از: سیدعرفان الحق ہاشمی
سارے عالم کےصاحبِ استطاعت مسلمان مکہ مکرمہ حج کرنے کے لئے اور مدینہ منورہ زیارت کے لئے جاتے ہیں حج کی عبادت کرنے کے بعد مسلمان گناہوں سے اس طرح پاک و صاف ہوجاتا ہے جیسے ماں کے پیٹ سے پیدا ہوا معصوم بچہ ہو
مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ (جسے احتراماً حرمین شریفین بھی کہا جاتا ہے) یہ دو شہر صرف جغرافیائی مقامات نہیں ہیں بلکہ پوری دنیا کے تمام ممالک اور شہروں سے خوبصورت صاف وشفاف بالخصوص مسلمانوں کے لئے روحانیت عقیدت اور اتحاد کا مرکز ہیں حج بیت اللہ اسلام کا پانچواں رکن ہے جو ہر صاحبِ استطاعت مسلمان پر زندگی میں ایک بار فرض ہے جبکہ مدینہ منورہ کی زیارت اور مسجد نبوی میں حاضری اگرچہ حج کے مناسک کا حصہ نہیں مگر یہ ایک مومن کی سب سے بڑی آرزو اور ایمان کی تکمیل کا ذریعہ ہے قرآن و حدیث میں ان دونوں مقامات (مکہ و مدینہ ) کی بڑی ہی اہمیت و فضیلت ہے۔
حج کی فرضیت قرآن مجید کی روشنی میں اس طرح مذکور ہے کہ اللہ تعالیٰ نے قرآنِ حکیم میں حج کو اہل ایمان کے لئے ایک عظیم عبادت اور فرض قرار دیا ہے جیسا کہ قرآنِ کریم کے چوتھے پارے سورہ آلِ عمران آیت نمبر ۹۷ میں ارشادِ ربانی ہے وَلِلّٰهِ عَلَى النَّاسِ حِجُّ الْبَيْتِ مَنِ اسْتَطَاعَ إِلَيْهِ سَبِيْلًا وَمَنْ كَفَرَ فَإِنَّ اللّٰهَ غَنِيٌّ عَنِ الْعٰلَمِيْنَ ہ ترجمہ: اور اللہ کے لئے لوگوں پر اس گھر (کعبہ) کا حج فرض ہے جو اس تک پہنچنے کی استطاعت رکھتے ہوں اور جو کوئی انکار کرے (یعنی فرض ہونے کا منکر ہو یا استطاعت کے باوجود حج نہ کرے) تو اللہ تعالیٰ تمام جہان والوں سے بے نیاز ہے۔
محترم قارئین (۱) استطاعت کا مفہوم واضح ہے کہ اس آیت میں استطاعت کی شرط رکھی گئی ہے فقہائے اسلام کے نزدیک اس کا مطلب یہ ہے کہ انسان مالی طور پر اتنی گنجائش رکھتا ہو کہ سفر کے اخراجات قیام و طعام اور واپسی تک کے خرچ کا متحمل ہو سکے اور ساتھ ہی جسمانی طور پر بھی اس سفر کے قابل ہو (۲) حج کی فضیلت احادیثِ نبوی ﷺ کے آئینے میں اس طرح بیان کیا گیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے حج بیت اللہ کے بے شمار فضائل بیان فرمائے ہیں صحیح بخاری اور مسلم میں مروی احادیث اس عبادت کی اہمیت کو اجاگر کرتی ہیں اور گناہوں سے پاکیزگی کی وضاحت کرتی ہیں نبی کریم ﷺ نے فرمایا:
مَنْ حَجَّ لِلّٰهِ فَلَمْ يَرْفُثْ وَلَمْ يَفْسُقْ رَجَعَ كَيَوْمِ وَلَدَتْهُ أُمُّهُ (صحیح بخاری، کتاب الحج) ترجمہ: جس نے اللہ کے لئے حج کیا اور اس دوران نہ کوئی بیہودہ بات کی اور نہ کوئی گناہ کا کام کیا تو وہ (گناہوں سے پاک ہو کر) ایسا واپس لوٹتا ہے جیسے اس کی ماں نے اسے آج ہی جنا ہو ایسے ہی مسلمان جنت کا انعام حاصل کرتا ہے آپ ﷺ نے فرمایا:
الْحَجُّ الْمَبْرُورُ لَيْسَ لَهُ جَزَاءٌ إِلَّا الْجَنَّةُ (صحیح بخاری) ترجمہ: حجِ مبرور (جس میں کوئی گناہ نہ ہو) کا بدلہ جنت کے سوا کچھ بھی نہیں ہے (۳) مدینہ منورہ کی زیارت اور اس کی اہمیت اگرچہ حج کے مناسک مکہ مکرمہ اور اس کے گردونواح میں مکمل ہوتے ہیں لیکن مدینہ منورہ کی زیارت کرنا رسول اللہ ﷺ سے محبت رکھنے والے ہر مسلمان کے دل کی تڑپ ہوتی ہے مدینہ منورہ کی فضیلت اس کے "مسجدِ نبوی” اور "روضہ رسول ﷺ” کی موجودگی کی وجہ سے ہے (۴) مسجدِ نبوی کی فضیلت کے متعلق قرآن وحدیث میں کافی روایات موجود ہیں۔
