By using this site, you agree to the Privacy Policy and Terms of Us
Accept
NewsG24UrduNewsG24UrduNewsG24Urdu
  • سرورق
  • آج کل
  • سیاست
  • عالمی خبریں
  • سپورٹ کریں
  • Hindi
Search
  • اتصل
  • مقالات
  • شكوى
  • يعلن
© NewsG24 Urdu. All Rights Reserved.
Reading: لفظوں میں بولتی ہوئی شیزا جلال پوری
Share
Notification Show More
Font ResizerAa
NewsG24UrduNewsG24Urdu
Font ResizerAa
  • سرورق
  • آج کل
  • سیاست
  • عالمی خبریں
  • سپورٹ کریں
  • Hindi
Search
  • سرورق
  • آج کل
  • سیاست
  • عالمی خبریں
  • سپورٹ کریں
  • Hindi
Have an existing account? Sign In
Follow US
NewsG24Urdu > Blog > Blog > لفظوں میں بولتی ہوئی شیزا جلال پوری
Blog

لفظوں میں بولتی ہوئی شیزا جلال پوری

Last updated: جنوری 19, 2026 3:31 شام
asansari 3 دن ago
SHARE

تحریر۔ابوشحمہ انصاری سعادت گنج،بارہ بنکی

ان کی تحریروں میں زبان کی شائستگی، موضوع کی گرفت اور فکری توازن نمایاں ہوتا ہے، جو انہیں عام لکھنے والوں کی صف سے الگ کرتا ہے۔

