مدارس کے طلباء کو عزت دولت اور شہرت دینی تعلیم سے بھی مل سکتی ہے بے شمار نظیر موجود ہے بشرطیکہ وہ اپنی تعلیم پر مکمل جذبہ صادق سے عمل کرے اور اخلاص و اخلاق کے ساتھ دینِ اسلام کے انسانیت بھرے پیغام کو اللہ کے بندوں تک پہونچائے
تحریر: سیدعرفان الحق ہاشمی +91-9839504157
العلم نورٌ والجہل ظلمۃٌ (علم ایک روشنی ہے اور جہالت ایک تاریکی ہے) عربی کا یہ مشہور و معروف مقولہ اپنے مقام پر بالکل صحیح اور مبنی بر حقیقت ہے اب علوم کی بھی کئی قسمیں ہیں بروقت عوام الناس میں جو علوم زدِ عام ہیں وہ دو علوم (۱) علوم دینیہ اور (۲) علوم عصریہ ہیں اب آج ہم آپ کے سامنے علومِ دینیہ و اسلامیہ پر گفتگو کرینگے ان شاءاللہ تبارک اللہ
بلا شبہ علومِ عصریہ کے تعلیم یافتہ دنیا کے بلند و بلند ترین مناصب پر فائز ہیں مگر اس کا بالکل بھی یہ مطلب نہیں کہ علومِ اسلامیہ و دینیہ کے تعلیم یافتہ ناکام رہتے و فاقہ کشی کرتے ہیں افسوس مجھے اس بات پر ہے کہ دورِ حاضر میں دینی اسلامی و عربی تعلیم پڑھنے و پڑھانے والوں میں کچھ معلمانہ اوصاف سے نابلد اور دینِ اسلام کی دعوت و تبلیغ سے غافل اساتذہ کے ذہنوں میں ایک غلط سوچ (Nagative Thinking) پنپ چکی ہے جس کا بہت ہی خطرناک (Danger) اثر (Impression) دینی مدارس کے طلباء (Students) پر پڑ رہا ہے ایک تو وہ اساتذہ (Masters) جو بذاتِ خود اپنی سُستی کاہلی و تساہُلی کی بنیاد پر دینی تعلیم (Islamic Education) کو پڑھنے پڑھانے کے عمل کو بہت حقیر سمجھتے ہیں اور اپنے زندگی کے ناقص تجربہ کے باعث اپنی سطحی فکر (Despicable Thought) کو دینی تعلیم کو عقیدت محبت اور الفت سے حاصل کرنے والے طلباء پر منتقل کرتے ہیں (جن کے نیک دیندار خدا ترس متقی و پرہیزگار والدین اپنے ذہین فطین (Cream Mind) معصوم بچوں کو انسانیت کے کارخانہ (The factory of humanity) دینی مدارس میں داخل کرتے ہیں) جس سے دینی تعلیم حاصل کرنے والے طلباء کا ذہن چند لمحوں کے لئے ضرور منتشر و استاذ کی سطحی فکر سے مضمحل ہوتا ہے
آج ہمارا معاشرہ مدرسے کے بچوں کو ڈاکٹر (Doctor) انجینئر بیرسٹر پروفیسر بنانا چاہتا ہے اور صرف معاشرہ نہیں بلکہ کچھ مدارس کے ذمہ دار بھی دینی تعلیم پر عصری تعلیم کو ترجیح دینے کے لئے مدرسوں میں ایسے دنیا دار موقع پرست و شخصیت پرستی میں گرفتار لوگوں کو بلا کر کے دینی مدارس کے صاف ذہن کے معصوم بچوں کے سامنے لیکچر دلاتے ہیں کہ وہ IAS اور IPS بن سکتے ہیں وہ ڈاکٹر بن سکتے ہیں وہ انجینئر بن سکتے ہیں اس طرح کے لیکچر دلانے کے لیے مدرسوں میں اس طرح کے پروفیسروں کو بلا کر ان کے خصوصی پروگرام کرائے جاتے ہیں