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا لاَ تُشَدُّ الرِّحَالُ إِلاَّ إِلَى ثَلاَثَةِ مَسَاجِدَ: مَسْجِدِي هَذَا، وَالْمَسْجِدِ الْحَرَامِ، وَمَسْجِدِ الأَقْصَى (صحیح بخاری و مسلم) ترجمہ: صرف تین مسجدوں کی طرف سفر (عبادت کی غرض سے) کرنا باعثِ اجر ہے (۱) میری یہ مسجد (مسجد نبوی) (۲) مسجد حرام اور (۳) مسجد اقصیٰ مدینہ منورہ میں زیارتِ روضہِ اطہر کے متعلق جان لیں کہ اگرچہ حج میں روضہ رسول ﷺ کی زیارت واجب نہیں ہے لیکن احادیث میں اس کی بڑی فضیلت آئی ہے مدینہ منورہ میں حاضری کا اصل مقصد اللہ کے حبیب ﷺ پر درود و سلام پیش کرنا اور آپ ﷺ کی تعلیمات کی تجدید کرنا ہے (۵) عالمِ اسلام کا مرکز روحانی اور اجتماعی پہلو بھی ہے مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ کا سفر صرف ایک طویل مسافت نہیں بلکہ ایک ایسی روحانی تبدیلی کا نام ہے جو انسان کو دنیاوی آلائشوں سے پاک کر دیتی ہے
(۶) وحدتِ امت بھی ہے حج کے موقع پر جب دنیا بھر کے مسلمان مختلف رنگ مختلف نسل مختلف زبان اور معاشی حیثیت کے باوجود ایک ہی لباس (احرام) میں اللہ کے گھر کے گرد جمع ہوتے ہیں تو یہ اسلام کی عالمگیریت اور مساوات کا سب سے بڑا ثبوت ہوتا ہے (۷) روحانی تزکیہ بھی ہے عرفات کا میدان مزدلفہ کی رات اور کعبہ کا طواف یہ تمام مقامات انسان کو آخرت کی یاد دلاتے ہیں اور اسے تقویٰ اختیار کرنے کی تلقین کرتے ہیں (۸) نبوی تربیت بھی ہے مدینہ منورہ میں قیام انسان کو یہ سکھاتا ہے کہ کیسے ایک عظیم معاشرہ اخلاق حسنِ سلوک اور محبت کی بنیاد پر قائم کیا جاتا ہے
القصہ مختصر خلاصہ یہ ہے کہ حج بیت اللہ ایک فرضِ الٰہی ہے جو صاحبِ استطاعت مسلمانوں پر عائد ہوتا ہے اور مدینہ منورہ کی حاضری ایک ایسا مستحب اور مبارک عمل ہے جو مومن کے دل کو نورِ ایمان سے منور کر دیتا ہے یہ دونوں مقامات مسلمانوں کی اجتماعی پہچان اتحاد اور اللہ سے بندگی کے رشتے کو مضبوط کرنے کا واحد ذریعہ ہیں لہذا ہر صاحبِ حیثیت اور خوشحال مسلمان کو چاہئے کہ زندگی میں سب سے پہلے ایک بار اپنے بال بچوں کے ساتھ حج کی عبادت سے فیضیاب ہو کیونکہ حج اور عمرہ کرنے سے حلال رزق کے دروازے وا ہوتے ہیں
اللہ ربّ العالمین کی جانب سے صحت و تندرستی کی نعمت میسر ہوتی ہے بعض ہمارے مومن بھائی بہن کہتے ہیں کہ ابھی بیٹے بیٹیوں کی شادی نہیں ہوئی ابھی عالیشان مکان کی تعمیر نہیں ہوئی ابھی آرام دہ گاڑی کا انتظام نہیں کرسکے ابھی کیسے حج و عمرہ کرلیں ؟ تو ان مسلمان بھائیوں اور بہنوں کو معلوم ہونا چاہئے جو اللہ حج و عمرہ کے لئے دولت و ثروت عطاء کرسکتا ہے وہی اللہ ربّ العالمین آپ کی زندگی کے سارے ضرورتوں کی تکمیل کرسکتا ہے اللہ تعالیٰ ہر صاحبِ استطاعت مسلمان کو اس عظیم سعادت سے سرفراز فرمائے اور جن کے پاس وسائل نہیں ان کے لئے اس سفر کی راہیں آسان کرے آمین





