By using this site, you agree to the Privacy Policy and Terms of Us
Accept
NewsG24UrduNewsG24UrduNewsG24Urdu
  • سرورق
  • آج کل
  • سیاست
  • عالمی خبریں
  • سپورٹ کریں
  • Hindi
Search
  • اتصل
  • مقالات
  • شكوى
  • يعلن
© NewsG24 Urdu. All Rights Reserved.
Reading: مکہ مکرمہ کی انفرادیت و امتیازیت قدیم و جدید تاریخ کے آئینے میں
Share
Notification Show More
Font ResizerAa
NewsG24UrduNewsG24Urdu
Font ResizerAa
  • سرورق
  • آج کل
  • سیاست
  • عالمی خبریں
  • سپورٹ کریں
  • Hindi
Search
  • سرورق
  • آج کل
  • سیاست
  • عالمی خبریں
  • سپورٹ کریں
  • Hindi
Have an existing account? Sign In
Follow US
NewsG24Urdu > Blog > مضامین > مکہ مکرمہ کی انفرادیت و امتیازیت قدیم و جدید تاریخ کے آئینے میں
مضامین

مکہ مکرمہ کی انفرادیت و امتیازیت قدیم و جدید تاریخ کے آئینے میں

Last updated: جنوری 8, 2026 11:59 صبح
newsg24urdu 2 ہفتے ago
مکہ مکرمہ کی انفرادیت و امتیازیت قدیم و جدید تاریخ کے آئینے میں
مکہ مکرمہ کی انفرادیت و امتیازیت قدیم و جدید تاریخ کے آئینے میں
SHARE

قلمکار: سیدعرفان الحق ہاشمی 9839504157

مکہ مکرمہ کی تاریخ بہت قدیم اور گہری ہے جو انسانی تاریخ کے سب سے اہم واقعات کی گواہ ہے اس کی تاریخ کو مختلف ادوار میں تقسیم کیا جا سکتا ہے قدیم تاریخ کے مطالعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کے دور سے پہلے مکہ مکرمہ ایک خشک اور بنجر وادی میں واقع تھا جہاں نہ پانی تھا اور نہ کاشتکاری ممکن تھی اسی لئے قرآنِ کریم میں اسے وادیِ غیر ذی زرع و غیر آباد وادی کہا گیا ہے


جسے ابوالاثر حفیظ جالندھری نے مکہ مکرمہ کے متعلق حضرت ابراہیم علیہ السلام کی دعاء کا تذکرہ اپنے اشعار کی کتاب شاہنامہ اسلام جلد اول میں یوں بیان کیا ہے


بوقت صبح ابراہیم نے اٹھ کر دعا مانگی
سکونِ قلب مانگا خوئے تسلیم و رضا مانگی
کہ اے مالک عمل کو تابعِ ارشاد کرتا ہوں
میں بیوی اور بچے کو یہاں آباد کرتا ہوں
اسی سنسان وادی میں انہیں روزی کا ساماں دے
اسی بے برگ و سامانی کو شانِ صد بہاراں دے
یہیں پر نسلِ اسماعیل بڑھ کر قوم ہو جائے
یہ قوم اک روز پابندِ صلوۃ و صوم ہو جائے
اسی وادی میں تیرا ہادیِ موعود ہو پیدا
کرے جو فطرت انساں کو تیرے نام پر شیدا
بشارت تیری سچی ہے تیرا وعدہ بھی سچا ہے
بس اب تو ہی محافظ ہے یہ بیوی ہے یہ بچہ ہے

اس شہر کی بنیاد حضرت ابراہیم علیہ السلام نے رکھی جب وہ اپنی بیوی حضرت ہاجرہ اور بیٹے حضرت اسماعیل علیہ السلام کو اللہ کے حکم سے یہاں چھوڑ گئے حضرت ہاجرہ نے پانی کی تلاش میں صفا اور مروہ کے درمیان دوڑ لگائی جس کے نتیجے میں اللہ ربّ العالمین کی قدرت سے زم زم کا چشمہ پھوٹا اس چشمے کی وجہ سے یہاں لوگ آباد ہونا شروع ہوئے اور ایک بستی قائم ہوئی۔

