سدھارتھ نگر: بزم ارباب ادب اٹوا کی 107 ویں ماہانہ طرحی نشست محترم التجاحسین نور صدیقی صاحب کی صدارت میں سیدعزیزالرحمٰن عاجز کی نظامت میں جمال ٹریڈرس پر منعقد ہوئی جس میں شعرآ ء کرام نے اپنا طرحی کلام پیش کیا، نشست کا آغاز محترم محمدجمال اجمل نے نعت رسول ِ مقبول صلى الله عليه واله وسلم پڑھ کر کیا ،منتخب اشعار اردو دوست،ادب نواز، باذوق قارئین کی نذر ہیں ۔
سنبھل کے رکھیے قدم دشت شوق میں کہ یہاں
نہ کوئی راہ نکلتی ہے واپسی کے لیے
ڈاکٹرایاز اعظمی
کسی کورب سے ملایا کسی کو دور کیا
یہ مال وزر بڑا فتنہ ہے آدمی کےلیے
جمال قدوسی
درِ حکیم پہ پڑ کر گزار دوں گا حیات
عمل یہ نور کو کافی ہے زندگی کےلیے
التجاحسین نورصدیقی
ہماری زیست میں تنویر تیری ذات سے ہے
ترا غیاب ہی کافی ہے تیرگی کےلیے
عبدالاول سنگرام پوری
یہ کیا کہ گھر بھی مرا راکھ ہوگیا زخمی
چراغ میں نے جلایا تھا روشنی کےلیے
سراج عالم زخمی
گلے لگاتے تھے پردیسیوں کو جس میں کبھی
وطن وہ اب ہے بہت تنگ اجنبی کےلیے
سیدعزیزالرحمٰن عاجز
جلےگا ایسے ہی نفرت کی آگ میں یہ ملک
اگر قدم نہ اٹھاؤگے شانتی کے لیے
شفیق شہپر
قدم قدم پہ یہاں مصلحت ہے پیشِ نظر
کوئی جو ہاتھ بڑھاتا ہے دوستی کےلیے
شکیل ضاغط
لگے گا روگ کبھی عشق کا تو سمجھوگے
پتنگےخود کو جلاتے ہیں روشنی کےلیے
جمال اجمل دوپھڑیاوی
لگا ہے چاند پہ گرہن ستارے ہیں مغموم
اداس شمس بھی ہے آج چاندنی کےلیے
عبدالرب جوہر
وہیں پہ چاند ستارے قیام کرتے تھے
مکاں جلائے گیے ہیں جو روشنی کےلیے
ارشداقبال
کسی کے دکھ کا سہارا بنو توجانوگے
کہ کون کیا نہیں کرتا ہے اک خوشی کےلیے
عبدالمبین مبیں سدھارتھ نگری
مآل عشق سے آگاہ ہوں پہ اے واعظ
کوئی تو بزم ہودل کی شگفتگی کےلیے
عبدالماجد ماجد
نہ روک پائیں گے رستے کے موڑکے کانٹے
عظیم عزم جو میرا ہے زندگی کےلیے
صفی الرحمان صفی
ہرایک غم میں بھلا دوں تری خوشی کےلیے
میں ہار جاؤں گا خود کو بھی عاشقی کےلیے
سلمان حنیف
ہرایک سمت سے گھر جاؤ گے اندھیروں میں
ہر ایک در پہ جو جاؤ گے روشنی کےلیے
نثاراحمدنثار مدنی
خبر ذرا انھیں دے دے کوئی ابھی جاکر
چراغِ دل ہے جلا بس کسی کسی کےلیے
جنیدفرہاد لٹیاوی

ان کے علاوہ ہدایت اللہ خان شمسی اور ڈاکٹرقمراقبال نے بھی اپنا کلام پیش کیا اس موقع پر مہمان خصوصی کے طور پر شفیق فیضی بھی شریک ہوئےاور انہوں نے اپنے تاثرات میں بزم ارباب ادب کی ادبی خدمات کا اعتراف کرتے ہوئے کہا کہ بزم ارباب ادب اپنے آپ میں منفرد بزم ہے جس سے وابستہ شعرآ ء اپنی شاعری کے ذریعہ اصلاح معاشرہ کا بھی کام کرتے ہیں نیز انہوں نے شعرآء کو اپنی ذمہ داریاں یاد دلاتے ہوئے کہا کہ پہلے شعرآ ء اپنے اشعار اور نظموں سے انقلاب لاتے تھے جس سے سیاسی گلیاروں میں ہلچل مچ جایاکرتی تھی اور ظالم حکمرانوں پر زبردست وار کرتے تھے آج یہ چیز معدوم نظر آتی ہے اس پر غور وفکر کی ضرورت ہے ۔





