تحریر:محمد عثمان علیمیؔ اٹوا بازار سدھارتھ نگر
علم ایک ایسی روشنی ہے جو انسان کو جہالت کے اندھیروں سے نکال کر اجالے میں لاکھڑا کرتی ہے اور زندگی کے ہر شعبے کو بہتر بناتی ہے اور کامیابی کی ضمانت بھی فراہم کرتی ہے۔ علم دین کی اہمیت کے حوالے سے قرآنی فرمان اور حدیث مصطفی ﷺ ملاحظہ فرمائیں: اللہ رب العزت ارشاد فرماتا ہے کہ "علم والے اور بے علم برابر نہیں ہوسکتے”۔ اور فرمان مصطفی ﷺ ہے کہ "علم دین حاصل کرنا ہر مسلمان پرفرض ہے”۔ (سنن ابن ماجہ)
ملکی سطح پر اگر نظر ڈالی جائے تو اس حقیقت سے بالکل بھی انکار کی کوئی گنجائش نہیں ہے کہ تقریباً ہر گاؤں یا شہر میں آج مدارس اسلامیہ قائم ہیں۔ خاص کر تقریباً ہر چھوٹے سے چھوٹے گاؤں میں مکتب ہی ہی کی شکل میں سہی مگر مدرسہ ضرور قائم ہے اور ان مدارس و مکاتب کا قیام کافی سالوں سے ہے کوئی تیس سال سے قائم ہے کوئی پچاس سال سے تو کوئی ساٹھ سال کا بھی وقت پورا کرچکا ہے۔ مگر سوال یہ ہے کہ کیا یہ مدارس و مکاتب اپنے مقاصد میں کامیاب بھی ہیں یا نہیں؟
خصوصی طور پر اگر گاؤں، دیہات کے مکاتب کی بات کی جائے جو کہ اس لئے قائم کئے گئے تھے کہ یہاں ملت اسلامیہ کے نونہالوں کو دینی تعلیم بھی فراہم کی جائے گی اور ان کی تربیت کا خاصا خیال بھی رکھا جائے گا مگر افسوس! آج ان مکاتب کا برا حال ہے۔ جہاں اطفال سے لے کر کم از کم پنچم تک سو ڈیڑھ سو، دو سو بچے زیر تعلیم ہوتے ہیں اور اتنے سارے طلبہ کو پڑھانے کے لئے معمولی تنخواہ پر ایک عالم کی تقرری کر دی جاتی ہے اور ان نونہالوں کو اس ایک مدرس کے حوالے کردیا جاتا ہے۔ ساتھ ہی ظلم بالائے ظلم یہ کہ مسجد کی امامت بھی اسی کو سونپ دی جاتی ہے۔ جب کہ میرا اپنا خود کا تجربہ ہے کہ ایک چھوٹے سے چھوٹا اسکول یا مکتب چلانے کیلئے کم از کم سات سے آٹھ اساتذہ کی ضرورت ہوتی ہے۔اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ مکتب کا تن تنہا ایک مدرس اتنے سارے طلبہ کو کون سا سبجیکٹ پڑھائےگا، اردو، ہندی، انگلش، گڑت، وگیان، سائنس یا کچھ اور؟۔ تھوڑی دیر کیلئے اگر تسلیم بھی کر لیا جائے کہ ایک ماہر استاذ اتنی ساری کتابیں اور سبجیکٹس پڑھانے پر قدرت رکھ سکتا ہے تو سوال یہ ہے کہ پھر اتنے سارے بچوں کا ہوم ورق کون چیک کرےگا؟ ان کے املا کا اہتمام کون کرےگا؟ ان کی تربیت کا وقت کہاں سے نکالا جائےگا؟
نہایت افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ یہ مکاتب جو فقط اس لئے معرض وجود میں آئے تھے کہ یہاں سے ملت اسلامیہ کے نونہالوں کو زیادہ نہ سہی کم سے کم کلمہ، نماز کا طریقہ اور قرآن مجید کی درست تعلیم ہی مہیا کی جائے گی اب ان مکاتب کے تعلیمی و تربیتی حالات اس قدر بد سے بد تر ہوچکے ہیں کہ درجہ پنجم کے بعد بھی طالب علم کو درست کلمہ پڑھنا آتا ہے نہ وضو کا صحیح طریقہ پتہ ہوتا ہے۔ صحیح ڈھنگ سے قرآن مجید پڑھنا آتا ہے نہ نماز کا طریقہ معلوم ہوتا ہے۔اور اس جانب نہ والدین کی توجہ ہوتی ہے نہ مکاتب کے ذمہ داران کی کوئی خاصی رغبت دیکھنے کو ملتی ہے۔ اس لاپرواہی اور بے حسی کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ وہ بچہ جہالت کی بھینٹ چڑھ جاتا ہے۔ ساری زندگی قرآن پاک جب غلط طریقہ سے پڑھتاہے تو نماز بھی خراب ہوتی ہے اور آخرت بھی۔ اتنا عمدہ پلیٹ فارم کا مس یوز کیوں؟ یہ اپنے آپ میں ایک بڑا سوال ہے۔
آج بھی اگر ان مکاتب کی کامیابی کی طرف کوشش کی جاۓ اور نظام تعلیم و تربیت بہتر بنانے کی سمت میں سعی پیہم کی جائے اور بہترین اساتذہ کی تقرری کرکے پورے انہماک سے کام کیا جائے تو ان شاءاللہ وہ دن دور نہیں کہ جب معیار تعلیم تو اچھا ہوگا ہی ساتھ ہی ہر طالب علم قرآن پاک کا درست خواں بھی ہوگا، خود بھی پابند صوم و صلوۃ ہوگا اور سماج میں ایک کامیاب مبلغ بھی بن کر ابھرے گا۔
یاد رکھئے اسکول رہیں نہ رہیں، کالجز رہیں نہ رہیں مگر ان مدارس و مکاتب کی بقا نہایت ضروری ہے اس لئے کہ آپ کے یہ مدارس و مکاتب و مساجد اگر نہ رہے تو آپ کا دین وایمان خطرے میں پڑ جائے گا۔ اس لئے ذمہ داران مکاتب سے نہایت در مندانہ گزارش ہے مزید تاخیر ملت اسلامیہ کے نونہالوں کے لئے خطرے کی گھنٹی ثابت ہوگی لہذا وقت رہتے کارآمد لائحہ عمل پیدا کرنے اور اس جانب خصوصی توجہ کرنے کی سخت ضرورت ہے تاکہ ان مکاتب کی عظمت رفتہ بحال ہو سکے۔