- Advertisement -
Ad imageAd image

اس کے بعد حضرت ابراہیم اور حضرت اسماعیل علیہما السلام نے مل کر اللہ کے حکم سے کعبہ کی بنیاد رکھی جو روئے زمین پر عبادت کے لئے بنایا جانے والا پہلا گھر ہے یہ وہ گھر ہے جس کی طرف آج بھی پوری دنیا کے مسلمان نماز ادا کرتے ہیں اور اپنا قبلہ مانتے ہیں زمانہ جاہلیت میں دین اسلام کے دور سے پہلے حضرت اسماعیل علیہ السلام کی نسل سے تعلق رکھنے والے قبیلہ جرہم اور پھر قبیلہ خزاعہ نے مکہ مکرمہ پر حکمرانی کی بعد میں قبیلہ قریش نے شہر کا کنٹرول سنبھال لیا۔

اس دور میں عمرو بن لحی الخزاعی نے بت پرستی کو فروغ دیا اور کعبہ کے اندر بت رکھ دیئے گئے زمانہ جاہلیت میں بھی مکہ مکرمہ کو ایک مقدس اور محفوظ شہر سمجھا جاتا تھا اس کی معیشت کا انحصار تجارت پر تھا قریش کے تجارتی قافلے سردیوں میں یمن اور گرمیوں میں شام تک جاتے تھے واقعہ فیل (ہاتھیوں کا واقعہ) یہ مکہ کی تاریخ کا ایک اہم واقعہ ہے جب یمن کا عیسائی بادشاہ ابرہہ کعبہ کو گرانے کے لئے ایک بڑے لشکر اور ہاتھیوں کے ساتھ مکہ مکرمہ پر حملہ آور ہوا لیکن اللہ کے حکم سے ابابیل پرندوں نے کنکریوں کے ذریعے اس لشکر کو تباہ کر دیا یعنی یہ خطرناک واقعہ اس سال پیش آیا جس سال نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی پیدائش ہوئی مطلب یہ ہے کہ آخری نبی حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی پیدائش مکہ کے مبارک و مقدس شہر میں سن 570ء میں ہوئی اور اسی متبرک و مقدس شہر مکہ مکرمہ میں سارے عالم کے نبی حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ پر وحی کا نزول شروع ہوا


دینِ اسلام کے آغاز کے ابتدائی دور میں جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اسلام کی دعوت دی کہ اے لوگو تم سب اللہ کو ایک مان لو کامیاب ہوجاؤگے اور توحید کے کلمہ لا الہ الا اللہ محمد الرسول اللہ (ترجمہ اللہ کے علاوہ کوئی عبادت کے لائق نہیں اور حضرت محمد ﷺ اللہ کے رسول ہیں) کو علی الاعلان عام کیا تو اہل مکہ کی طرف سے سخت مخالفت کا سامنا کرنا پڑا اس مخالفت کی وجہ سے آپ ﷺ اور آپ ﷺ کے ساتھیوں نے 622ء میں مدینہ کی طرف ہجرت کی پھر اس کے بعد نبی اکرم ﷺ نے دس ہزار صحابہ کے لشکر کے ساتھ سن 630ء میں مکہ مکرمہ کو فتح کیا اور اسی فتح مکہ کے دن کعبۃ اللہ کو بتوں سے پاک کیا گیا اور الحمدللہ مکہ مکرمہ دوبارہ سے اسلام کا مرکز بن گیا


خلفائے راشدین اور بعد کے ادوار کے متعلق تاریخ کی کتابوں میں ذکر ہے کہ خلفائے راشدین اموی اور عباسی ادوار میں مسجد الحرام کی توسیع اور کعبہ کی تزئین و آرائش کا کام جاری رہا عثمانی دور میں بھی مکہ کی تعمیر و ترقی پر خاص توجہ دی گئی اور حرم شریف میں کئی توسیعیں کی گئیں


