
آل انڈیا مائناریٹیز فورم فار ڈیموکریسی کی ہنگامی میٹنگ منعقد
لکھنؤ۔(ابوشحمہ انصاری) آل انڈیا مائناریٹیز فورم فار ڈیموکریسی کی ایک ہنگامی میٹنگ فورم کے لکھنو واقع دفتر پارک روڈ میں قومی صدر ڈاکٹر عمار رضوی کے زیر صدارت منعقد ہوی۔
ڈاکٹر رضوی نے ایران کے رہبر اعلٰی آیت اللہ خامنای کے جاں بحق ہونے پر انتہائی رنج و غم کا اظہار کیا اور پورے مشرق وسطٰی میں جنگ سے پیدا ہونے والی صورت حال اور کشیدگی پر گہری فکر کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ عالمی قوانین کے تحت کسی خود مختار ملک کی قیادت کو نشانہ بنا کر ہلاک کر دینا اسکی کھلی خلاف ورزی ہے۔ جو قابل مذمت ہے۔اقوام متحدہ کے چارٹرس واضع کرتا ہے کہ کسی خود مختار ملک اور اسکی قیادت میں کسی ملک کی براہ راست مداخلت غیر قانونی ہے۔ اقوام متحدہ کا وجود اسی لیے سامنے آیا جس نے ماضی میں بڑے بڑے پیچیدہ مسائل کا تصفیہ بھی کیا اور قیام امن کے لئے گراں قدر رول نبھایا ہے۔ اس وقت دنیا حیران ہے کہ اقوام متحدہ اتنا بے بس کیوں نظر آ رہا ہے۔یہ خاموشی اور بے بسی عالمی امن کے لئے بہت خطرناک ہے۔
ڈاکٹر رضوی نے کہا کہ ایران ہندوستان کا دیرینہ رفیق رہا ہے۔ ایران نے ہر محاذ پر ہندوستان کا ساتھ دیا ہے۔ ڈاکٹر رضوی نے 1980 میں ہندوستان میں کروڈ تیل کے بحران کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اس وقت کی وزیر اعظم اندرا گاندھی کے کہنے پر ڈاکٹر رضوی نے اس وقت کے ایرانی سفیر براے ہند آغا ابوالفضل مجتہدی سے بات چیت کر کے حکومت ایران سے حل کرایا تھا۔ کشمیر کے معاملہ پر بھی ایران نے ہندوستان کے موقف کی تائید کی ہے۔ انہوں نے حکومت ہند سے درخواست کی کہ اس وقت ہندوستان، خلیج اور مشرقی وسطٰی میں قیام امن کے لیے کوشش کریں کیونکہ جنگ سے کبھی کسی مسلے کا حل نہیں ہو سکتا اور ہمارا ملک ہمیشہ امن کا پیغامبر رہا ہے۔جنگیں صرف بے قصور عوام کی ہلاکتوں اور بڑے پیمانے پر تباہی ہی لاتی ہیں۔
ڈاکٹر رضوی نے بتایا کہ مارچ، 2006 کو جب اس وقت کے امریکی صدر جارج بش نے ہندوستان کا دورہ کیا تھا تو نئ دہلی کے موریہ شیریٹن میں صدر نے ڈاکٹر رضوی کو مدعو کیا تھا۔ ملاقات میں امریکہ-ایران کشیدگی کے تناظر میں صدر بش نے دریافت کیا تو میں ان سے کہا کہ جناب صدر جنگ کسی مسئلے کا حل نہیں ہے، جنگ تو عالمی امن کی راہ میں خود ایک مسئلہ ہے۔ جنگ سے اس خطہ کے حالات بد سے بدتر ہو جاینگے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ مسلوں کا حل بات چیت سے نکالا جائے۔
ڈاکٹر رضوی نے کہا کہ اس وقت خلیج اور مشرقی وسطٰی کے حالات اسرائیل کی وجہ سے انتہائی دھماکہ خیز ہیں۔ پوری دنیا میں ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ خامنای کی ٹارگیٹ کانگ سے احتجاج و مظاہرہ ہو رہے ہیں۔ ہر طرف بیچنی ہے، پوری دنیا میں بلا تفریق مذہب و ملت اس کاروائی کی پرزور مذمت ہو رہی ہے۔
ڈاکٹر رضوی اور تمام شرکاء نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل سے فوری طور پر مداخلت کی اپیل کرتے ہوئے دنیا کو عالمی جنگ سے محفوظ رکھنے کی گزارش کی ہے۔ میٹنگ میں سبھی نے آیت اللہ خامنای اور دیگر کے لیے سورہ فاتحہ پڑھ پروردگار سے انکی روح کی تسکین اور بلند درجات کی دعا کی۔
میٹنگ میں ڈاکٹر رضوی کے علاوہ ڈاکٹر ہارون رضوی، عمار نگرامی، اویس نگرامی، اقبال حیدر خان ایڈووکیٹ، ندیم عباس نقوی، شان علی،عتیق احمد انصاری، شہاب الدین خان، جمیل حسن، روی پرکاش یادو، انکور ورما، اسلم بیگ، شری کانت دویدی، محمد علی رضوی، دیوندر سنگھ نارنگ وغیرہ شریک ہوئے۔



