
آل انڈیا مائنارٹیز فورم فار ڈیموکریسی کا گورنر کو خط
لکھنؤ (پریس ریلیز/ابوشحمہ انصاری): اتر پردیش کے سابق کارگزار وزیر اعلیٰ اور آل انڈیا مائنارٹیز فورم فار ڈیموکریسی (اے آئی ایم ایف ڈی) کے قومی صدر ڈاکٹر عمار رضوی نے ریاست کی گورنر آنندی بین پٹیل کو ہولی کی مبارکباد پیش کرتے ہوئے جن بھون میں اردو زبان کی شمولیت کی مؤدبانہ اپیل کی ہے۔
ڈاکٹر رضوی نے اپنے خط میں کہا کہ ہولی محبت، بھائی چارے اور سماجی ہم آہنگی کا تہوار ہے۔ انہوں نے دعا کی کہ یہ خوشیوں بھرا موقع گورنر اور ان کے اہلِ خانہ کے لیے صحت، مسرت اور کامیابیوں کا ذریعہ بنے۔
انہوں نے یاد دلایا کہ گورنر کے دورِ کار میں راج بھون کو عوامی شناخت دیتے ہوئے ’’جن بھون‘‘ قرار دیا جانا ایک مثبت اور قابلِ ستائش قدم تھا، تاہم اس نام میں اردو زبان کی شمولیت نہ ہونا لسانی ہم آہنگی کے تناظر میں قابلِ توجہ امر ہے۔
ڈاکٹر عمار رضوی نے لکھنؤ کی تاریخی و ادبی حیثیت کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ یہ شہر صدیوں سے اردو زبان و ادب کا مرکز رہا ہے اور اس کی گنگا جمنی تہذیب عالمی سطح پر منفرد مقام رکھتی ہے۔ انہوں نے منشی نول کشور، میر تقی میر، میر انیس، مجاز لکھنوی، جاں نثار اختر، کیفی اعظمی، پنڈت برج نارائن چکبست اور امرت لال نگر جیسی شخصیات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ان اہلِ قلم نے لکھنؤ کی ادبی شناخت کو عالمی افق تک پہنچایا۔
انہوں نے مؤدبانہ اپیل کی کہ جن بھون میں جہاں ہندی زبان میں ’’جن بھون‘‘ درج ہے، وہاں اردو زبان میں بھی اس نام کو تحریر کروایا جائے تاکہ ریاست کی مشترکہ تہذیب اور لسانی وراثت کی مکمل نمائندگی ہو سکے۔
ڈاکٹر رضوی نے امید ظاہر کی کہ گورنر اس معاملے پر مثبت غور فرمائیں گی اور اردو زبان کو سرکاری مقامات پر اس کا جائز مقام دلانے کے لیے مناسب اقدامات کریں گی۔یہ اطلاع آل انڈیا مائنارٹیز فورم فار ڈیموکریسی کے شعبۂ نشر و اشاعت کے سیکریٹری ابوشحمہ انصاری نے فراہم کی۔



