By using this site, you agree to the Privacy Policy and Terms of Us
Accept
NewsG24UrduNewsG24UrduNewsG24Urdu
  • سرورق
  • آج کل
  • سیاست
  • عالمی خبریں
  • سپورٹ کریں
  • Hindi
Search
  • اتصل
  • مقالات
  • شكوى
  • يعلن
© NewsG24 Urdu. All Rights Reserved.
Reading: ہندوستان کا کمبھ میلہ اور مسلمان
Share
Notification Show More
Font ResizerAa
NewsG24UrduNewsG24Urdu
Font ResizerAa
  • سرورق
  • آج کل
  • سیاست
  • عالمی خبریں
  • سپورٹ کریں
  • Hindi
Search
  • سرورق
  • آج کل
  • سیاست
  • عالمی خبریں
  • سپورٹ کریں
  • Hindi
Have an existing account? Sign In
Follow US
NewsG24Urdu > Blog > مذہبیات > ہندوستان کا کمبھ میلہ اور مسلمان
مذہبیاتمضامین

ہندوستان کا کمبھ میلہ اور مسلمان

Last updated: جنوری 21, 2025 1:36 شام
mohdshafiquefaizi 1 سال ago
SHARE

از: ابھے کمار ریسرچ اسکالر

نفرت پر مبنی افواہوں کا بازار اس قدر گرم ہے کہ فرقہ پرست افراد بے بنیاد الزامات لگا کر نکل پڑتے ہیں، اور ان سے باز پرس کرنے والا کوئی نہیں ہوتا

ہندوستان کا کمبھ میلہ اور مسلمان: 12 سال کے طویل انتظار کے بعد پریاگ راج میں مہا کمبھ پر خوب ہلچل ہے۔ مقدس گنگا، جمنا، اور سرسوتی کے سنگم پر عقیدت مند غسل کرتے ہوئے اپنے مذہبی فرائض ادا کر رہے ہیں ۔ چھ ہفتوں تک جاری رہنے والے اس میلے میں کروڑوں عقیدت مند حاضر ہوئے۔ دعوی کیا جا رہا ہے کہ یہ دنیا کا سب سے بڑا مذہبی اجتماع ہے۔ اگر چہ کمبھ میلے کی مقبولیت نے جدید دور میں شدت اختیار کی ہے۔ انگریزوں کی آمد اور ریل کی سہولتوں کے فروغ کے ساتھ عقیدت مندوں کی تعداد میں نمایاں اضافہ ہوا۔ بعد ازاں ہند و احیا پرستوں نے کمبھ میلے کو ہند و شناخت کا ایک اہم حصہ قرار دے کر اس کی اہمیت کو مزید اجاگر کیا۔ اسی طرح حکمرانوں کے درمیان کبھ کے بہترانتظام کا کریڈٹ لینے کے لیے بھی مسابقت دیکھنے میں آئی۔ اس بار بھی بھارتیہ جنتا پارٹی کی یوپی حکومت کا محکمہ تعلقات عامہ وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ کونہ صرف کمبھ میلے کا کامیاب منتظم بلکہ ہندو سماج کے عظیم رہنما کےطور پر پیش کرنے کی بھر پور و کوشش کر رہا ہے۔ دوسری جانب ہندو انتہا پسند کمبھ جیسے مذہبی اجتماع کو فرقہ وارانہ رنگ دینے سے باز نہیں آ رہے ہیں۔

جہاں ملک اور دنیا کے میڈیا کی نظریں کمبھ میلے پر مرکوز ہیں، وہیں شدت پسند تنظیمیں مسلمانوں کے اس میلے میں داخلے کی اجازت روکنے اور ان کے معاشی بائیکاٹ کا مطالبہ کر رہی ہیں۔

حالانکہ انتظامیہ کی جانب سے مسلمانوں کو کمبھ میں داخلے سے روکنے کے لیے کوئی حکم جاری نہیں کیا گیا لیکن اقلیتوں میں یہ بے چینی محسوس کی جارہی ہے کہ یوگی حکومت نے شدت پسندوں کے خلاف کوئی واضح موقف اختیار نہیں کیا ہے. ایک مشہور ہندی نیوز چینل کو دئے گئے انٹرویو میں یوگی آدتیہ ناتھ نے کہا کہ کمبھ میلے کے دروازے سب کے لیے کھلے ہیں مگر ساتھ ہی فرقہ پرستوں کے بیانیے کے مطابق یہ بھی کہا کہ جو لوگ سناتن دھرم کا احترام نہیں کرتے وہ اس میلے میں نہ آئیں تو بہتر ہوگا جہاں ایک طرف ایسے فرقہ وارانہ مطالبات بھارت کی سیکولر شناخت کو نقصان پہنچا رہے ہیں وہیں بہت سارے مسلمانوں کو یہ احساس ہو رہا ہے کہ انہیں میلے میں اپنی دکانیں سجانے کے مواقع سے محض ان کے مذہبی تشخص کی وجہ سے محروم رکھا جا رہا ہے