- Advertisement -
Ad imageAd image

اردو ادب کی تاریخ اس حقیقت کی گواہ ہے کہ جب بھی کسی عہد میں عورت نے قلم اٹھایا، اس نے صرف لفظ نہیں لکھے بلکہ اپنے عہد کی دھڑکن کو صفحے پر منتقل کر دیا۔ اسی روایت کی ایک باوقار اور سنجیدہ مثال شیزا جلال پوری کی صورت میں سامنے آتی ہے، جو لفظوں میں بولتی ہیں، خیالوں میں سانس لیتی ہیں اور احساس کو زبان عطا کرتی ہیں۔
اصل نام شبانہ انجم اور ادبی شناخت شیزا جلال پوری یہ نام آج اردو کے سنجیدہ حلقوں میں آہستہ مگر مضبوطی سے اپنی جگہ بنا رہا ہے۔ 2 دسمبر کو امبیڈکر نگر، اتر پردیش میں پیدا ہونے والی شیزا جلال پوری ایک ایسے ادبی ماحول میں پلی بڑھی ہیں جہاں کتابیں محض مطالعے کا ذریعہ نہیں بلکہ تہذیبی وراثت تھیں۔ ان کے گرد انور جلال پوری، ندا فاضلی، بشیر بدر، منور رانا، راحت اندوری، پروین شاکر اور احمد فراز جیسے شعرا کی آوازیں تھیں، جنہوں نے ان کے شعور کو ابتدا ہی سے لفظوں کی روشنی عطا کی۔ شعور کی منزل میں قدم رکھتے ہی جب انھیں اپنے اندر جھانکنے کا موقع ملا تو انھوں نے کیفیات کے پیش نظر ذہن اور قلم کے ذریعے خاموش اور ساکت مصّوری کو صفحۀ قرطاس پر اتار دیا-ان کا کہنا ہے کہ صرف شاعری کے دامن میں پناہ لے کر ہی انھیں ذہنی اور قلبی سکون نصیب ہوا ہے- ذہن کے پردے پر ابھرنے والی تصویروں کو انھوں نے اپنے تصورات سے رنگین کیا ہے-ان کی شاعری کو پڑھ کر روح سرشار ہو جاتی ہے- ایک ایسی وادی جہاں جہاں پھول کی خوشبو ، ہواؤں کی سرسراہٹ ،_مدھر راگنی کا گماں ، پرندوں کی چہچہاہٹ ، اٹھکھیلیاں کرتی ہوئی موجوں کا شور ، ذہن و دل کی خاموشی ، بادلوں کے جھنڈ کا گمان ہوتا ہے –
شیزا جلال پوری کی ادبی تشکیل کسی اچانک فیصلے کا نتیجہ نہیں بلکہ مطالعے کی مسلسل ریاضت کا حاصل ہے۔ اشعار منتخب کرنے کا شوق، ایک ذاتی ڈائری میں ہزاروں شعروں کا محفوظ ہونا اور پھر ایک دن خود شعر کہہ دینا،یہ سب ان کے تخلیقی سفر کی فطری منزلیں ہیں۔ ان کی فن اور شخصیت کی تعمیر میں انور جلال پوری صاحب کا عنصر نمایاں طور پر نظر آتا ہے – میرے خیال سے یہ ان کی خوش نصیبی ہے کہ وه بین الاقوامی شاعر اور ناظم مشاعرہ (انور جلال پوری صاحب) کی بھتیجی ہیں- 18 جنوری 2018 کو کہا گیا ان کا پہلا شعر ہی اس بات کا عندیہ دے دیتا ہے کہ شیزا جلال پوری کی نظر اندھیروں میں بھی روشنی تلاش کرنا جانتی ہے۔
تاریکیوں کا اب مجھے شکوہ نہیں رہا
آتی ہے میرے گھر تیرے آنگن کی روشنی
یہ شعر محض آغاز نہیں بلکہ اس فکری سفر کا اعلان ہے جس پر شیزا جلال پوری آج بھی گامزن ہیں۔
ان کی شاعری کا بنیادی وصف احساس کی سچائی ہے۔ شیزا جلال پوری نہ لفظوں کا ہجوم کھڑا کرتی ہیں، نہ جذبات کا شور، بلکہ سادہ مگر گہری بات کہنے پر یقین رکھتی ہیں۔ ان کے یہاں ذات کی وسعت بھی ہے اور انکسار بھی، جس کی جھلک اس شعر میں نمایاں ہو جاتی ہے۔
میں اپنی ذات میں ویسے تو اک سمندر ہوں
بس ایک قطرے میں سمٹی ہے ماہیت میری
اسی خود شناسی کے ساتھ وہ اپنی انفرادیت کا اعلان بھی پورے وقار سے کرتی ہیں۔
ایک ہی شخص کو میسّر ہوں
ہر کسی کو میں دستیاب نہیں
محبت، انسان، سماج اور وقت کی بے ثباتی شیزا جلال پوری کی شاعری کے مستقل موضوعات ہیں۔ ان کے اشعار میں نفرت کے خلاف خاموش احتجاج، تہذیب کے زوال پر فکر مندی اور کردار کی بلندی کا پیغام نمایاں نظر آتا ہے۔ وہ محبت کا پرچم اٹھائے ہوئے نفرت کی وادی میں بھٹکتے انسان کو راستہ دکھاتی ہیں۔
بھٹکتے ہیں نفرت کی وادی میں ہم
محبّت کا پرچم اٹھائے ہوئے
اور اسی کے ساتھ وہ معاشرے کے تلخ سچ کو بھی بے لاگ انداز میں رکھ دیتی ہیں۔
انسانیت کے حامی آپس میں لڑ رہے ہیں
تہذیب جنگلوں میں پروان چڑھ رہی ہے
شیزا جلال پوری دولت اور شہرت کے عارضی فریب سے باخبر ہیں، اسی لیے ان کے یہاں اصل قدر کردار کو حاصل ہے۔
دولت پہ کر گھمنڈ نہ شہرت پہ ناز کر
کردار رکھ بلند نہ جس کا زوال ہو
ان کی شاعری میں داخلی کرب، وجودی بے چینی اور خود سے بچھڑ جانے کا دکھ بھی پوری شدت کے ساتھ موجود ہے:
لے گیا کوئی ہم کو ہم سے یوں
خود کو بھی اب نہیں میسّر ہم
اور کہیں یہ احساس اور بھی گہرا ہو جاتا ہے۔
دل کو چھوڑا یہ سوچ کر خالی