اس وقت سعودی دور ہے موجودہ دور میں سعودی حکومت نے مکہ مکرمہ کی جدید توسیع اور ترقی کے لیے بڑے بڑے منصوبے شروع کئے ہیں تاکہ دنیا بھر سے آنے والے لاکھوں عازمین حج و عمرہ کی ضروریات پوری کی جا سکیں ان میں مسجد الحرام کی وسیع پیمانے پر توسیع کلاک ٹاور اور دیگر جدید سہولیات کی تعمیر شامل ہے ان منصوبوں کی وجہ سے شہر کی شکل میں بڑی تبدیلی آئی ہے اور یہ دنیا کے ایک بڑے جدید شہر کی صورت اختیار کر گیا ہے جبکہ اس کی روحانی اور تاریخی اہمیت آج بھی الحمدللہ برقرار ہے

- Advertisement -


مکہ مکرمہ ایک ایسا شہر ہے جس کی تاریخ اور فضیلت وقت کے ساتھ ساتھ مزید بڑھتی رہی ہے سن 2024 اور 2025 میں ہونے والی تبدیلیاں بھی قابلِ ذکر ہیں مکہ مکرمہ کی تعمیر و ترقی کا سلسلہ مستقل جاری رہتا ہے تاکہ حج اور عمرہ کے لیے آنے والے لاکھوں زائرین کو بہتر سے بہتر سہولیات فراہم کی جا سکیں اگرچہ حالیہ برسوں میں کوئی بڑے تعمیراتی منصوبے کی خبر نہیں ہے لیکن کچھ اہم تبدیلیاں اور اقدامات جو اس عرصے میں جاری رہے ہیں وہ درج ذیل ہیں (۱) غلافِ کعبہ کی تبدیلی ہر سال یکم محرم الحرام کو غلافِ کعبہ کی تبدیلی کی رسم ادا کی جاتی ہے سن 1446 ہجری (جولائی 2024) میں بھی یہ رسم حسبِ روایت ادا کی گئی اور اس سال 2025 عیسوی میں بھی غلافِ کعبہ کو تبدیل کیا گیا (۲) سہولیات میں بہتری سعودی حکومت حرمین شریفین کے اطراف کی سڑکوں (Roads) ہوٹلوں (Hotels) اور دیگر بنیادی ڈھانچوں کی مرمت اور اپ گریڈیشن کا کام مستقل کرتی رہتی ہے

اس میں ہوائی اڈوں (Airport) شاہراہوں(Highways) اور آمد و رفت (Transport) کے نظام کو بہتر بنانا شامل ہے تاکہ زائرین کا سفر مزید آسان ہو سکے (۳) عصری تکنیکی (Modern Technology) سہولیات زائرین کی سہولت کے لیے موبائل ایپس ڈیجیٹل گائیڈز اور مصنوعی ذہانت پر مبنی خدمات کو متعارف کرایا گیا ہے ان میں اژدہام بھیڑ ہجوم کو منظم کرنے اور صحت (Health) کی دیکھ بھال کی سہولیات کو بہتر بنانے کے لیے جدید ٹیکنالوجی کا استعمال شامل ہے۔


مکہ مکرمہ کی فضیلت اور خوبیاں قرآن و حدیث میں متعدد مقامات پر بیان کی گئی ہیں یہ شہر اللہ کے نزدیک دنیا کے تمام شہروں میں سب سے زیادہ محبوب اور افضل ہے اور دنیا کے ہر ایمان والے جو دنیا کے بیشتر ترقی یافتہ ممالک کے دورہ کے ساتھ مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ کا دورہ کرچکے ہیں وہ بخوبی جانتے ہیں کہ الحمدللہ ثم الحمدللہ سارے عالم میں حرمین شریفین کے شہر ہر ناحیہ سے ممتاز و منفرد ہیں جس کے صاف صفائی انتظام و انصرام و جملہ خوبیوں کے اعتبار سے عالمی پیمانے پر قلمکار اپنے مضامین میں مقررین اپنے خطبہ جات میں مزید الیکٹرانک میڈیا و پرنٹ میڈیا و ذاتی ذرائع ابلاغ کے نمائندگان و فنکار اپنے تجربات کی روشنی میں بطور نمونہ و تمثیل پیش کرتے ہیں
مکہ مکرمہ کے تعلق سے اللہ سبحانہ و تعالیٰ فرماتا ہے