- Advertisement -
Ad imageAd image

ہندوتوادی نظریہ کی حامل تنظیم اکھل بھارتیہ اکھاڑا پریشد نے مطالبہ کیا ہے کہ جو لوگ غیر سناتنی ہیں انہیں کمبھ میلے میں داخل ہونے کی اجازت نہیں ہونی چاہئے اور نہ ہی انہیں میلے کے اندر کوئی ہوٹل یا دکان چلانے کا موقع ملنا چاہئے یہ تنظیم یوگی آدتیہ ناتھ کی حکومت پر دباؤ ڈال رہی ہے کہ وہ مسلمانوں پر پابندی عائد کرے مسلم دشمنی کی شدت کا عالم یہ ہے کہ اس تنظیم سے وابستہ مذہبی لیڈروں نے ہندو روایات سے منسلک فارسی کے الفاظ کو بھی تبدیل کرنے کی تجویز دی ہے مثال کے طور پر شاہی اسنان میں استعمال ہونے والے شاہی لفظ کو بدلنے کی سفارش کی گئی ہے اور جہاں پیشوائی جیسے اصطلاحات استعمال کی جاتی رہی ہیں انہیں بھی تبدیل کرنے کی وکالت کی جارہی ہے ایک الزام یہ بھی عائد کیا جارہا ہے کہ مسلمانوں کی موجودگی یا ان کے ہوٹل چلانے سے کمبھ میلے میں نظم و ضبط کا مسئلہ پیدا ہو سکتا ہے انتہا پسندوں کے بے بنیاد دلائل کے مطابق گر مسلمانوں نے کمبھ میلے میں کھانے پینے کے ہوٹل کھول لئے تو اس سے عقیدت مندوں کے عقائد مجروح ہوسکتے ہیں کیونکہ ان کے مطابق مسلمان دانستہ طور پر کھانے پینے کی اشیاء کو آلودہ کرکے پیش کرتے ہیں نفرت پر مبنی افواہوں کا بازار اس قدر گرم ہے کہ فرقہ پرست افراد بے بنیاد الزامات لگا کر نکل پڑتے ہیں اور ان سے جواب طلب کرنے والا کوئی نہیں ہوتا حال ہی میں ایک ویڈیو وائرل ہوئی تھی جس کی بنیاد پر خبر چلائی گئی کہ کسی مسلم شخص نے کمبھ میلے کے بینر پر پیشاب کردیا تھا اس افواہ کا مقصد یہ تھا کہ ہندوؤں کے دلوں میں مسلمانوں کے خلاف نفرت پیدا کی جائے کہ مسلمان ان کے مقدس میلے کمبھ کی بے حرمتی کر رہا ہے تاہم رائے بریلی کی پولس نے گیارہ جون کو واضح کردیا کہ پیشاب کرنے والا شخص مسلمان نہیں بلکہ ایک ہندو تھا جو نشے کی حالت میں تھا اور اس نے کسی دیوار کے قریب پیشاب کیا تھا اس واقعہ کا کمبھ میلے کے بینر کی بے حرمتی سے کوئی براہ راست تعلق نہیں تھا اس نوعیت کی افواہیں اور متعلقہ ویڈیوز حالیہ دنوں میں خوب وائرل کی گئی ہیں جن میں مسلمان جیسی شکل یا نام والے شخص کو کھانے پینے کی اشیاء کو آلودہ کرتے ہوئے دکھایا گیا ہے جہاں تک ہوٹلوں میں صفائی کا تعلق ہے یہ ایک اہم مسئلہ ہے اور انتظامیہ کو چاہیے کہ وہ صفائی کے معاملے میں غفلت برتنے والے ہوٹل مالکان کے خلاف کارروائی کرے تاہم یہ بالکل بھی مناسب نہیں کہ صفائی جیسے اہم مسئلے کو فرقہ وارانہ رنگ دے کر مسلم مخالف نفرت پیدا کی جائے حقیقت یہ ہے کہ فرقہ پرست اچھی طرح جانتے ہیں کہ جب تک وہ مسلم مخالف بیانیہ نہیں پھیلائیں گے تب تک انہیں مسلم مخالف پالیسی بنانے میں مشکلات کا سامنا ہوگا اسی مقصد کے تحت یہ بات خوب پھیلائی جا رہی ہے کہ مسلمان ہوٹل والے جان بوجھ کر گندہ اور نا پاک کھانا پیش کرتے ہیں۔ اس پروپیگنڈے کا اصل مقصد مسلمانوں کے ہوٹلوں کو بند کرانا اور ان کی کاروباری سرگرمیاں ہندوتو وادی جماعت کے قریبی لوگوں کے حوالے کرنا ہے، تاکہ مسلمانوں کو معاشی طور پر مجبور اور مفلسی میں مبتلا کر دیا جائے۔ کئی اقتصادی ماہرین یہ بات فراموش کر دیتے ہیں کہ نسل پرستی فرقہ پرستی اور ذات پات کا گہرا تعلق تجارت کی کامیابی اور ناکامی سے ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہوٹلوں میں کام کرتے ہوئے اکثر دلت مزدور دکھائی دیتے ہیں، مگر دلتوں کے نام سے ہوٹل کم دکھائی دیتے ہیں۔ قانونی طور پر چھوت چھات کا خاتمہ سالوں پہلے ہو چکا ہے، لیکن دلتوں اور مسلمانوں کے خلاف تعصب اور امتیاز کی ذہنیت اب بھی برقرار ہے۔ جیسے ہی کسی فرقہ پرست کو یہ پتہ چلتاہے کہ کسی دکان یا ہوٹل کا مالک دلت یا مسلمان ہے، وہ اس کا بائیکاٹ کرتا ہے۔ بی جے پی حکومت نے مذہبی عقیدت کے احترام کے نام پر ہوٹل ملکان کو اپنے نام کی پلیٹ ظاہر کرنے پر مجبور کیا ہے، جس کا مقصد یہ ہے کہ دلت اور مسلمان مالکان کی پہچان واضح کی جائے تا کہ محکوم طبقات کے خلاف معاشی بائیکاٹ کا دروازہ کھل جائے۔