ایسا بہت کم ہوتا ہے کہ ام المدارس دارالعلوم دیوبند و ندوۃ العلماء لکھنؤ و جامعہ عربیہ ہتھورا باندہ مدرسہ دعوۃ الحق ہردوئی مدرسہ ریاض العلوم گرینی جونپور و الجامعۃ الھدایۃ جے پور و جامعہ اشاعت العلوم اکل کواں مہاراشٹر کے مفسرین محدثین و تجربہ کار اساتذہ کو بلاکر ان کی تقریر کرائیں کہ آپ بین الاقوامی مفسر اور محدث بھی بن سکتے ہیں الحمدللہ
حالانکہ ان کو قوم کے ان بچوں کی فکر نہیں ہوتی جو دین سے دور ہیں جو دینی مدارس کو چھوڑ کر دنیا کے عصری علوم کے اداروں میں پڑھ کر علماء اسلام کو حقیر نہیں احقر سمجھتے ہیں اور وقت کے رفتار کے ساتھ ارتداد کے دلدل میں روز بروز پھنستے جارہے ہیں
میں نے بعض علاقوں کا دورہ کیا جہاں پر تحقیق کرنے سے پتہ چلا کہ ان علاقوں میں بڑے بڑے علماء ہیں لیکن وہ اپنے علاقے کو چھوڑ کر دور چلے گئے جب کہ ان علاقوں میں عقیدے کی ایسی ایسی برائیاں پائی جاتی ہیں جس کا لوگوں میں تصور نہیں کیا جاسکتا ہے
وہ اپنے علاقے میں اس لئے نہیں رہنا چاہتے کہ یہاں ہماری ڈگری کی عزت نہیں ہوسکے گی اگر ہم یہاں ان لوگوں کی اصلاح کی فکر کریں گے تو ہماری ڈگری کی توہین ہوجائے گی ہمیں عزت نہیں ملے گی افسوس ہے ایسی فکر پر کہ دنیا میں ہی ساری عزت چاہئے جب کہ اللہ ربّ العالمین کا قرآنِ کریم کے دسویں پارہ سورہ توبہ آیت نمبر ۱۲۲ میں ارشاد ہے کہ اور یہ کچھ ضروری نہ تھا کہ اہلِ ایمان سارے کے سارے ہی نکل کھڑے ہوتے مگر ایسا کیوں نہ ہوا کہ ان کے آبادی کے ہر حصہ میں سے کچھ لوگ نکل کر آتے اور دین کی سمجھ پیدا کرتے اور واپس جا کر اپنے علاقے کے باشندوں کو خبر دار کرتے تاکہ وہ (غیر مسلمانہ روش سے ) پرہیز کرتے
پھر اس آیت کا کیا مطلب ہوگا ؟
آج بعض دنیا دار اپنے آپ کو عقلاء کا استاذ سمجھنے والے لوگ یہی کہتے ہیں کہ ہمارے پاس اتنی بڑی سند (Degree) ہے مگر ہمارے علاقے میں ڈگری کے مطابق روپیہ نہیں مل پائے گا کچھ لوگ وہ مثال (Example) دیتے ہیں کہ گھر کی مرغی کو لوگ دال برابر سمجھتے ہیں جو اس طرح کی گھٹیا مثال دیتے ہیں وہ دنیا (World) کے اعلیٰ (Topper) جاہلوں (Uneducated) میں سے ہوتے ہیں ایسے لوگوں کا تقدیر پر کوئی بھروسہ نہیں ہوتا
کیا عزت (Respect) اور پیسہ (Money) علاقے پر منحصر ہے؟
وَإِنَّهُ لَا يَذِلُّ مَنْ وَالَيْتَ وَلَا يَعِزُّ مَنْ عَادَيْتَ (ترجمہ اور جس کا تو والی اور محافظ ہو وہ کہیں ذلیل نہیں ہو سکتا اور جس کا تو مخالف ہو وہ کبھی عزت نہیں پا سکتا) یہ تو ہم روز دعاۓ قنوت میں پڑھتے ہیں پھر اس کا کیا مطلب ہوگا ؟ اگر اخلاص اور لوگوں کی اصلاح کا جذبہ رکھ کر اپنے علاقے میں کام کریں گے اور دل میں پختہ یقین رکھیں گے کہ روزی دینے والا اللہ ربّ العالمین ہی ہے جس نے اسی وقت ہماری روزی کا بندوبست کردیا تھا جب ہم چار مہینے کے اپنی ماں کے پیٹ میں تھے تو یقیناً اللہ رب العالمین روزی کے اس سے بہتر راستے آپ کے علاقے میں ہی نکال دیگا ان شاءاللہ تبارک اللہ