- Advertisement -


(۱) امن والا شہر قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے مکہ کی قسم کھائی ہے اور اسے البلد الامین یعنی امن والا شہر قرار دیا ہے یہ وہ شہر ہے جہاں کسی بھی جاندار کو خوف نہیں ہوتا حتیٰ کہ اس کی گھاس کا کاٹنا یا شکار کرنا بھی حرام ہے
(۲) دنیا کا پہلا گھر مکہ مکرمہ میں بیت اللہ (کعبہ) ہے جو روئے زمین پر انسانیت کی ہدایت اور عبادت کے لیے بنایا گیا سب سے پہلا گھر ہے اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے بے شک سب سے پہلا گھر جو لوگوں کے لیے بنایا گیا وہ وہی ہے جو مکہ مکرمہ میں ہے جو تمام جہانوں کے لیے برکت و ہدایت والا ہے (سورۃ آل عمران 96)
(۳) قبلہ یہ وہ مقدس مقام ہے جس کی طرف دنیا بھر کے مسلمان نماز ادا کرتے ہیں۔


(۴) ایک لاکھ نماز کا ثواب
احادیث میں مسجد الحرام میں نماز پڑھنے کی بے پناہ فضیلت بیان کی گئی ہے ایک حدیث کے مطابق مسجد حرام میں ایک نماز کا ثواب دوسری مساجد میں پڑھی جانے والی ایک لاکھ نمازوں کے برابر ہے (ابن ماجہ)
(۵) قیامت تک حرمت والا
آخری نبی حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ نے فتح مکہ کے موقع پر فرمایا تھا کہ یہ شہر اللہ نے اسی دن سے حرمت والا بنا دیا تھا جس دن آسمان اور زمین پیدا کیے لہٰذا یہ قیامت تک اللہ کے حکم سے حرمت والا ہے (ابن ماجہ)
(۶) دلوں کا مرکز


یہ شہر دلوں کو اپنی طرف کھینچتا ہے اور لوگ یہاں بار بار آتے ہیں مگر کبھی سیر نہیں ہوتے قرآن میں اسے مثابۃ للناس (لوگوں کے لوٹ کر آنے کی جگہ) کہا گیا ہے
الحمدللہ مکہ مکرمہ کی خصوصیات بے شمار ہیں اور وہ کئی وجوہات کی بنا پر دنیا کے دیگر شہروں سے منفرد اور ممتاز ہے یہاں کچھ اور نمایاں خصوصیات کا ذکر قابلِ تحریر ہے
(ا) تاریخ کا مرکز اور انسانیت کا قبلہ


مکہ صرف ایک شہر نہیں ہے بلکہ یہ بنی نوع انسان کی تاریخ کا ایک اہم مرکز ہے یہ وہ مقام ہے جہاں دنیا کے پہلے انسان حضرت آدم علیہ السلام نے اللہ کی عبادت کی اور یہیں سے باضابطہ و پائیدار دین اسلام کی بنیاد رکھی گئی یہ شہر اس لیے منفرد ہے کہ یہ صدیوں سے پوری دنیا کے اربوں مسلمانوں کا قبلہ اور روحانی مرکز ہے ہر مسلمان اپنے دل میں اس شہر کی طرف جھکاؤ اور محبت محسوس کرتا ہے اس وقت سارے عالم میں مسلمانوں کی تعداد 2723800000 دو ارب بہتر کروڑ اڑتیس لاکھ سے بھی زیادہ ہے
(ب) زمزم کا چشمہ


مکہ مکرمہ کی ایک ایسی منفرد خصوصیت زمزم کا پانی ہے جو کسی اور شہر میں نہیں ہے یہ پانی تقریباً 4000 سال سے جاری ہے جو حضرت ہاجرہ اور حضرت اسماعیل علیہ السلام کے لیے اللہ کی قدرت کا ایک تا ابد قائم رہنے والا کرشمہ تھا جو آج بھی موجود ہے یہ پانی کبھی خشک نہیں ہوتا اور اس میں مختلف بیماریوں سے شفا اور روحانی سکون حاصل ہوتا ہے سائنس و سائنس داں بھی اس پانی کی خصوصیات کو مکمل طور پر نہیں سمجھ سکے ہیں جو اسے واقعی سارے عالم میں منفرد بناتا ہے
(ج) امن و امان کا گھر


