
فخرالدین علی احمد گورنمنٹ پوسٹ گریجویٹ کالج کے سالانہ اسپورٹس ڈے میں سابق کارگزار وزیر اعلیٰ کی شرکت
لکھنؤ (پریس ریلیز/ابوشحمہ انصاری)محمود آباد کو تعلیمی اعتبار سے ایک نئی شناخت دلانے کے عزم کا اظہار کرتے ہوئے اتر پردیش کے سابق کارگزار وزیر اعلیٰ ڈاکٹر عمار رضوی نے کہا کہ وہ اس علاقے میں یونیورسٹی کے قیام کے لیے مسلسل کوشاں ہیں اور پرامید ہیں کہ ان کی یہ دیرینہ خواہش جلد پایۂ تکمیل تک پہنچے گی۔ یہ بات انہوں نے محمود آباد واقع فخرالدین علی احمد گورنمنٹ پوسٹ گریجویٹ کالج کے سالانہ اسپورٹس ڈے کے افتتاحی پروگرام سے بطور مہمانِ خصوصی خطاب کرتے ہوئے کہی۔
ڈاکٹر عمار رضوی نے کہا کہ جب ماضی میں انہیں یہاں کے عوام نے ذمہ داری سونپی تھی تو اس وقت محمود آباد اور اطراف کے علاقوں میں تعلیمی نظام خاطر خواہ بہتر نہیں تھا۔ اسی دور میں انہوں نے یہ عزم کیا کہ اس خطے کے بچوں کو معیاری تعلیم سے روشناس کرایا جائے گا۔ اس مقصد کے تحت انہوں نے متعدد تعلیمی اداروں کے قیام میں عملی کردار ادا کیا، جن میں دو ادارے آج اپنے پچاس برس مکمل کر چکے ہیں، جن میں جواہر لعل نہرو پولی ٹیکنک اور فخرالدین علی احمد گورنمنٹ پوسٹ گریجویٹ کالج شامل ہیں۔
انہوں نے اپنے وزارتی دور کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ اس زمانے میں اتر پردیش میں ایک ساتھ تین ڈگری کالجوں کی منظوری دی گئی تھی، جن میں سے دو کالج شاندار عمارتوں میں تبدیل ہو چکے ہیں۔ محمود آباد ڈگری کالج کی عمارت تکنیکی وجوہات کی بنا پر مکمل نہ ہو سکی، تاہم انہوں نے اس بات پر اطمینان ظاہر کیا کہ کالج میں تعلیمی نظم و ضبط اور تدریسی معیار قابلِ تعریف ہے۔
ڈاکٹر رضوی نے مرحوم راجا امیر محمد خان کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ کالج کی تعمیر کے سلسلے میں انہوں نے کبھی مخالفت نہیں کی بلکہ تعلیمی فروغ کے لیے ہمیشہ مثبت رویہ اپنایا۔ انہوں نے کہا کہ محمود آباد کی تعلیمی تاریخ میں مرحوم راجا صاحب کی خدمات کو فراموش نہیں کیا جا سکتا۔
پروگرام کا آغاز سرسوتی جی کی تصویر پر گل پوشی اور وندنا کے ساتھ ہوا۔ کالج کی پرنسپل ڈاکٹر سیما سنگھ نے مہمانِ خصوصی ڈاکٹر عمار رضوی کا گل دستہ پیش کر کے اور یادگاری نشان دے کر استقبال کیا۔ ڈاکٹر انیرودھ دواکر نے پرنسپل ڈاکٹر سیما سنگھ کو گل دستہ پیش کیا۔ ڈاکٹر یوگیندر کمار نے چیئرمین نگر پالیکا پریشد محمود آباد عامر عرفات کا جبکہ ڈاکٹر زیبا خان نے چندر بھوشن شکلا کا خیر مقدم کیا۔ تمام معزز مہمانوں کو بیج لگا کر اعزاز سے نوازا گیا۔ استقبالیہ گیت پرینکا نے پیش کیا اور پرنسپل ڈاکٹر سیما سنگھ نے خطبۂ استقبالیہ پیش کیا۔
کالج کی مختلف ٹیموں نے مارچ پاسٹ پیش کیا۔ ڈاکٹر عمار رضوی نے پرچم کشائی کر کے کھیلوں کا باقاعدہ افتتاح کیا، غبارے فضا میں چھوڑے گئے اور مقابلوں کے آغاز کا اعلان کیا گیا۔ چیئرمین عامر عرفات نے کھلاڑیوں کو حلف دلایا۔ کالج کے طلبہ امن، چاند بابو، انامیکا اور میناکشی نے مشعل لے کر میدان کا چکر لگایا۔
مقابلوں کے نتائج کے مطابق لڑکیوں کی 200 میٹر دوڑ میں روہنی پال نے پہلی، سنینا بھارگو نے دوسری اور انامیکا نے تیسری پوزیشن حاصل کی، جبکہ لڑکوں کی 200 میٹر دوڑ میں چاند بابو پہلے، گیانیندر دوسرے اور انیکیت سنگھ تیسرے نمبر پر رہے۔
اس موقع پر ڈاکٹر وین کمار شکلا، ڈاکٹر جیوتی شاہ، ڈاکٹر اوَدھیش کمار یادو، ڈاکٹر نیرج کمار، ڈاکٹر انل کمار سنگھ، ڈاکٹر راجیش سونکر، ڈاکٹر بی کے راٹھور، ڈاکٹر داؤد احمد، ڈاکٹر رویش کمار، ڈاکٹر پرارتھنا سنگھ، ڈاکٹر آر پی سنگھ، ڈاکٹر دیپ شکھا سمیت معززینِ شہر، صحافی حضرات، طلبہ و طالبات بڑی تعداد میں موجود تھے۔ نظامت کے فرائض ڈاکٹر منتظر قائمی نے انجام دیے۔یہ اطلاع آل انڈیا مائناریٹیز فورم فار ڈیموکریسی کے شعبۂ نشر و اشاعت کے سیکریٹری ابوشحمہ انصاری نے فراہم کی۔



