(سدھارتھ نگر اٹوا) ضلع سدھارتھ نگر کے اٹوا نگر پنچایت بلوا میں قائم فیضان مصطفیٰ تعلیم وتربیت دینی و عصری تعلیم کا ایک بہترین اور مثالی مرکز بنتا جا رہا ہے۔ یہاں آئے دن چھوٹے چھوٹے بچے اور بچیاں نہایت کم عمری میں دینی اور عصری علوم حاصل کر کے نمایاں کامیابیاں حاصل کر رہے ہیں۔
اسی سلسلے میں آج ایک نہایت کم عمر بچی نے قرآن مجید کی تعلیم کا باقاعدہ آغاز کیا، جو بلاشبہ قابلِ ستائش اور خوش آئند قدم ہے۔ یہ منظر اس بات کی روشن دلیل ہے کہ اگر صحیح رہنمائی اور بہتر تعلیمی ماحول میسر ہو تو کم سن بچے بھی بڑی کامیابیوں کی طرف گامزن ہو سکتے ہیں۔
اس عظیم تعلیمی ادارے کے بانی مولانا عبدالرحمن خان نوری ہیں، جو تعلیم و تربیت کو ہر گھر تک پہنچانے کے مشن پر سرگرمِ عمل ہیں۔ وہ ایک ممتاز سماج سیوی بھی ہیں اور معاشرے میں پھیلی ہوئی برائیوں کے خاتمے کے لیے پوری قوت کے ساتھ کوشاں رہتے ہیں۔
مولانا عبدالرحمن خان نوری کا کہنا ہے کہ ہر انسان کے اندر تین صفات کا ہونا ضروری ہے:
1️⃣ مذہبی شعور
2️⃣ سماجی ذمہ داری
3️⃣ سیاسی آگہی
لیکن ان کے مطابق ان تینوں صفات کی بنیاد علم ہے۔ انہوں نے والدین اور سرپرستوں سے اپیل کرتے ہوئے کہا کہ اپنے بچوں کو ضرور تعلیم دیں، اور اگر کسی وجہ سے آپ کا بچہ تعلیم حاصل نہیں کر پا رہا تو اپنے پڑوس کے بچوں کی تعلیم میں تعاون کریں۔ اگر پڑوس میں بھی کوئی ایسا بچہ نہ ہو تو اپنے گاؤں یا قصبے میں تلاش کریں، کیونکہ تعلیم یافتہ بچہ نہ صرف اپنے خاندان بلکہ پورے گاؤں، قصبے، ضلع اور صوبے کا نام روشن کرتا ہے، جس سے سماج میں عزت و وقار میں اضافہ ہوتا ہے۔
قابلِ ذکر بات یہ ہے کہ فیضان مصطفیٰ تعلیم وتربیت میں دینی تعلیم کے ساتھ ساتھ عصری تعلیم کا بھی نہایت شاندار انتظام موجود ہے۔ ادارے میں جہاں عالمہ، فاضلہ اور معلمہ جیسی باصلاحیت دینی اساتذہ موجود ہیں، وہیں بی ایس سی اور ایم ایس سی جیسی اعلیٰ تعلیم یافتہ معلمات بھی خدمات انجام دے رہی ہیں، جو طلبہ و طالبات کو عصری علوم سے آراستہ و پیراستہ کر رہی ہیں۔
یہ ادارہ واقعی دینی و عصری تعلیم کے حسین امتزاج کی ایک روشن مثال بن کر ابھر رہا ہے۔





