By using this site, you agree to the Privacy Policy and Terms of Us
Accept
NewsG24UrduNewsG24UrduNewsG24Urdu
  • سرورق
  • آج کل
  • سیاست
  • عالمی خبریں
  • سپورٹ کریں
  • Hindi
Search
  • اتصل
  • مقالات
  • شكوى
  • يعلن
© NewsG24 Urdu. All Rights Reserved.
Reading: بہرائچ فساد کیس: سزا کے بعد کیا سب ختم ہو گیا؟
Share
Notification Show More
Font ResizerAa
NewsG24UrduNewsG24Urdu
Font ResizerAa
  • سرورق
  • آج کل
  • سیاست
  • عالمی خبریں
  • سپورٹ کریں
  • Hindi
Search
  • سرورق
  • آج کل
  • سیاست
  • عالمی خبریں
  • سپورٹ کریں
  • Hindi
Have an existing account? Sign In
Follow US
NewsG24Urdu > Blog > Blog > بہرائچ فساد کیس: سزا کے بعد کیا سب ختم ہو گیا؟
Blog

بہرائچ فساد کیس: سزا کے بعد کیا سب ختم ہو گیا؟

Last updated: دسمبر 28, 2025 3:24 شام
newsg24urdu 4 ہفتے ago
بہرائچ فساد کیس: سزا کے بعد کیا سب ختم ہو گیا؟
بہرائچ فساد کیس: سزا کے بعد کیا سب ختم ہو گیا؟
SHARE

ہائی کورٹ، حکومت کی رِٹ اور انصاف کا اصل امتحان

شفیق فیضی

بہرائچ کے فساد نے صرف ایک خاندان کو نہیں توڑا، بلکہ پورے نظامِ انصاف کو ایک کڑے امتحان میں ڈال دیا۔
سیشن کورٹ کا فیصلہ آ چکا ہے، سزائیں سنائی جا چکی ہیں، مگر سوال اب بھی زندہ ہے:

مشمولات
ہائی کورٹ، حکومت کی رِٹ اور انصاف کا اصل امتحانبہرائچ فساد—ایک واقعہ، کئی پرتیںضمانتیں، فیصلے اور قانونی ابہامحکومت کی رِٹ، اپیل نہیں، تعمیل کے لیے ہےحکومت نے ہائی کورٹ سے کیا مطالبہ کیا؟1️⃣ سیشن کورٹ کے فیصلے پر فوری اور مکمل عمل2️⃣ پرانی ضمانتوں کو غیر مؤثر قرار دینا3️⃣ سزا کی خودکار معطلی نہ ہو4️⃣ پولیس، انتظامیہ اور جیل حکام کو واضح ہدایات5️⃣ قانون و امن کے پہلو کو مرکزی اہمیتہائی کورٹ میں کامیابی کے امکانات: ایک حقیقت پسندانہ جائزہ (تفصیلی تجزیہ)مجموعی امکان: تقریباً 45–60 فیصدی🔍 کن بنیادوں پر ہائی کورٹ مداخلت کر سکتی ہے؟1️⃣ تمام گواہوں کا ایک ہی فریق سے ہونا2️⃣ گواہیوں میں سنجیدہ تضادات3️⃣ اجتماعی سزا بغیر مخصوص کردار کے4️⃣ FIR اور تفتیش میں اصلاحات⚠️ وہ عوامل جو مکمل بری ہونے کے راستے میں رکاوٹ ہیںفیصلہ، تعمیل اور انصاف کا مستقبل

کیا فیصلہ آنا ہی انصاف ہے، یا اس فیصلے پر ٹھوس اور غیر مبہم عمل درآمد ہی اصل انصاف کہلاتا ہے؟

اسی سوال کے بیچ اترپردیش حکومت ہائی کورٹ پہنچی ہے—اور وہیں سے اس معاملے نے ایک نیا، اور انتہائی سنجیدہ رخ اختیار کر لیا ہے۔


بہرائچ فساد—ایک واقعہ، کئی پرتیں

اکتوبر 2024، مہاراج گنج، بہرائچ۔
درگا مورتی وسرجن کے دوران تنازع، پھر تشدد، فائرنگ، تلواروں کے وار اور آخر میں رام گوپال مشرا کی ہلاکت۔

پولیس تفتیش، چارج شیٹس، درجنوں گواہان اور مہینوں کی سماعت کے بعد:

