جمعیت سعادت العلماء کے زیراہتمام تعلیمی مظاہرہ، بچوں اور معاونین کو اعزازات سے نوازا گیا*
بارہ بنکی (ابوشحمہ انصاری) گزشتہ شب قصبہ سعادت گنج میں جمعیت سعادت العلماء کے زیراہتمام اجلاس عام و تعلیمی مظاہرہ منعقد ہوا، جس میں مرکزمسجد میں چل رہے مکتب کے بچوں نے اپنا تعلیمی مظاہرہ پیش کیا۔ جلسے کا آغاز قاری مفتاح الزماں آسامی کی تلاوتِ قرآن سے ہوا اور نعت کا مزمارہ عمرعبداللہ قاسمی نے پیش کیا۔
اجلاس کی سرپرستی مفتی محمد عارف نے کی، آرگنائزر مولانا محمد اختر قاسمی تھے، جبکہ نظامت کے فرائض مولانا محمد فرمان مظاہری نے انجام دیے۔ جلسے کی صدارت الحاج سیٹھ محمد عرفان انصاری نے فرمائی۔ انہوں نے اپنے خطبۂ صدارت میں علم کی روشنی پر زور دیتے ہوئے کہا کہ ہمیں علم کے حصول کو اپنی زندگی کا بنیادی مقصد بنانا چاہیے تاکہ امتِ مسلمہ دوبارہ روشنی اور ہدایت کی راہ پر گامزن ہو۔
مقررِ خصوصی مولانا محمد کفیل اشرف لکھنوی نے اپنے خطاب میں کہا کہ اسلامی تاریخ کا سب سے روشن اور مقدس باب وہ ہے جب نبی آخرالزماں حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم اس دنیا میں تشریف لائے۔ آپ کی ذات بابرکت، سراپا رحمت، اور اعلیٰ اخلاق و کردار کی مثال نے تاریکی میں ڈوبی ہوئی انسانیت کو روشنی عطا کی۔
حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے علم کی اہمیت کو اس مقام تک بلند فرمایا کہ وحی کا پہلا پیغام ہی "اقرأ” یعنی پڑھو کے لفظ سے شروع ہوا، جو اس بات کی دلیل ہے کہ اسلام کی بنیاد علم پر رکھی گئی ہے۔ آپ کی تعلیمات نے واضح کیا کہ جہالت اندھیرا ہے اور علم روشنی، اور علم صرف کتابوں کا نام نہیں بلکہ معرفتِ الٰہی، اخلاقِ حسنہ، عدل، مساوات اور خدمتِ خلق کا شعور ہے۔
اس پروگرام میں 27 بچوں نے اپنا تعلیمی مظاہرہ پیش کیا۔ سات بچوں کے ناظرۂ قرآن مکمل ہونے کی وجہ سے انہیں اعزازیہ سے نوازا گیا۔ جلسے میں محمد طارق قدوائی، مولانا غفران قاسمی، مولانا عمر ممتاز ندوی، مولانا صالح قاسمی، مولانا محمد زید مظاہری، مولانا عقیل ندوی، مولانا فرقان قاسمی، مولانا مسیح الرحمٰن مظاہری، مفتی محمد راشد قاسمی، قاری محمد مدثر، قاری نجم الحسن، مولانا جنید قاسمی، مولانا شعیب مظاہری، نفیس انصاری، اصغر انصاری، ابوبکر ممتاز وغیرہ کی شرکت قابل ذکر رہی۔
آخر میں جلسے کے آرگنائزر مولانا محمد اختر قاسمی نے سبھی حاضرین اور معاونین کا شکریہ ادا کیا اور پروگرام کو کامیابی سے اختتام تک پہنچانے پر خوشی کا اظہار کیا۔





