کانپور: (محمد عثمان قریشی)شہر اور دیہی علاقوں میں زمین مافیا کی جانب سے مبینہ طور پر غیر قانونی مٹی کان کنی کے بڑھتے ہوئے معاملات نے مقامی شہریوں میں شدید تشویش پیدا کر دی ہے۔ عوام کا کہنا ہے کہ بارہا شکایات کے باوجود انتظامیہ کی جانب سے مؤثر کارروائی نہ ہونے کے باعث مافیا کے حوصلے بلند ہو رہے ہیں، جس کے نتیجے میں شکایت کنندگان کو جان و مال کے خطرات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ ماضی میں بھی غیر قانونی کان کنی کی مخالفت کرنے والے عام شہریوں اور بعض سرکاری اہلکاروں پر حملوں کے واقعات سامنے آ چکے ہیں۔
اسی سلسلے میں 16 مئی 2026 کو گرام اکبر پوروا، تھانہ سچینڈی، ضلع کانپور نگر میں ایک سنگین واقعہ پیش آیا۔ مقامی رہائشی اتل سنگھ اور دیگر دیہاتیوں نے گرام سماج (سرکاری/پنچایتی) زمین پر مبینہ غیر قانونی کان کنی کی شکایت پولیس اور انتظامیہ سے کی تھی۔ شکایت موصول ہونے کے بعد پولیس ٹیم نے موقع پر پہنچ کر حالات کا جائزہ بھی لیا، تاہم مقامی افراد کے مطابق اس کے باوجود مؤثر کارروائی نہ ہونے سے حالات مزید کشیدہ ہو گئے۔
الزام ہے کہ شکایت درج کرانے کے بعد اسی رات متعلقہ افراد کی جانب سے اتل سنگھ اور دیگر گاؤں والوں کو سنگین نتائج بھگتنے کی دھمکیاں دی گئیں۔ اس کے اگلے ہی روز رات کے وقت مبینہ طور پر زمین مافیا سے وابستہ افراد نے اتل سنگھ کے گھر پر حملہ کر دیا، جہاں ان، ان کی والدہ اور خاندان کے دیگر افراد کے ساتھ مارپیٹ کی گئی۔ ساتھ ہی گھر کے باہر کھڑی گاڑیوں میں توڑ پھوڑ اور فائرنگ کیے جانے کا بھی الزام ہے۔ واقعے کے دوران اہل خانہ نے بھاگ کر اپنی جان بچائی۔ اس معاملے میں متعلقہ تھانے میں مقدمہ درج کرایا جا چکا ہے۔
دیہاتیوں کا کہنا ہے کہ اگر ابتدائی شکایت پر بروقت اور سخت کارروائی کی جاتی تو یہ ناخوشگوار واقعہ پیش نہ آتا۔ اسی معاملے پر آج گرام اکبر پوروا کے متعدد باشندوں نے ضلع مجسٹریٹ کانپور نگر کو پانچ نکاتی میمورنڈم سونپتے ہوئے مطالبہ کیا کہ تمام ملزمان کے خلاف فوری اور سخت قانونی کارروائی کی جائے، غیر قانونی کان کنی پر مکمل روک لگائی جائے اور متاثرہ خاندان کو تحفظ فراہم کیا جائے۔