- Advertisement -
Ad imageAd image
  • سیشن ٹرائل نمبر 189/2025
  • کل 13 ملزمان
  • قتل، فساد، آتش زنی، اسلحہ اور سازش جیسے الزامات

دسمبر 2025 میں سیشن کورٹ نے فیصلہ سنایا:

  • کئی ملزمان کو سخت سزائیں
  • اجتماعی ذمہ داری (collective liability) کی بنیاد پر سزا

لیکن قانونی کہانی یہیں ختم نہیں ہوئی، یہاں سے اصل جنگ شروع ہوئی۔


ضمانتیں، فیصلے اور قانونی ابہام

فیصلے سے پہلے:

  • بیشتر ملزمان ہائی کورٹ سے ضمانت پر تھے
  • تمام Bail Applications “Disposed” ہو چکی تھیں

فیصلے کے فوراً بعد ایک نازک سوال پیدا ہوا:

کیا سزا کے بعد پرانی ضمانتیں خود بخود ختم ہو جاتی ہیں؟
یا ملزمان اب بھی ان کا سہارا لے سکتے ہیں؟

یہی وہ مقام تھا جہاں:

- Advertisement -
  • انتظامیہ میں ابہام پیدا ہوا
  • اور اسی خلا کو ختم کرنے کے لیے اترپردیش حکومت ہائی کورٹ پہنچی

حکومت کی رِٹ، اپیل نہیں، تعمیل کے لیے ہے

یہ سمجھنا ضروری ہے کہ حکومت کی جانب سے دائر کی گئی یہ کارروائی:

  • Criminal Appeal نہیں
  • بلکہ تعمیل (Compliance / Enforcement) کے لیے ہے

سادہ الفاظ میں:

حکومت یہ یقینی بنانا چاہتی ہے کہ
سیشن کورٹ کا فیصلہ صرف فائلوں میں بند نہ رہے۔


حکومت نے ہائی کورٹ سے کیا مطالبہ کیا؟

حکومت کی رِٹ کا لبِ لباب چند واضح نکات میں سمیٹا جا سکتا ہے:

- Advertisement -

1️⃣ سیشن کورٹ کے فیصلے پر فوری اور مکمل عمل

  • سزا یافتہ ملزمان جیل میں رہیں
  • کسی سطح پر نرمی یا ابہام نہ ہو

2️⃣ پرانی ضمانتوں کو غیر مؤثر قرار دینا

  • سزا کے بعد تمام سابقہ بیل آرڈرز خود بخود ختم سمجھے جائیں
  • کوئی ملزم پرانی ضمانت کا فائدہ نہ اٹھا سکے

3️⃣ سزا کی خودکار معطلی نہ ہو

  • جب تک ہائی کورٹ باقاعدہ اپیل میں سزا معطل نہ کرے
  • تب تک سزا نافذ رہے

4️⃣ پولیس، انتظامیہ اور جیل حکام کو واضح ہدایات

  • تاکہ کسی افسر پر بعد میں لاپرواہی یا توہینِ عدالت کا الزام نہ آئے

5️⃣ قانون و امن کے پہلو کو مرکزی اہمیت

  • چونکہ یہ فرقہ وارانہ تشدد کا معاملہ ہے
  • اس لیے عدالت انتظامیہ کو مستعد رہنے کی ہدایت دے

ہائی کورٹ میں کامیابی کے امکانات: ایک حقیقت پسندانہ جائزہ (تفصیلی تجزیہ)

یہ حصہ سب سے زیادہ اہم ہے اور سب سے زیادہ غلط فہمیوں کا شکار بھی۔

مجموعی امکان: تقریباً 45–60 فیصدی

یہ نہ تو ایسا کیس ہے جس میں:

  • تمام ملزمان فوراً بری ہو جائیں
    اور نہ ہی ایسا کہ:
  • اپیل سرے سے ناقابلِ سماعت ہو

🔍 کن بنیادوں پر ہائی کورٹ مداخلت کر سکتی ہے؟

1️⃣ تمام گواہوں کا ایک ہی فریق سے ہونا

  • کوئی آزاد (Independent) گواہ نہیں
  • بازار، جلوس اور ہجوم کے باوجود غیر جانبدار گواہی کا فقدان

ہائی کورٹ عموماً ایسے معاملات میں:

“Strict Scrutiny” کا اصول لاگو کرتا ہے

یہاں یہ نکتہ اپیل میں خاصا مضبوط بن سکتا ہے۔


2️⃣ گواہیوں میں سنجیدہ تضادات

  • قتل کہاں ہوا؟ گھر کے اندر، چھت پر یا باہر؟
  • حملہ کس نے کیا اور کیسے؟
  • فائرنگ اور تلوار کے کردار میں فرق

