مقام و انعقاد: جامع مسجد کمہریا، ڈومراگنج، سدھارتھ نگر، یوپی
زیرِ اہتمام: فلاحِ انسانیت ایجوکیشنل ٹرسٹ، اٹوا بازار، سدھارتھ نگر، یوپی
بتاریخ: 3 جنوری 2026
دن: سنیچر
اٹوا سدھارتھ نگر ( صفی الرحمان) بعد نمازِ مغرب جامع مسجد کمہریا، ڈومراگنج، سدھارتھ نگر، یوپی میں ایک نہایت اہم اور اصلاحی دینی نشست منعقد ہوئی، جس میں فضیلتہ الشیخ عبدالحسیب سنابلی صاحب نے “موسمِ سرما اور اسلامی تعلیمات” کے عنوان پر جامع، مدلل اور اثر انگیز بیان فرمایا۔
اپنے خطاب میں فضیلتہ الشیخ عبدالحسیب سنابلی صاحب نے واضح کیا کہ موسموں کی تبدیلی انسان کو غور و فکر اور عملی اصلاح کی دعوت دیتی ہے۔ قرآنِ کریم میں اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے:
اِنَّ فِي اخْتِلَافِ اللَّيْلِ وَالنَّهَارِ لَاٰيٰتٍ لِاُولِي الْاَلْبَابِ
(بے شک رات اور دن کے بدلنے میں عقل والوں کے لیے نشانیاں ہیں)
(سورۃ آلِ عمران: 190)
سردی کا موسم بظاہر مشقت محسوس ہوتا ہے، لیکن حقیقت میں یہ مومن کے لیے عبادت، صبر اور تقویٰ کا بہترین موقع ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اسلام ہر حالت میں بندے کو اللہ تعالیٰ کی طرف متوجہ کرتا ہے۔
موسمِ سرما کی روحانی اہمیت پر روشنی ڈالتے ہوئے فضیلتہ الشیخ عبدالحسیب سنابلی صاحب نے فرمایا کہ سردیوں میں دن چھوٹے ہونے کی وجہ سے روزہ رکھنا آسان اور راتیں لمبی ہونے کے باعث قیام اللیل، تہجد اور نوافل کا وافر موقع میسر آتا ہے۔ اسی سلسلے میں رسول اللہ ﷺ کا یہ ارشاد پیش کیا:
الصَّوْمُ فِي الشِّتَاءِ الْغَنِيمَةُ الْبَارِدَةُ
(سردی میں روزہ رکھنا ٹھنڈی غنیمت ہے)
(مسند احمد)
یہی وجہ ہے کہ صالحین سردیوں کے موسم کو عبادت کا خزانہ سمجھتے تھے اور اس سے بھرپور فائدہ اٹھاتے تھے۔
طہارت اور عبادت کے تعلق سے گفتگو کرتے ہوئے فضیلتہ الشیخ عبدالحسیب سنابلی صاحب نے افسوس کا اظہار کیا کہ سرد موسم میں بعض لوگ وضو اور غسل میں کوتاہی برتنے لگتے ہیں، حالانکہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
اِنَّ اللّٰهَ يُحِبُّ التَّوَّابِينَ وَيُحِبُّ الْمُتَطَهِّرِينَ
(بے شک اللہ توبہ کرنے والوں اور پاکیزگی اختیار کرنے والوں سے محبت کرتا ہے)
(سورۃ البقرہ: 222)
ساتھ ہی آپ نے اس حقیقت کی طرف بھی توجہ دلائی کہ اسلام دینِ آسانی ہے۔ مسح علی الخفین، بیماری یا شدید سردی میں دی گئی شرعی رخصتیں شریعت کی رحمت اور جامعیت کی واضح دلیل ہیں، جیسا کہ نبی کریم ﷺ نے ہمیشہ امت کے لیے آسانی کو پسند فرمایا۔
سماجی پہلو پر گفتگو کرتے ہوئے فضیلتہ الشیخ عبدالحسیب سنابلی صاحب نے زور دیا کہ موسمِ سرما ہمیں خدمتِ خلق کا عملی پیغام دیتا ہے۔ قرآنِ کریم میں ارشاد ہے:
وَيُطْعِمُونَ الطَّعَامَ عَلٰى حُبِّهِ مِسْكِينًا وَيَتِيمًا وَاَسِيرًا
(اور وہ اللہ کی محبت میں مسکین، یتیم اور قیدی کو کھانا کھلاتے ہیں)
(سورۃ الدہر: 8)
غریبوں، مسکینوں، یتیموں اور بے سہارا افراد کو سردی سے بچانا اجتماعی ذمہ داری ہے۔ گرم کپڑوں، رضائیوں اور کمبلوں کی تقسیم نہ صرف انسانی ہمدردی ہے بلکہ رسول اللہ ﷺ کی سنت اور اسلامی تعلیمات کا عملی مظہر بھی ہے۔
اس موقع پر فضیلتہ الشیخ عبدالحسیب سنابلی صاحب نے فلاحِ انسانیت ایجوکیشنل ٹرسٹ اور جامع مسجد کمہریا کی خدمات کو سراہتے ہوئے کہا کہ ایسے ادارے معاشرے میں دینی شعور، اخلاقی بیداری اور باہمی ہمدردی کو فروغ دیتے ہیں۔ جامع مسجد کمہریا میں نمازیوں کی بڑی تعداد موجود تھی اور سامعین نے مکمل انہماک اور سنجیدگی کے ساتھ بیان کو سماعت فرمایا۔
آخر میں فضیلتہ الشیخ عبدالحسیب سنابلی صاحب نے دعا فرمائی کہ اللہ تعالیٰ ہمیں موسمِ سرما کو غفلت کے بجائے عبادت، صبر، تقویٰ اور خدمتِ خلق کا ذریعہ بنانے کی توفیق عطا فرمائے اور ہمارے معاشرے کو خیر، اصلاح اور بھلائی کا گہوارہ بنائے۔ آمین۔