جو لوگ روزی دوسرے علاقے میں تلاش کرنے کیلئے نکل جاتے ہیں وہ دو قسم کے لوگ ہوتے ہیں ایک تو وہ اس لئے ہجرت کرتے ہیں کہ جس علاقے میں ہم جا رہے ہیں وہاں دینِ اسلام سے غیر واقف لوگ ہیں میرے وہاں جانے سے لوگ ایمانی اعتبار سے مضبوط ہوجائینگے دوسرے وہ لوگ جو صرف دنیا کے حصول کے لئے سفر کرتے ہیں اب دنیا پرست علماء سے میرا سوال ہے کہ آج ہم ممبروں پر چیخ چیخ کر بولتے ہیں قرآن کریم کے اٹھائیسویں پارہ سورہ الطلاق آیت نمبر ۲ اور ۳ میں اللہ ربّ العالمین ارشاد فرماتا ہے کہ اور جو شخص اللہ سے ڈرتا ہے اللہ اس کے لئے چھٹکارے کی شکل نکال دیتا ہے اور اسے ایسی جگہ سے روزی دیتا ہے جس کا اسے گمان بھی نہ ہو اور جو شخص اللہ پر توکل کرے گا اللہ اسے کافی ہوگا اللہ تعالیٰ اپنا کام پورا کرکے ہی رہے گا اللہ تعالیٰ نے ہر چیز کا ایک اندازه مقرر کر رکھا ہے) روزی کے متعلق قرآن کریم کی یہ آیتیں اور احادیث صرف ممبروں اور جلسہ گاہوں کے تخت پر بولنے کیلئے ہیں کیا ؟ عمل کون کرے گا ؟ یا کیا صرف یہ عوام الناس کیلئے ہیں ؟
آج لوگ کہتے ہیں کہ اماموں کی قدر نہیں ہوتی میں مانتا ہوں کہ قدر نہیں ہوتی لیکن یہ بات بھی سچ ہے کہ کون ہے جو امامت کا صحیح سے حق ادا کررہا ہو ؟ سوائے چندے معدودے اللہ کے نیک بندوں کے کیا امام کا کام صرف یہی ہوتا ہے کہ لوگوں کو نماز پڑھادے ؟
امام درحقیقت پوری قوم کا پیشوا ہوتا ہے آپ خود ایسے بنئے کہ لوگ آپ کی عزت کرنے پر مجبور ہوجائیں اور ایسا ہو ہی نہیں سکتا کہ ایک امام اگر متقی ہو اخلاص میں مضبوط ہو معاملات میں صفائی رکھتا ہو صبح و شام کے ذکر و اذکار کا پابند ہو دین کی صحیح تعلیمات کی طرف لوگوں کی رہنمائی کرتا ہو یہ دینی و اسلامی صفات اگر ایک امام کے اندر پائی جاتی ہیں تو ایسا ہو ہی نہیں سکتا کہ لوگ اس کو عزت سے نہ نوازیں اتنی صفات اپنے اندر جو رکھ لے گا تو یقیناً اللہ رب العالمین اس کا رعب و دبدبہ لوگوں کے دلوں میں ضرور ڈال دے گا ان شاء اللہ تبارک اللہ
میری نظر میں زیادہ تر مساجد کے ایسے ائمہ کرام ہیں جن کی قوم کے لوگ تعظیم و تکریم کرتے ہیں قوم کے لوگ اپنے ائمہ کا مکان تعمیر کرادئے بیٹیوں کی شادی کرادئے حج و عمرہ کرادئے اگر کسی بیماری نے گھیر لیا تو عمدہ اور اچھے اسپتالوں میں علاج کرادئے جب ائمہ اپنے طبعی عمر کو پہونچ گئے تو انہیں بڑے اعزاز و اکرام و تحفہ و نذرانے کے ساتھ مسجد سے رخصت کئے اور آج کل اکثر ائمہ کرام و اساتذہ کرام کے تعظیم و تکریم کی خبریں اخبار کی زینت بنتی رہتی ہیں جس کے لئے مزید وضاحت کی ضرورت نہیں آپ کے علم میں اس بات کا اضافہ کردوں کہ کچھ مسجدوں کے اماموں کو آپ بھی بخوبی جانتے ہونگے کہ ایک بادشاہ بھی اتنی پرسکون زندگی نہیں گزارتا ہوگا