کیا اگے گا زمین بنجر میں
شیزا جلال پوری درد کو سطحی انداز میں نہیں برتتیں، وہ اس کی تہہ تک پہنچتی ہیں۔
جو سمجھتے ہیں درد پھولوں کا
وہی شبنم کا لطف لیتے ہیں-
ان کی شاعری میں رومانیت سر چڑھ کر بولتی ہے-
تڑپ کر رقص کرتا ہے یہ دل جب
کسی کی شوخ یادیں چھیڑتی ہیں،
انسانی رشتوں کی بے بسی اور اقدار کی گمشدگی پر ان کی آواز خاموش مگر وزنی ہے:
پیار، وفا اور عزت کی لاچاری دیکھ
سارے مل کر ڈھونڈ رہے انسانوں کو
اردو زبان سے شیزا جلال پوری کی محبت محض دعویٰ نہیں بلکہ تخلیقی عمل میں ڈھلی ہوئی حقیقت ہے۔
ہر لفظ چمکتا ہے سورج کی شعاؤں سا
جھرمٹ میں ستاروں کے مہتاب زباں اردو
اپنے قلمی نام کو بھی وہ تخلیقی وقار عطا کرتی ہیں۔
نام پر آپ کے دیوان لکھے پھر، شیزا
ایک دو شعر نہیں ساری غزل میں ملئے
زندگی کی ناپائیداری اور خاکساری کا شعور ان کے یہاں فکری پختگی کے ساتھ سامنے آتا ہے۔
خاکساری مزاج میں رکھئے
ایک دن سب کو خاک ہونا ہے
اور وہ معیارِ فن کی بات کرتے ہوئے صاف لفظوں میں کہتی ہیں۔
صرف تعداد شماری ہی ضروری تو نہیں
آپ شعروں کا بھی معیار بنائے رکھئے
لوگوں کی بے حسی اور ضمیر فراموشی پر وه چیخ اٹھتی ہیں-
مردہ ضمیر لوگ ہیں زندہ نہیں کوئی
بس چلتی پھرتی لاشوں کا ہر سو ہجوم ہے-
معاشرے کی تعصب زدہ ذہنیت سے ان کا قلم اچھوتا نہیں ہے-
آگ پھر کس نے تعصب کی لگا دی دیکھو
خانقاہوں کے مناروں سے دھواں اٹھتا ہے-
شیزا جلال پوری کی شخصیت کا ایک نہایت اہم اور مضبوط پہلو ان کا درس و تدریس سے وابستہ ہونا ہے۔ مرزا غالب انٹر کالج، جلال پور، امبیڈکر نگر میں بطور معلمہ خدمات انجام دیتے ہوئے وہ نئی نسل کو محض زبان نہیں سکھاتیں بلکہ لفظ کی حرمت، اظہار کی ذمہ داری اور اردو کی تہذیب بھی منتقل کرتی ہیں۔ ایک استاد کی سنجیدگی اور ایک شاعرہ کی لطافت جب یکجا ہوتی ہے تو تعلیم محض پیشہ نہیں رہتی بلکہ فکری تربیت بن جاتی ہے۔اور شیزا جلال پوری اسی شعور کے ساتھ تدریس سے وابستہ ہیں۔
شاعری کے ساتھ ساتھ شیزا جلال پوری کی نثر بھی ان کی فکری پختگی کی آئینہ دار ہے۔ ان کے مضامین کا مطالعہ بتاتا ہے کہ وہ ایک شاعرہ ہونے کے ساتھ ایک باخبر استاد اور سنجیدہ رائٹر بھی ہیں۔ ان کی تحریروں میں زبان کی شائستگی، موضوع کی گرفت اور فکری توازن نمایاں ہوتا ہے، جو انہیں عام لکھنے والوں کی صف سے الگ کرتا ہے۔
اردو زبان کی عملی خدمت کے میدان میں بھی شیزا جلال پوری کی موجودگی نہایت معنی خیز ہے۔ بارہ بنکی سے شائع ہونے والا ہفت روزہ صدائے بسمل،جو ذکی طارق بارہ بنکوی کی ادارت میں شائع ہوتا ہے۔آج اردو صحافت کا ایک معتبر حوالہ ہے۔ اس اخبار میں شیزا جلال پوری نہ صرف لکھ رہی ہیں بلکہ ایک مکمل ادبی صفحہ کی ترتیب و اہتمام کی ذمہ داری بھی نبھا رہی ہیں، جو ان کے ذوق، صلاحیت اور اردو سے وابستگی کا واضح ثبوت ہے۔
صدائے بسمل کے اس ادبی صفحے کے ذریعے شیزا جلال پوری اردو کے ان خاموش خدمت گاروں میں شامل نظر آتی ہیں جو نہ شور مچاتے ہیں، نہ دعوے کرتے ہیں، بلکہ مسلسل کام کے ذریعے زبان کو زندہ رکھتے ہیں۔ ان کی یہ خدمت اس بات کا ثبوت ہے کہ اردو آج بھی ایسے مخلص ہاتھوں میں محفوظ ہے جو اسے صرف اظہار نہیں بلکہ امانت سمجھتے ہیں۔
اگر شیزا جلال پوری کی شاعری، نثر، تدریسی خدمات اور صحافتی ذمہ داریوں کو یکجا دیکھا جائے تو ایک ہمہ جہت ادبی شخصیت ابھر کر سامنے آتی ہے۔ وہ کلاس روم میں لفظ کی بنیاد رکھتی ہیں، شعر میں احساس کو آواز دیتی ہیں اور اخبار کے صفحے پر اردو کی شمع روشن رکھتی ہیں۔یہ سب ایک ہی شعور کے مختلف زاویے ہیں۔
دنیا شیزا جلال پوری کو ان کے خیالات اور الفاظ سے پہچانے،یہی ان کی سب سے بڑی خواہش ہے۔ اگر ان کا ایک شعر بھی کسی قاری کے ذہن میں محفوظ ہو جائے تو وہ خود کو سرخرو سمجھتی ہیں، اور یہی خلوص ان کے فن کو بناوٹ سے پاک رکھتا ہے۔
درحقیقت شیزا جلال پوری اس نسل کی نمائندہ ہیں جو خاموشی، وقار اور ذمہ داری کے ساتھ اردو کی خدمت کر رہی ہے۔ لفظ ان کے لیے محض اظہار نہیں بلکہ عہد ہیں، اور یہی عہد ان کی تحریروں کو دیرپا بناتا ہے۔
مضمون نگار آل انڈیا ماٸناریٹیز فورم فار ڈیمو کریسی کے شعبہ نشرواشاعت کے سکریٹری ہیں۔