ٹرائل کورٹ نے:

  • تضادات کو واضح طور پر classify نہیں کیا

یہ صورتحال:

Mis-appreciation of evidence
کے زمرے میں آ سکتی ہے۔


3️⃣ اجتماعی سزا بغیر مخصوص کردار کے

  • 10–13 ملزمان
  • تقریباً یکساں سزا
  • مگر ہر ایک کا مخصوص کردار واضح نہیں

ہائی کورٹ ایسے معاملات میں اکثر:

  • peripheral ملزمان کو فائدہ دیتی ہے
  • یا سزاؤں میں فرق کرتی ہے

4️⃣ FIR اور تفتیش میں اصلاحات

  • FIR میں بعد کی گئی تصحیحات
  • ناموں اور تفصیلات کی درستگی

اگرچہ ٹرائل کورٹ نے انہیں ٹائپنگ کی غلطی مانا،
لیکن ہائی کورٹ:

“Afterthought” کے زاویے سے دیکھ سکتی ہے۔


⚠️ وہ عوامل جو مکمل بری ہونے کے راستے میں رکاوٹ ہیں

  • پوسٹ مارٹم رپورٹ مضبوط ہے
  • فائر آرم انجریز واضح ہیں
  • واقعات کی بنیادی کہانی میں تسلسل موجود ہے

اسی لیے:

مکمل بری ہونے کے امکانات کم ہیں تقریباً 10–15 فیصدی
مگر جزوی راحت کے امکانات خاصے بہتر ہیں۔


فیصلہ، تعمیل اور انصاف کا مستقبل

بہرائچ فساد کیس اب ایک نظیر بنتا جا رہا ہے—اس بات کی کہ:

  • فیصلہ آنا کافی نہیں
  • اس فیصلے پر غیر مبہم، سخت اور شفاف عمل درآمد بھی لازم ہے

حکومت کی رِٹ:

  • انتظامیہ کو مضبوط کرتی ہے
  • اور یہ پیغام دیتی ہے کہ:

سزا کے بعد قانونی خلا نہیں چھوڑا جائے گا

اب نظریں ہائی کورٹ پر ہیں
کیونکہ وہی طے کرے گا کہ

یہ فیصلہ ایک مثال بنے گا یا ایک طویل قانونی کشمکش کا صرف ایک پڑاؤ ثابت ہوگا۔

2Like
0Dislike
100% LikesVS
0% Dislikes

You Might Also Like

اردو سے نسلِ نو کی دوری، ذمہ دار کون؟

بی جے پی کے قومی صدر نتن نبین کے انتخاب پر ڈاکٹر عمار رضوی کی مبارکباد

لفظوں میں بولتی ہوئی شیزا جلال پوری

"ادبی کینوس‘‘ کے زیراہتمام شعری نشستیں، ادبی محفلیں اور مشاعرے منعقد ہوں گے*

اردو زبان میں روزگار کے مواقع

Share This Article
Facebook Twitter Whatsapp Whatsapp LinkedIn Telegram Email Copy Link Print
Previous Article قلم ایک امانت ہے
Next Article جلےگا ایسے ہی نفرت کی آگ میں یہ ملک
Leave a review

Leave a review جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Please select a rating!

اردو سے نسلِ نو کی دوری، ذمہ دار کون؟
بی جے پی کے قومی صدر نتن نبین کے انتخاب پر ڈاکٹر عمار رضوی کی مبارکباد
لفظوں میں بولتی ہوئی شیزا جلال پوری
"ادبی کینوس‘‘ کے زیراہتمام شعری نشستیں، ادبی محفلیں اور مشاعرے منعقد ہوں گے*
اردو زبان میں روزگار کے مواقع

Advertise

ہمارا موبائل اپلیکیشن ڈاؤن لوڈ کریں

NewsG24بھارت میں پروپیگنڈہ خبروں کے خلاف ایک مہم ہے، جو انصاف اور سچائی پر یقین رکھتی ہے، آپ کی محبت اور پیار ہماری طاقت ہے!
© NewsG24 Urdu. All Rights Reserved.
  • About Us
  • TERMS AND CONDITIONS
  • Refund policy
  • سپورٹ کریں
  • Privacy Policy
  • پیام شعیب الاولیاء
  • Contact us
Welcome Back!

Sign in to your account

Lost your password?