By using this site, you agree to the Privacy Policy and Terms of Us
Accept
NewsG24UrduNewsG24UrduNewsG24Urdu
  • سرورق
  • آج کل
  • سیاست
  • عالمی خبریں
  • سپورٹ کریں
  • Hindi
Search
  • اتصل
  • مقالات
  • شكوى
  • يعلن
© NewsG24 Urdu. All Rights Reserved.
Reading: رباعی اختصار اور اوزان کی پابندی کے ساتھ فنی و فکری صلاحیتوں کی متقاضی ہے: پرووفیسر خواجہ محمد اکرام الدین
Share
Notification Show More
Font ResizerAa
NewsG24UrduNewsG24Urdu
Font ResizerAa
  • سرورق
  • آج کل
  • سیاست
  • عالمی خبریں
  • سپورٹ کریں
  • Hindi
Search
  • سرورق
  • آج کل
  • سیاست
  • عالمی خبریں
  • سپورٹ کریں
  • Hindi
Have an existing account? Sign In
Follow US
NewsG24Urdu > Blog > Blog > رباعی اختصار اور اوزان کی پابندی کے ساتھ فنی و فکری صلاحیتوں کی متقاضی ہے: پرووفیسر خواجہ محمد اکرام الدین
Blog

رباعی اختصار اور اوزان کی پابندی کے ساتھ فنی و فکری صلاحیتوں کی متقاضی ہے: پرووفیسر خواجہ محمد اکرام الدین

Last updated: مارچ 24, 2026 12:08 شام
asansari 1 دن ago
SHARE

لکھنؤ،(پریس ریلیز/ابوشحمہ انصاری) اردو رباعی کا یہ بین الاقوامی سیمینار اردو ادب کی سر گرمیوں میں اس لئے یاد کیا جائیگا کہ ”اردو رباعی“کے حوالے سے اردو دنیا کا یہ پہلا سیمینار ہے جس میں رباعی جیسی محتشم بالشان صنف پر فکر و فن کے حوالے سے ملک و بیرون ملک کے ادیب اور دانشوران شرکت کررہے ہیں۔ مذکورہ باتیں پروفیسر عباس رضا نیرؔ صدر شعبہ اردو، لکھنؤ یونی ورسٹی، لکھنؤ نے فخرالدین علی احمد میموریل کمیٹی حکومت اترپردیش لکھنؤ اور شعبہ اردو لکھنؤ یونیورسٹی، لکھنؤ کے اشتراک سے منعقد ہونے والے دوروزہ بین الاقوامی سیمیناربعنوان”اردو رباعی کاعصری منظر نامہ“ بمقام اردو اکیڈمی ہال، کے افتتاحی اجلاس کی نظامت کرتے ہوئے کہی۔
اس دوروزہ بین الاقوامی سیمینار کا افتتاحی اجلاس ۴۲ اپریل ۶۲۰۲؁ء کو اردو اکیڈمی ہال لکھنؤ میں منعقد ہوا جس کی صدارت پروفیسر صغیر افراہیم سابق صدر شعبہ اردو علی گڑھ یونیورسٹی، علی گڑھ نے کی۔ مہمان خصوصی کی حیثیت سے پروفیسرشہاب عنایت ملک صدر شعبہ اردو کشمیر یونیورسٹی اور مہمان اعزازی پروفیسر شفیق احمد اشرفی سابق صدر شعبہ اردو خواجہ معین الدین چشتی لینگویج یونیورسٹی،لکھنؤرہے۔ پروفیسر خواجہ محمد اکرام الدین نے کلیدی خطبہ دیتے ہوئے کہا کہ: رباعی ایک مشکل صنف ہے کیونکہ اختصار اور اوزان کی پابندی کے ساتھ کسی ایک موضوع پر ادبی جمالیات کے ساتھ کسی خیال کو پیش کرنا فنی اور فکری صلاحیتوں کا متقاضی ہے اس لئے اس صنف کے شعراء کم ہیں مگر وقت کے اعتبار سے اس صنف کی بڑی اہمیت ہے، خود لکھنؤ کی سرزمین نے رباعی جیسی مشکل صنف کی آبیاری کی ہے۔ پروفیسر صغیر افراہیم نے اپنے صدارتی خطاب میں کہا کہ بلا شبہ فخرالدین علی احمد میموریل کمیٹی اور صدر شعبہ اردو لکھنؤ یونیورسٹی، لکھنؤ پروفیسر عباس رضا نیرؔکا یہ عمل قابل فخر اور قابل ستائش ہے کہ آپ نے مشکل ترین صنف رباعی پر یہ دورازہ سیمینار منعقد کرانے کا فریضہ انجام دیا۔اس افتتاحی سیشن کے دانشوران ادب نے جس طرح اس پر گفتگوکی وہ قابل رشک ہے۔ اور جو مثالیں نئی نسل کے تعلق سے دیں اس سے اور بھی تقویت بڑھتی ہے کہ اردو رباعی کا مستقبل روشن ہے۔ پروفیسر شہاب عنایت ملک نے کہا کہ: موجودہ دور میں بہت کم شعراء ہیں جو اس مشکل صنف میں طبع آزمائی کررہے ہیں۔اس صنف میں ہمارا تہذیبی و تمدنی ورثہ بھی موجود ہے جسے عام کرنے کی موجودہ حالات میں بے حد ضرورت ہے۔پروفیسر شفیق احمد اشرفی نے اپنے خطاب میں کہا کہ رباعی صنفی اعتبار سے ایک مختصر اور قدیم صنف سخن ہے جو مشق کا تقاضہ کرتی ہے۔ اس کے موضوعات کا دائرے لا محدود ہے لیکن اس کے اوزان مقرر ہیں۔ افتتاحی اجلاس کے آخر میں ڈاکٹر جان نثار عالم نے مہمانان کا شکریہ ادا کیا۔
چائے کے وقفے کے بعد پہلا تکنیکی اجلاس شروع ہوا جس کی صدارت پروفیسر شہاب عنایت ملک اور پروفیسر ثعبان سعید نے کی اور پروفیسر دبیر احمد،پروفیسر عابد حسین حیدری، سنجے مشرا شوق، فاروق جائیسی اور ڈاکٹر ذیشان حیدر نے اوردو رباعی کے عصری منظر نامے کے حوالے سے مختل
ف عنوانات پر مقالات پیش کئے۔
ظہرانہ کے وقفہ کے بعد دوسرا تکنیکی اجلاس ہوا جس کی صدارت پروفیسر صغیر افراہیم اور پروفیسر خواجہ محمد اکرام الدین نے کی اور پروفیسر شہاب عنایت ملک، ڈاکٹر عصمت ملیح آبادی ساجد خیرآبادی، ڈکٹر احتشام احمد اور ڈاکٹر مجتبی حسن صدیقی نے مقالے پڑھے۔تیسرے تکنیکی اجلاس ڈاکٹر عمیر منظراور ڈاکٹر جان نثار عالم کی صدارت میں منعقد ہوا جس میں ریسرچ اسکالرسید غلام عباس ہلوری، صائمہ انصاری، تحسین، محمد سہیل نے اپنے اپنے مقالات پیش کئے۔
شام میں ”مشاعرہ رباعیات“ کی محفل سجی جس کی صدارت فاروق جائسی صاحب نے کی اور نظامت کے فرایض شکیل گیاوی نے انجام دئے۔ شعراء کی حیثیت سے سنجئے مشرا شوق، بے خود لکھنوی، ناز پرتاپ گڑھی، پروفیسر عباس رضانیرؔ، ڈاکٹر عصمت ملیح آبادی، معید رہبر، اعجاز زیدی، ساجد خیر آبادی، ڈاکٹر عمیر منظر، ڈاکٹر ذیشان حیدر، ڈاکٹرمجتبی حسن صدیقی، ابوشبروغیرہ نے شرکت کی۔