جس طرح سے اماموں کے رہنے سہنے کا انتظام مسلمان قوم کے لوگ کرتے ہیں مسجد کے امام صاحب کی جو عزت و وقار ہوتی ہے وہ دور حاضر کے غیر مذہبوں کے رہنماؤں کے لئے قابلِ عبرت ہوتی ہے بعض غیر مسلم رہنماؤں نے تو احترام کے معاملے میں اپنے پیروکاروں سے مسلمانوں سے عبرت حاصل کرنے کی تلقین بھی کی ہے الحمدللہ
لیکن آج دنیا پرست علماء کی سب سے بڑی خواہش یہ ہوتی ہے کہ دنیا مل جائے قارون کا خزانہ مل جائے نیز دولت کا انبار لگ جائے ہماری شہرت کے چرچے ہوجائیں اور نہ ملنے پر افسوس بھی کرتے ہیں شیطان انسان کو بہکاتا ہے اس سے اپنے آپ کو بچانا چاہئے اپنے مقام و مرتبہ کو پہچاننا چاہئے یقیناً یہ بات سچ ہے اگر کوئی مخلص عالم ہے دین کی خدمت میں لگا رہتا ہے تو بالیقیں اس سے اچھا انسان کوئی ہے ہی نہیں حضرت عبداللہ ابن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے بارے میں نبی ﷺ کی صحیح حدیث ہے
حضرت علقمہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ حضرت عبداللہ (ابن مسعود) رضی اللہ تعالیٰ عنہ ایک درخت پر چڑھے تاکہ رسول اللہ ﷺ کے لئے کوئی لکڑی لے آئیں صحابہ رضی اللہ عنھم اجمعین نے ان کی پنڈلیوں کی باریکی دیکھی تو ہنسنے لگے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تم کس بات پر ہنس رہے ہو؟ عبداللہ کی پنڈلی (قیامت کے دن) میزان میں اُحد پہاڑ سے زیادہ وزنی ہوگی) اتنا بڑا مقام کیسے ملا ؟ حضرت عبداللہ ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے دین کے لئے بڑی خدمتیں کی ہیں اللہ رب العالمین خوش ہوجائے یہی سب سے بڑی دولت ہے ایک بات یاد رکھیں دنیا غالب نہیں آنی چاہئے
دینی تعلیم حاصل کرنے والے لوگوں کا وزن معمولی نہیں ہے دین کی تعلیم حاصل کرنے والے بعض لوگ سوچتے ہیں کہ آج عالم کی کوئی اہمیت نہیں ہے اے اللہ کے بندو! اپنے آپ کو کبھی کسی سے کمزور مت سمجھو اللہ کے نزدیک علماء کا مقام بہت بلند ہے لوگ سمجھیں یا نہ سمجھیں ہر مسلمان بالخصوص عالم دین کو اللہ کو راضی کرنا ہے ان شاءاللہ تبارک اللہ دنیا والوں کو نہیں اور جب اللہ راضی ہوجائے گا تو لوگ خود بخود راضی ہوجائیں گے یہی بات حقیقت ہے مندرجہ ذیل آیت کریمہ کو ہمیشہ اپنے ذہن میں رکھیں اللہ ربّ العالمین قرآن کریم کے سورہ مجادلہ آیت نمبر ۱۱ میں فرماتا ہے کہ اللہ ان لوگوں کے درجے بلند کرتا ہے جو تم میں سے ایمان لائے اور جنہیں علم دیا گیا
ارے دنیا تو سب کما رہے ہیں ہم اپنے آپ کو ان میں سے نہ بنائیں اللہ کے رسول ﷺ کی اس حدیث کو بھی ہمیشہ اپنے سامنے رکھیں کہ علماء انبیاء کے وارث ہیں اور انبیاء نے نہ دینار چھوڑا اور نہ درہم بلکہ انہوں نے صرف علم کو بطور وراثت چھوڑا پس جس نے یہ علم حاصل کیا اس نے بڑا حصہ حاصل کیا