مکہ کی ایک اور نمایاں خصوصیت اس کا حرم (محفوظ علاقہ) ہونا ہے یہ وہ جگہ ہے جہاں ہر جاندار یہاں تک کہ پودوں اور پرندوں کو بھی پناہ ملتی ہے کسی بھی شخص یا جاندار کو یہاں مارا یا نقصان نہیں پہنچایا جا سکتا یہ وہ امن ہے جو مکہ مکرمہ کو اللہ نے خود عطاء فرمایا ہے اور اس شہر کے تقدس و پاکیزگی کی گواہی دیتا ہے
(د) حج اور عمرہ کا مرکز


دنیا میں کوئی اور شہر نہیں جہاں ہر سال لاکھوں افراد ایک ساتھ ایک ہی مقصد کے لئے جمع ہوں مکہ ہر سال حج کے دوران اور پورا سال عمرہ کے لئے آنے والے عازمین کی میزبانی کرتا ہے یہ ایک عالمی اجتماع ہوتا ہے جو دنیا بھر کے مسلمانوں کو رنگ و نسل اور زبان کے فرق سے بالاتر ہو کر ایک جگہ اکٹھا کرتا ہے
(ھ) جنت کے دروازے کی جگہ


اسلامی روایات کے مطابق مکہ مکرمہ جنت کی ایک جگہ سے بہت قریب ہے یہ وہ مبارک مقام ہے جہاں اللہ کی رحمت اور برکتیں ہر وقت نازل ہوتی رہتی ہیں اور جس کی اہمیت کو قرآن و حدیث میں بھی تسلیم کیا گیا ہے ان تمام خصوصیات کی وجہ سے مکہ مکرمہ نہ صرف ایک شہر ہے بلکہ یہ مسلمانوں کے لئے ایک روحانی علامت اور تاریخ و ایمان کا وہ مرکز ہے جو اسے دنیا کے تمام شہروں سے ممتاز اور منفرد بناتا ہے

0Like
0Dislike
50% LikesVS
50% Dislikes

You Might Also Like

دینی تعلیم: عزت، دولت اور سکون کی شاہراہ

اردو کا سچا خادم: سہیل ساحل

"ایک ابدی سوال کی بازگشت” مرزا غالب کا بدل کیوں پیدا نہیں ہوا؟

سیاست: عوامی شعور اور سماجی بیداری کا سفر

اردو کی بے بسی،اپنی ہی زمین پر اجنبی زبان

TAGGED:مکہ شریفمکہ مکرمہھرمین شرمین
Share This Article
Facebook Twitter Whatsapp Whatsapp LinkedIn Telegram Email Copy Link Print
Previous Article دینی تعلیم: عزت، دولت اور سکون کی شاہراہ دینی تعلیم: عزت، دولت اور سکون کی شاہراہ
Next Article بچیوں کی دینی و عصری تعلیم میں شاندار پیش رفت
Leave a review

Leave a review جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Please select a rating!

اردو سے نسلِ نو کی دوری، ذمہ دار کون؟
بی جے پی کے قومی صدر نتن نبین کے انتخاب پر ڈاکٹر عمار رضوی کی مبارکباد
لفظوں میں بولتی ہوئی شیزا جلال پوری
"ادبی کینوس‘‘ کے زیراہتمام شعری نشستیں، ادبی محفلیں اور مشاعرے منعقد ہوں گے*
اردو زبان میں روزگار کے مواقع

Advertise

ہمارا موبائل اپلیکیشن ڈاؤن لوڈ کریں

NewsG24بھارت میں پروپیگنڈہ خبروں کے خلاف ایک مہم ہے، جو انصاف اور سچائی پر یقین رکھتی ہے، آپ کی محبت اور پیار ہماری طاقت ہے!
© NewsG24 Urdu. All Rights Reserved.
  • About Us
  • TERMS AND CONDITIONS
  • Refund policy
  • سپورٹ کریں
  • Privacy Policy
  • پیام شعیب الاولیاء
  • Contact us
Welcome Back!

Sign in to your account

Lost your password?