0Like
0Dislike
50% LikesVS
50% Dislikes

You Might Also Like

ڈاکٹر عمار رضوی کی کوششوں سے سعودی عرب میں جاں بحق نوجوان کی میت وطن پہنچی

عید کے موقع پر سیاسی رہنماؤں کا قومی یکجہتی کا پیغام

ریاستی حکومت کے نو سال مکمل،ڈاکٹر عمار رضوی نے قیادت اور ترقی کی تعریف کی

اسے ہم پَر تو دیتے ہیں مگر اُڑنے نہیں دیتے!

جن بھون میں اردو کی نمائندگی یقینی بنائی جائے: ڈاکٹر عمار رضوی

Share This Article
Facebook Twitter Whatsapp Whatsapp LinkedIn Telegram Email Copy Link Print
Previous Article عید کے موقع پر سیاسی رہنماؤں کا قومی یکجہتی کا پیغام
Next Article ڈاکٹر عمار رضوی کی کوششوں سے سعودی عرب میں جاں بحق نوجوان کی میت وطن پہنچی
Leave a review

Leave a review جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Please select a rating!

ڈاکٹر عمار رضوی کی کوششوں سے سعودی عرب میں جاں بحق نوجوان کی میت وطن پہنچی
رباعی اختصار اور اوزان کی پابندی کے ساتھ فنی و فکری صلاحیتوں کی متقاضی ہے: پرووفیسر خواجہ محمد اکرام الدین
عید کے موقع پر سیاسی رہنماؤں کا قومی یکجہتی کا پیغام
ریاستی حکومت کے نو سال مکمل،ڈاکٹر عمار رضوی نے قیادت اور ترقی کی تعریف کی
رویتِ ہلال کے تعین کے لیے ایک جدید، شرعی اور سائنسی نظام

Advertise

ہمارا موبائل اپلیکیشن ڈاؤن لوڈ کریں

NewsG24بھارت میں پروپیگنڈہ خبروں کے خلاف ایک مہم ہے، جو انصاف اور سچائی پر یقین رکھتی ہے، آپ کی محبت اور پیار ہماری طاقت ہے!
© NewsG24 Urdu. All Rights Reserved.
  • About Us
  • TERMS AND CONDITIONS
  • Refund policy
  • سپورٹ کریں
  • Privacy Policy
  • پیام شعیب الاولیاء
  • Contact us
Welcome Back!

Sign in to your account

Lost your password?