یہ کوئی معمولی مقام ہے ؟ سوچئے اس سے بڑا مقام کیا ہوسکتا ہے جن لوگوں کو یہ تعلیم حقیر لگتی ہے وہ اکیلے میں بیٹھ کر ٹھنڈے دماغ سے سوچیں اور غور کریں ان شاء اللہ وہ کبھی بھی اس دینی و اسلامی تعلیم کو چھوڑ کر کبھی بھی ایسی تعلیم حاصل کرنے نہیں جائیں گے جہاں کھلم کھلا بے حیائی ہو انسان کو زنا کے قریب پہنچا دے دین سے دور کردے اللہ کے ذکر سے غافل کردے مسجدوں سے تعلقات کو ختم کردے آپ قرآن کریم کے سورہ منافقون کی آیت نمبر ۹ پر بھی غور کریں اللہ ربّ العالمین کا ارشاد ہے کہ اے ایمان والو! تمہیں تمہارے مال اور تمہاری اولاد اللہ کے ذکر سے غافل نہ کردیں اور جو کوئی ایسا کرے گا تو وہی لوگ نقصان اٹھانے والے ہیں
اب بتائیے اگر کوئی یہ تعلیم اس وجہ سے چھوڑ کر یونیورسٹی وغیرہ جاتا ہے کہ وہاں اعلیٰ ڈگری حاصل کرکے موٹی موٹی رقم کمائیں گے اس علم سے موٹی موٹی رقم نہیں کما سکتے میں یونیورسٹی جانے کو غلط نہیں کہتا اور نہ ہی موٹی موٹی رقم حاصل کرنے کو غلط کہتا ہوں آج انسان کی زندگی میں دولت کا ہونا بھی ضروری ہے انسان کاروبار کرے خوب دولت کمائے اس سے منع نہیں کیا گیا ہے
اللہ نے روزی کمانے کو تو اپنا فضل قرار دیا ہے لیکن دین کے دائرے میں رہ کر دنیا اتنی ہی کماؤ جتنی ضرورت ہے اگر یہ دولت دین سے دور کردے اعلیٰ ڈگریاں نمازوں سے دور کردیں اللہ کے ذکر سے دور کردیں تو لعنت ہو ایسی دولت پر ایسی دولت سے وہ غریب اچھا ہے جو کم پیسے کماتا ہے لیکن قناعت پسند ہوتا ہے دین کے تقاضوں پر عمل کرتا ہے جو ڈگری زیادہ سے زیادہ مال حاصل کرنے کیلئے حاصل کی جائے اگر اس کی وجہ سے انسان نمازوں سے دور ہوگیا تو ایسے ہی لوگوں کے بارے میں اللہ نے کہا ہے کہ وہ سب کے سب خسارے میں ہیں
میں ایسی ڈگری کو جوتے کی نوک پر رکھتا ہوں جو انسان کو خسارے میں ڈال دے انسان کو دنیا پرست بنادے اللہ سے رابطے کو ختم کردے زنا کے قریب پہنچا دے
لہٰذا علماء انبیاء کے وارث ہیں تو اس وراثت کی اہمیت کو سمجھیں دینی تعلیم کو صحیح سے حاصل کریں تب انبیاء کے وارث بنیں گے سیرت طیبہ کی روشنی میں اپنی زندگی گزاریں گے تب یہ شرف حاصل ہوگا ایسا نہیں کہ پڑھ کر چلے جائیں اور عمل سے خالی ہوں اگر عمل نہیں ہے تو ہم کہیں بھی مؤثر نہیں ہوسکتے
یاد رکھیں وہ علم ناسور ہے جو عمل سے خالی ہو ایک انسان کے پاس علم کم ہو لیکن اگر وہ عمل میں مضبوط ہے تو وہ ایک کامیاب انسان ہے اس شخص کے مقابلے میں جس کے پاس علم کی تو بھرمار ہو لیکن عمل میں صفر ہو نمازوں سے دور ہو حرام اشیاء کا استعمال کرتا ہو عمل بہت بڑی چیز ہے جو عالم باعمل نہیں ہوتا تو ظاہری طور پر تو عالم کا اطلاق اس پر ہوگا کہ عالم ہے لیکن حقیقت میں وہ عالم نہیں ہے انسان کی دعوت صرف زبان سے نہ ہو سب سے بڑی دعوت عمل کی ہے آپ ﷺ کی سب سے بڑی دعوت عمل کی تھی آپ ﷺ کی سچائی کو کفاربھی تسلیم کرتے تھے کفارِ مکہ آپ کو صادق اور امین بولتے تھے