سرکاری نوکریوں میں مسلمانوں کی شرح تقریبا 5 فیصد ہے۔ اور بیشتر مسلمان مزدوری یا چھوٹے کام کر کے اپنا گزارہ کرتے ہیں۔ اگر فرقہ پرستوں کے مذکورہ نا پاک عزائم کمبھ کے میلے میں کامیاب ہو گئے تو مسلمانوں کی موجودگی کاروبار اور تجارت میں مزید کم ہو جائے گی، اور وہ سڑکوں پر آجائیں گے۔ فرقہ پرست طاقتیں یہی چاہتی ہیں کہ مسلمانوں کو ہر محاذ پر کمزور کیا جائے۔ لیکن اس وقت کی سب سے اہم ضرورت یہ ہے کہ ہم حکومت کو یہ یاد دلائیں کہ سیکولر نظام میں دھرم پر مبنی پالیسی نہیں بنائی جاسکتی، اسی طرح حکمراں جماعت کو یہ بات واضح کرنی ہوگی کہ عید دسہرہ اور کرسمس کے موقع پر لگنے والا میلہ کسی ایک مذہبی گروپ کا نہیں ہوتا ہے بلکہ انہیں پورا معاشر مل کر مناتا ہے۔

1Like
0Dislike
100% LikesVS
0% Dislikes

You Might Also Like

مکہ مکرمہ کی انفرادیت و امتیازیت قدیم و جدید تاریخ کے آئینے میں

دینی تعلیم: عزت، دولت اور سکون کی شاہراہ

اردو کا سچا خادم: سہیل ساحل

نبی کریم ﷺ کی زندگی انسانیت کے لیے نمونہ عمل ہے: مولانا شبلی

"ایک ابدی سوال کی بازگشت” مرزا غالب کا بدل کیوں پیدا نہیں ہوا؟

TAGGED:ابھے کمارکمبھ میلہکمبھ میلہ 2025ہندوستان کا کمبھ میلہ اور مسلمان
Share This Article
Facebook Twitter Whatsapp Whatsapp LinkedIn Telegram Email Copy Link Print
Previous Article جمعیۃ علماء کا اجلاس، صوبہ و ملک کیلئے مثال بنے گا: اسلام الحق قاسمی
Next Article ملک کی خاطر جتنا خون ہم نے دیا، اتنا پسینہ بھی کسی اور نے نہیں بہایا
1 Review
  • کامیاب تجارت کیسے کریں؟ کامیاب تجارت کے رہنما اصول - NewsG24Urdu says:

    […] ہیں تو شروع سے ہی چل پڑتی ہے ۔ لیکن اس سلسلے میں اکثرجھوٹ بولا جاتا ہے کہ وہ پرانے والا دکاندار واپس آرہا ہے۔ یا […]

    جواب دیں

Leave a review جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Please select a rating!

ادبی تنظیم”بزمِ عزیز” کی ماہانہ طرحی نشست منعقد
سبھاش چندر بوس اسٹیڈیم کا نام بدلنا وقار کے منافی: ڈاکٹر عمار رضوی
ہر مسلمان پر لازم ہے کہ وہ اپنی نسل کی صحیح دینی تعلیم و تربیت کا اہتمام کرے:مفتی ابو بکر صدیق منصورپوری
سماج کے حقیقی ہیروز کو اعزاز،صحافی اور سماج سیویوں کا اتحاد
امام بارگاہ خدیجتہ الکبری مسجد پر خد کش حملہ قابل مذمت:ڈاکٹرعماررضوی

Advertise

ہمارا موبائل اپلیکیشن ڈاؤن لوڈ کریں

NewsG24بھارت میں پروپیگنڈہ خبروں کے خلاف ایک مہم ہے، جو انصاف اور سچائی پر یقین رکھتی ہے، آپ کی محبت اور پیار ہماری طاقت ہے!
© NewsG24 Urdu. All Rights Reserved.
  • About Us
  • TERMS AND CONDITIONS
  • Refund policy
  • سپورٹ کریں
  • Privacy Policy
  • پیام شعیب الاولیاء
  • Contact us
Welcome Back!

Sign in to your account

Lost your password?