ممبئ (شاہ خالد مصباحی) ممبئی میں اسلامی جمہوریہ ایران کے قونصل خانے میں ایک اہم اور بامقصد ملاقات کا انعقاد ہوا، جس میں معلم و قلمکار شاہ خالد مصباحی نے ایران کے قونصل جنرل سعید رضا مصائب مطلق سے ملاقات کی۔ اس موقع پر کلچرل ہاؤس آف اسلامک ریپبلک آف ایران، ممبئی کے ڈائریکٹر جناب محمد رضا فاضل اور قونصلر اسسٹنٹ جناب محمد حمید شریفی بھی موجود تھے۔
ملاقات کے دوران تعلیم، ثقافت، زبان و ادب اور عوامی سفارت کاری جیسے اہم موضوعات پر تفصیلی گفتگو ہوئی۔ معزز شخصیات نے اس بات پر زور دیا کہ ادبی و ثقافتی روابط کے ذریعے قوموں کے درمیان باہمی ہم آہنگی، رواداری اور فکری تبادلے کو مزید فروغ دیا جا سکتا ہے۔
اس موقع پر اے۔ رحمٰن شیخ نے رہبر معظم انقلاب اسلامی ایران کی اپنے ہاتھ سے تیار کردہ تصویر پیش کی، جبکہ شاہ خالد مصباحی نے تعزیتی اشعار پیش کیے اور اپنا تعزیتی پیغام قونصل جنرل کو سپرد کیا۔
ملاقات کے دوران ایران و ہندوستان کے تعلقات پر مختلف پہلوؤں سے گفتگو ہوئی اور اس ضمن میں چند اہم سوالات بھی کیے گئے، جن کے جوابات قونصلر اسسٹنٹ جناب محمد حمید شریفی اور ڈائریکٹر خانہ فرہنگ ایران، ممبئی نے نہایت سنجیدگی سے دیے۔
سوال و جواب
سوال:
عوامی سفارت کاری دو ممالک، ہند و ایران، کے درمیان عوامی روابط کو مضبوط بنانے میں کس طرح کردار ادا کرتی ہے؟
جواب:
عوامی سفارت کاری دو ممالک کے درمیان روابط کو مضبوط بنانے میں نہایت اہم کردار ادا کرتی ہے۔ یہ نہ صرف ثقافتی اور تعلیمی تبادلوں کو فروغ دیتی ہے بلکہ لوگوں کے درمیان براہِ راست رابطے اور باہمی اعتماد کو بھی بڑھاتی ہے۔ فارسی اور سنسکرت دونوں ہند-یورپی لسانی خاندان سے تعلق رکھتی ہیں، اور ان میں نمایاں ثقافتی و تمدنی مماثلت پائی جاتی ہے۔ ہندوستان کی کئی قدیم سنسکرت کتابوں کا فارسی میں ترجمہ ہوا، جن میں پنچ تنتر نمایاں مثال ہے، جو دونوں ممالک کے قدیم تہذیبی روابط کی عکاسی کرتی ہے۔
زبان، ادب، فنون اور تعلیمی پروگراموں کے ذریعے معاشروں کو قریب لایا جا سکتا ہے، جس سے غلط فہمیوں میں کمی اور باہمی احترام میں اضافہ ہوتا ہے۔ اسی مقصد کے تحت خانۂ فرہنگ اور سفارت خانے کی جانب سے مختلف ثقافتی پروگرام منعقد کیے جاتے ہیں۔ ایران میں آج بھی سنسکرت اور ہندی کے فروغ کے لیے اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ ہم عوامی سفارت کاری کو پائیدار اور مضبوط بین الاقوامی تعلقات کی بنیاد سمجھتے ہیں۔
سوال:
طلبہ اور نوجوان اساتذہ کے لیے کون سے مواقع موجود ہیں تاکہ وہ ایران کے ساتھ علمی و ثقافتی سطح پر تعامل قائم کر سکیں؟
جواب:
اس ضمن میں سعدی فاؤنڈیشن ایک اہم ادارہ ہے، جو طلبہ اور نوجوان اساتذہ کے لیے دنیا بھر میں مختلف مواقع فراہم کرتا ہے۔ اس کے تحت تعلیمی تبادلہ پروگرام، اسکالرشپس، اور مشترکہ تحقیقی سرگرمیاں منعقد کی جاتی ہیں۔ مزید برآں، ایران کے ثقافتی و تاریخی مقامات سے روشناس کرانے کے لیے مطالعاتی دوروں کا بھی اہتمام کیا جاتا ہے۔
اس کے علاوہ زبان و ادب کے فروغ کے لیے کورسز، سیمینارز اور ورکشاپس باقاعدگی سے منعقد کیے جاتے ہیں۔ نوجوان نسل کے لیے یہ بہترین مواقع ہیں کہ وہ ایک دوسرے کے قریب آئیں اور باہمی تہذیبی اقدار کو سمجھیں۔ فاؤنڈیشن ایسے اقدامات کی حوصلہ افزائی کرتی ہے جو علمی تعاون، بین الثقافتی مکالمہ اور باہمی افہام و تفہیم کو فروغ دیں۔
یہ ملاقاتی پروگرام تقریباً ایک گھنٹے پر مشتمل تھا، جو کامیابی کے ساتھ اختتام پذیر ہوا۔ قونصل خانے کے معزز حکام نے اس علمی و ادبی نشست کو سراہا اور ہند-ایران تعلقات کے استحکام میں نوجوانوں کے کردار کو نہایت اہم قرار دیا۔
نشست کے اختتام پر قونصل جنرل نے اس عزم کا اظہار کیا کہ مشترکہ علمی و ثقافتی سرگرمیوں کو فروغ دے کر باہمی تعاون کو مزید مستحکم کیا جائے گا۔





