سدھارتھ نگر: ضلع سدھارتھ نگر کے کھنیاؤں بلاک میں واقع معروف دینی درسگاہ جامعہ اہلِ سنت امدادالعلوم مٹہنا میں 20 مئی 2026 کو سالانہ دستاربندی اور جلسۂ تقسیمِ اسناد نہایت عقیدت و احترام کے ساتھ منعقد کیا گیا۔ اس پروقار تقریب میں تعلیم مکمل کرنے والے 35 طلبہ کو اسناد اور دستار سے نوازا گیا۔ ملک کے مختلف صوبوں سے تشریف لائے ممتاز علماء کرام، دانشورانِ ملت اور مقررین کی موجودگی نے تقریب کو چار چاند لگا دیے، جبکہ ان کے بیانات سننے کے لیے عقیدت مندوں کی بڑی تعداد موجود رہی۔
تقریب کا باقاعدہ آغاز قاری منور صاحب کی پرسوز تلاوتِ قرآنِ پاک سے ہوا، جس کے بعد انہوں نے بارگاہِ رسالت مآب ﷺ میں نعتیہ کلام پیش کیا۔ اس روحانی و علمی نشست کی نظامت بہار کے ضلع سیتامڑھی سے تشریف لائے معروف خطیب علامہ محبوب گوہر نے اپنے منفرد اور دلنشیں انداز میں انجام دی۔
تقریب کے کلیدی مقرر حضرت مولانا مفتی کمال الدین رضوی نے اپنے خطاب میں حضور اکرم ﷺ کی سیرتِ طیبہ، قرآنِ کریم کی تعلیمات اور معاشرے میں علم و تعلیم کی اہمیت پر تفصیلی روشنی ڈالی۔ انہوں نے کہا کہ ایک مہذب اور باوقار معاشرے کی تعمیر کے لیے دینی اور عصری تعلیم دونوں ناگزیر ہیں۔
بعد ازاں مدھیہ پردیش کے کھنڈوا سے تشریف لائے معروف عالمِ دین مفتی غلام جیلانی ازہری نے "اسلام اور سائنس” کے موضوع پر مدلل اور معلوماتی خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اسلام نے ہمیشہ علم، تحقیق اور سائنسی شعور کی حوصلہ افزائی کی ہے۔
تقریب میں بہرائچ کے معروف نعت خواں ضیاء یزدانی نے اپنے خوبصورت انداز میں نعتیہ کلام پیش کر کے سامعین کے دل موہ لیے اور جامعہ مٹہنا کی دینی و تعلیمی خدمات کو خراجِ تحسین پیش کیا۔
تقریب کا سب سے اہم اور جذباتی مرحلہ وہ تھا جب جامعہ سے فارغ ہونے والے 35 ہونہار طلبہ کی دستاربندی کی گئی۔ علماء کرام کے ہاتھوں انہیں اسناد اور دستار سے سرفراز کیا گیا۔ ان میں 11 طلبہ فاضل (عالم)، 18 طلبہ قرأت اور 6 طلبہ حفظِ قرآن کے شامل تھے۔
اس عظیم الشان پروگرام کی کامیابی میں جامعہ کے اساتذۂ کرام، انتظامی کمیٹی، ذمہ داران اور مقامی رضاکاروں نے قابلِ ستائش کردار ادا کیا۔ تقریب کا اختتام ملک میں امن، بھائی چارے اور خوشحالی کے لیے اجتماعی دعا کے ساتھ ہوا۔