- Advertisement -

0Like
0Dislike
50% LikesVS
50% Dislikes

You Might Also Like

اردو سے نسلِ نو کی دوری، ذمہ دار کون؟

بی جے پی کے قومی صدر نتن نبین کے انتخاب پر ڈاکٹر عمار رضوی کی مبارکباد

"ادبی کینوس‘‘ کے زیراہتمام شعری نشستیں، ادبی محفلیں اور مشاعرے منعقد ہوں گے*

اردو زبان میں روزگار کے مواقع

خوشبو پروین کو دہلی یونیورسٹی سے پی ایچ ڈی کی ڈگری تفویض

Share This Article
Facebook Twitter Whatsapp Whatsapp LinkedIn Telegram Email Copy Link Print
Previous Article "ادبی کینوس‘‘ کے زیراہتمام شعری نشستیں، ادبی محفلیں اور مشاعرے منعقد ہوں گے*
Next Article بی جے پی کے قومی صدر نتن نبین کے انتخاب پر ڈاکٹر عمار رضوی کی مبارکباد
Leave a review

Leave a review جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Please select a rating!

اردو سے نسلِ نو کی دوری، ذمہ دار کون؟
بی جے پی کے قومی صدر نتن نبین کے انتخاب پر ڈاکٹر عمار رضوی کی مبارکباد
لفظوں میں بولتی ہوئی شیزا جلال پوری
"ادبی کینوس‘‘ کے زیراہتمام شعری نشستیں، ادبی محفلیں اور مشاعرے منعقد ہوں گے*
اردو زبان میں روزگار کے مواقع

Advertise

ہمارا موبائل اپلیکیشن ڈاؤن لوڈ کریں

NewsG24بھارت میں پروپیگنڈہ خبروں کے خلاف ایک مہم ہے، جو انصاف اور سچائی پر یقین رکھتی ہے، آپ کی محبت اور پیار ہماری طاقت ہے!
© NewsG24 Urdu. All Rights Reserved.
  • About Us
  • TERMS AND CONDITIONS
  • Refund policy
  • سپورٹ کریں
  • Privacy Policy
  • پیام شعیب الاولیاء
  • Contact us
Welcome Back!

Sign in to your account

Lost your password?