
لکھنؤ (پریس ریلیز/ابوشحمہ انصاری):اتر پردیش کے سابق کارگزار وزیر اعلیٰ اور آل انڈیا مائنارٹیز فورم فار ڈیموکریسی کے قومی صدر ڈاکٹر عمار رضوی نے مغربی بنگال میں ایک رکنِ اسمبلی کی جانب سے بابری مسجد کی تعمیر سے متعلق دیے گئے بیان پر ردِّعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ مسجد کی تعمیر عقیدے اور مذہبی آزادی سے وابستہ معاملہ ہے، جس پر کسی کو کوئی اعتراض نہیں ہونا چاہیے اور نہ ہی ہے۔
ڈاکٹر عمار رضوی نے واضح کیا کہ جو لوگ مسجد کی تعمیر کرنا چاہتے ہیں، انہیں اس کی پوری آزادی ہونی چاہیے، تاہم اس کے ساتھ ’’بابری‘‘ لفظ جوڑنا درست نہیں ہوگا۔ مسجد اللہ کا گھر ہے، اسے کسی فردِ خاص کے نام اس طرح منسوب کرنا کہ تنازع پیدا ہو، مناسب نہیں۔ بابر کے نام کو دوبارہ تنازع میں لانا کسی بھی لحاظ سے مناسب نہیں اور اس سے معاشرے میں غیر ضروری کشیدگی پیدا ہو سکتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ مسجد کا اصل مقصد اللہ کی عبادت ہے۔ عبادت گاہوں کو تنازعات اور سیاست سے دور رکھ کر انہیں باہمی اخوت، امن اور ہم آہنگی کا مرکز بنانا ہی انسانیت اور ملک کے مفاد میں ہے۔
ڈاکٹر رضوی نے مزید کہا کہ آج اس بات کی ضرورت ہے کہ ہم سب مل کر معاشرے میں پھیلے ہوئے من مٹاؤ اور غلط فہمیوں کو دور کریں، محبت اور بھائی چارے کا ماحول قائم کریں اور ملک و ریاست کی ترقی کے لیے اپنی تمام تر توانائیاں مثبت کاموں میں صرف کریں۔ یہی طرزِ عمل سماج اور قوم کے روشن مستقبل کی ضمانت ہے۔
یہ اطلاع آل انڈیا مائنارٹیز فورم فار ڈیموکریسی کے شعبۂ نشر و اشاعت کے سیکریٹری ابوشحمہ انصاری نے فراہم کی۔