اب آپ اندازہ لگا سکتے ہیں یہ چیز ہمارے اندر بھی ہونی چاہئے حقیقت میں یہ دنیا کچھ بھی نہیں ہے ہر انسان اس بات کو اچھی طرح جانتا اورسمجھتا ہے کہ دنیا ایک مچھر کے پر کے برابر بھی نہیں ہے اگر دنیا کی حیثیت اللہ کے نزدیک ایک مچھر کے پر کے برابر بھی ہوتی تو وہ کسی کافر کو اس میں سے ایک گھونٹ پانی بھی نہ پلاتا یہ حدیث یقین کے ساتھ پڑھیں گے تو ہماری تمام پریشانیاں دور ہوجائیں گی ان شاءاللہ تبارک اللہ آگے اللہ ربّ العالمین نے سورہ ہود آیت نمبر ۶ میں فرمایا کہ زمین پر کوئی بھی جاندار ایسا نہیں ہے جس کا رزق اللہ کے ذمے نہ ہو اس پر عمل کون کرے گا ؟ کیا یہ صرف تقریر میں بیان کرنے کیلئے ہے اگر کوئی ان تمام باتوں پر عمل کرلے تو شاید اسے دینی تعلیم چھوڑ کر بے حیائی والی تعلیم حاصل کرنے کیلئے نہیں جانا پڑے گا ان شاءاللہ تبارک اللہ
اور ایک بات یاد رکھیں اللہ تعالیٰ دنیا سب کو دیتا ہے جو چاہتا ہے اسے بھی اور جو نہیں چاہتا اسے بھی اور دین صرف اسی کو دیتا ہے جس کو اللہ پسند کرتا ہے من يُرِدِ اللهُ بهِ خيرًا يُفَقِّهْهُ في الدِّينِ یہ کوئی معمولی چیز نہیں ہے اور بھلائی بہت طرح کی ہوسکتی ہے اللہ جب کسی کے ساتھ بھلائی کرے گا تو وہ ہر طرح سے آسودہ حال رہے گا سکون کے ساتھ رہے گا کیونکہ زندگی گزارنے کے لئے سکون ہی تو سب سے بڑی دولت ہے عالی شان گھر ہو دولت ہو لیکن سکون نہ ہو تو ایسے محل سے اور ایسی دولت سے کیا فائدہ ؟
اس لئے کبھی بھی دینی تعلیم کو حقیر نہ سمجھیں اور ایک بات اچھی طرح سے ذہن میں رکھیں انسان اللہ سے جیسا گمان کرتا ہے اس کے ساتھ ویسا ہی ہوتا ہے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ میں اپنے بندے کے گمان کے مطابق ہوں اگر وہ میرے بارے میں اچھا گمان رکھتا ہے تو اسے وہی ملے گا اور اگر وہ برا گمان رکھتا ہے تو اسے وہی ملے گا دینی و اسلامی تعلیم کو حقیر سمجھنے والو اس حدیث کو بھی سامنے رکھنا
آج مشاہدہ کریں کہ الحمدللہ کوئی بھی عالم بھوکا نہیں رہتا دوسرے علم والے ادھر ادھر بھٹکتے رہتے ہیں دنیا میں تو چھوڑیئے بلکہ ملک ہندوستان میں ہی لاکھوں ایسے لوگ آپ کو مل جائیں گے جن کے پاس بڑی بڑی ڈگریاں ہیں لیکن کوئی روزگار نہیں مل رہا ہے اور بڑی بڑی ڈگری لیکر دربدر بھٹک رہے ہیں یہ بات ہمارے ذہن میں کبھی نہ آئے کہ دینی علم سے ہم کمزور رہیں گے روپیہ اور علم کا کوئی مقابلہ نہیں روپیہ سے علم کو کبھی مت تقابل کیجئے اس لئے احساسِ کمتری کا شکار نہ ہوں ایک طالب علم کو کبھی بھی ان تمام باتوں کو لیکر احساس کمتری کا شکار نہیں ہونا چاہئے کتنی عزتیں علماء کرام کی کیجاتی ہیں تحفے تحائف دیئے جاتے ہیں
