمد اسامہ عرفانی، ماسٹر محمد عمر، ماسٹر محمد عامر،محمد نثار بطور خاص شریک تھے۔ خاص بات یہ ھیکہ سعودی عرب میں ایک طویل عرصہ تک دینی خدمات انجام دینے والی شخصیت معروف عالم دین مولانا ظفر الدین ندوی کے وطن واپسی پر دار العلوم ندوۃ العلماء میں تقرر ہوا اور اسکے بعد سے رحلات کی طرف توجہ ہوئی انہیں عربی کا بہت اچھا ذوق ہے اور بہترین صلاحیت کے مالک ہیں، اللہ تعالیٰ کی ذات سے امید ہے کہ تعلیمی رحلہ کا سلسلہ دراز ہوگا اور پورے ملک کے طلبہ اس سے فائدہ اٹھائیں گے۔




