
محمودآباد میں بند کاتائی مل کے مقام پر صنعت قائم کی جائے
لکھنؤ (پریس ریلیز: ابوشحمہ انصاری)سابق کارگزار وزیر اعلیٰ اتر پردیش اور آل انڈیا مائنارٹیز فورم فار ڈیموکریسی کے قومی صدر ڈاکٹر عمار رضوی نے محمودآباد اسمبلی حلقہ میں واقع بند کاتائی مل کے مقام پر کسی بڑے صنعتی ادارے کے قیام کا مطالبہ کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ اتر پردیش یوگی آدتیہ ناتھ سے اس معاملے میں فوری مداخلت کی اپیل کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ مل ایک زمانے میں علاقے کی معیشت کا مضبوط ستون تھی اور اس کے ذریعے ہزاروں خاندانوں کا روزگار وابستہ تھا۔
ڈاکٹر عمار رضوی نے یاد دلایا کہ سنہ 1980-81 میں، جب ریاست میں وی پی سنگھ وزیر اعلیٰ تھے، اس وقت محمودآباد کے انتہائی پسماندہ علاقے میں اس کاتائی مل کا قیام عمل میں آیا تھا اور وہ خود اس وقت کابینہ میں شامل تھے۔ مل کے قیام کے بعد علاقے کی معاشی اور سماجی صورتِ حال میں نمایاں تبدیلی آئی، بڑے پیمانے پر سوت کی پیداوار ہونے لگی، مقامی لوگوں کو روزگار ملا اور یہاں سے سوت کی ترسیل اور برآمدات بھی ہونے لگیں۔
انہوں نے کہا کہ سنہ 1990 میں مل کی مالی حالت انتہائی خراب ہو گئی، جس کے بعد حکومت اتر پردیش نے اسے بند کر دیا۔ اس فیصلے کے نتیجے میں ہزاروں مزدور، کاریگر اور ان کے اہل خانہ بے روزگاری کا شکار ہو گئے اور پورا علاقہ شدید معاشی دباؤ میں آ گیا۔
ڈاکٹر عمار رضوی نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے بتایا کہ مل بند ہونے کے بعد اس کا قیمتی سامان مقامی سطح پر انتہائی کم قیمت پر فروخت کر دیا گیا۔ اس کے بعد اب مل کا ملبہ بھی بہت ہی معمولی داموں پر نیلام کیا جا چکا ہے۔ مزید تشویشناک امر یہ ہے کہ ملبے کے ساتھ ساتھ زمین کی مٹی کی کھدائی کر کے باہر لے جائی جا رہی ہے، جس سے یہ خدشہ پیدا ہو گیا ہے کہ یہ وسیع صنعتی مقام مستقبل میں ایک بڑے گڑھے کی شکل اختیار کر سکتا ہے۔
انہوں نے وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ کی توجہ اس جانب مبذول کراتے ہوئے کہا کہ محمودآباد کا یہ مقام لکھنؤ کے قریب واقع ہے اور سیتاپور کینٹونمنٹ اور ڈیفنس کوریڈور کے دائرے میں آتا ہے، جہاں مختلف نوعیت کی صنعتوں اور کارخانوں کے قیام کے وسیع امکانات موجود ہیں۔ ایسے میں یہاں کسی بڑے صنعتی ادارے کی منظوری دی جانا علاقے کی تقدیر بدل سکتا ہے۔
ڈاکٹر عمار رضوی نے مطالبہ کیا کہ اگر اس مقام پر کوئی صنعت یا کارخانہ قائم کیا جائے تو اس میں کم از کم پچاس فیصد روزگار مقامی افراد کو دیا جانا یقینی بنایا جائے، تاکہ برسوں سے چلی آ رہی بے روزگاری، مایوسی اور مجبوری کا خاتمہ ہو سکے۔ انہوں نے کہا کہ روزگار کے فقدان نے عوام کو ذہنی اور معاشی طور پر توڑ کر رکھ دیا ہے اور لوگ حکومت کے مثبت فیصلے کے منتظر ہیں۔
انہوں نے امید ظاہر کی کہ وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ اس سنگین اور حساس مسئلے پر سنجیدگی سے غور کریں گے اور محمودآباد کے عوام کو ایک بار پھر روزگار، ترقی اور خود انحصاری کی راہ پر گامزن کرنے کے لیے مؤثر قدم اٹھائیں گے۔
یہ اطلاع آل انڈیا ماٸنا ریٹیز فورم فار ڈیمو کریسی کے شعبہ نشرواشاعت کے سیکریٹری ابوشحمہ انصاری نے فراہم کی۔



