
لکھنؤ(ابوشحمہ انصاری)دہلی یونیورسٹی کے ممتاز ادارے ستیہ وتی کالج کے شعبہ اردو کی ادبی تنظیم "بزمِ ادب” کے زیرِ اہتمام ایک پروقار بین الکلیاتی تقریب کا اہتمام کیا گیا۔ اس ادبی جشن میں دہلی کے مختلف کالجوں کے طلبہ نے ‘مضمون نگاری’ اور ‘غزل سرائی’ کے مقابلوں میں اپنی صلاحیتوں کا مظاہرہ کیا۔
پروگرام کا باقاعدہ آغاز صدرِ شعبہ اردو ڈاکٹر قمر الحسن کے کلیدی خطاب سے ہوا۔ انہوں نے تعلیمی اداروں میں ادبی سرگرمیوں کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ "ایسے مقابلے طلبہ کی تخلیقی اور فکری صلاحیتوں کو نکھارنے کا بہترین ذریعہ ہیں اور شعبہ اردو مستقبل میں بھی اس طرح کی علمی و ادبی نشستیں جاری رکھے گا۔”
مضمون نگاری کے لیے "قومی تعلیمی پالیسی 2020 میں مادری زبان کی اہمیت اور معنویت” جیسا فکر انگیز عنوان منتخب کیا گیا تھا۔ اس مقابلے میں کل 15 طلبہ نے حصہ لیا جس میں اول ایشا فاطمہ اور نازیہ پروین (ستیہ وتی کالج)دوم سارا بیگ (دیال سنگھ کالج)سوم آسما(ذاکر حسین دہلی کالج) اور چہارم علما سیفی (ستیہ وتی کالج) نے حاصل کیے۔
اس مقابلے میں جج کے فرائض ڈاکٹر فیاض عالم، ڈاکٹر محمد رکن الدین اور ڈاکٹر بشیر شاہین نے انجام دیے۔
پروگرام کا دوسرا مرحلہ غزل سرائی کا تھا جس میں شرکا کی خوش الحانی نے حاضرین کو مسحور کر دیا۔ غزل سرائی مقابلے میں اول اریبہ خانم (ستیہ وتی کالج) دوم زیبا (ذاکر حسین دہلی کالج)سوم ونام (شعبہ ہندی، ستیہ وتی کالج)اور
حوصلہ افزائی انعام ثنا (ستیہ وتی کالج)نے حاصل کیے۔
غزل سرائی کے مقابلے میں ڈاکٹر قمر الحسن، ڈاکٹر فخر عالم اور ڈاکٹر افسانہ حیات نے منصفانہ فرائض انجام دیے۔
تقریب میں ذاکر حسین دہلی کالج، دیال سنگھ کالج اور دہلی یونیورسٹی کے دیگر کالجوں کے طلبہ نے بھرپور شرکت کی۔ نظامت کے فرائض رفیق طلحہ،اریبہ خانم، عنہا اور علما سیفی نے بحسن و خوبی نبھائے۔
آخر میں کامیاب طلبہ میں اسناد اور انعامات تقسیم کیے گئے۔ ڈاکٹر افسانہ حیات نے تمام مہمانوں اور شرکا کا شکریہ ادا کیا، جب کہ بزمِ ادب کے صدر عفان پٹھان، نائب صدر اقرا سیفی، سیکریٹری نازیہ پروین، جوائنٹ سیکرٹری عالیہ ناز اور خزانچی اقرا رحمان نے اس پروگرام کو کامیاب بنانے میں اہم کردار ادا کیے۔