مصلے علماء کیلئے خالی رہتے ہیں کتنا بھی بڑا انسان آجائے مصلے پر نہیں چڑھ سکتا ممبر پر نہیں چڑھ سکتا عزت کا معیار پیسہ نہیں ہے میرے بھائی آگے بڑھنے کا معیار پیسہ نہیں ہے اپنے اکابر کو دیکھیے اگر ہمارے اسلاف کی یہ سوچ رہی ہوتی جو آج کچھ دینی تعلیم دینے والے اساتذہ کی وجہ سے طلبہ کی ہوتی جا رہی ہے اور وہ دنیادار اساتذہ کی باتوں کو مان کر اس دینی تعلیم کو چھوڑ کر چلے جاتے ہیں اور بے حیائی و فحاشی میں لگ جاتے ہیں اگر ہمارے اسلاف کی یہ سوچ ہوتی تو آج مدارس ختم ہوچکے ہوتے ارے دنیا لیکر ہم کیا کریں گے ؟ دنیا اتنی ہی چاہیے جتنی ضرورت ہے جس سے اللہ تعالیٰ انسان کو قناعت پسند بنادے اللہ ربّ العالمین کی یہی سب سے بڑی نعمت ہے اللہ کے نبی ﷺ کی بڑی پیاری حدیث ہے کہ تم میں سے جو شخص اس حال میں صبح کرے کہ وہ اپنے گھر میں امن کے ساتھ ہو جسمانی طور پر تندرست ہو اور اس کے پاس ایک دن کا کھانے کا سامان ہو تو گویا اسے پوری دنیا دے دی گئی ہو
اس حدیث پر کون عمل کرے گا ؟ دینی تعلیم کو حقیر سمجھنے والو ذرا ایک نظر مندرجہ بالا حدیث پر بھی ڈال لیتے تو کچھ کام بن جاتا
ارادے جن کے پختہ ہوں نظر جن کی خدا پر ہو
طلاطم خیز لہروں سے وہ گھبرایا نہیں کرتے
جس نے بھی دینی تعلیم کو حقیر سمجھا اس کے پاس دولت کے انبار بھی لگ جائیں مگر سکون نہیں ملے گا آج مدارس کے اساتذہ یہ نصیحت کرتے ہیں اپنے بچوں کو خود انہیں مضبوط نہیں بناتے اپنے طلبہ کو خود احساس کمتری کا شکار بناتے ہیں آج بھی دینی و اسلامی تعلیمات کے متعلق ہر علاقے اور ہر خطے میں تبلیغ کی بڑی ضرورت ہےخود دین پر رہے تو کون سا کمال کیا ہمارے بغل میں اگر کوئی غیر مسلم رہتا ہے کیا کبھی ہم نے اسے اپنے اخلاق دکھلائے جو اخلاق نبی ﷺ کے تھے ؟ آج لوگوں میں ایسا بھوت سوار ہوگیا ہے کہ اکثر لوگ دینی و اسلامی لائن میں رہنا ہی نہیں چاہتے
لہٰذا ضرورت اس بات کی ہے کہ سب سے پہلے اپنی نیت درست کریں پھر محنت اور لگن کے ساتھ اپنے اپنے علاقے میں دین اسلام کا کام کریں اگر علم حاصل بھی کرلیا اور اپنے علاقے والوں کی صحیح رہنمائی نہ کر پائی تب بھی کوئی فائدہ نہیں خلاصہ کلام یہی ہے کہ اگر ایک طالب علم مندرجہ بالا باتوں کو مد نظر رکھتے ہوئے دین اسلام کا علم حاصل کرے گا تو وہ نہ تو کبھی احساس کمتری کا شکار ہوگا اور نہ ہی اپنے آپ کو کمتر سمجھے گا ان شاء اللہ تبارک اللہ
اخلاص اور تقوی کے ساتھ جب انسان دین کا کام کرے گا تو اللہ تعالیٰ اس کی دنیا بھی سنوار دے گا اور آخرت میں بھی اجر عظیم سے نوازے گا اللہ رب العالمین کی رضا حاصل ہوجائے یہی زندگی کا سب سے بڑا مقصد ہونا چاہئے اللہ رب العالمین ہم سب کو دین کی صحیح سمجھ عطا فرمائے دینی تعلیم سے اخلاص کے ساتھ جڑنے کی توفیق عطا فرمائے دینی مدارس کی حفاظت فرمائے نیز دینی مدارس کو منافق اور دینی تعلیم کو حقیر سمجھنے والے ریاکار اساتذہ سے پاک و صاف فرمائے۔ آمین تقبل یا رب العالمین





