By using this site, you agree to the Privacy Policy and Terms of Us
Accept
NewsG24UrduNewsG24UrduNewsG24Urdu
  • سرورق
  • آج کل
  • سیاست
  • عالمی خبریں
  • سپورٹ کریں
  • Hindi
Search
  • اتصل
  • مقالات
  • شكوى
  • يعلن
© NewsG24 Urdu. All Rights Reserved.
Reading: مولانا قمر غنی عثمانی کی ضمانت آخر اتنی مشکل کیوں؟
Share
Notification Show More
Font ResizerAa
NewsG24UrduNewsG24Urdu
Font ResizerAa
  • سرورق
  • آج کل
  • سیاست
  • عالمی خبریں
  • سپورٹ کریں
  • Hindi
Search
  • سرورق
  • آج کل
  • سیاست
  • عالمی خبریں
  • سپورٹ کریں
  • Hindi
Have an existing account? Sign In
Follow US
NewsG24Urdu > Blog > Blog > مولانا قمر غنی عثمانی کی ضمانت آخر اتنی مشکل کیوں؟
Blog

مولانا قمر غنی عثمانی کی ضمانت آخر اتنی مشکل کیوں؟

Last updated: اگست 10, 2026 9:19 صبح
newsg24urdu 6 گھنٹے ago
مولانا قمر غنی عثمانی کی ضمانت آخر اتنی مشکل کیوں؟
مولانا قمر غنی عثمانی کی ضمانت آخر اتنی مشکل کیوں؟
SHARE

چار سال سے زیادہ حراست، 122 گواہ اور ایک ایسا مقدمہ جس کا اختتام ابھی دور دکھائی دیتا ہے

نیوزG24 | خصوصی اداریہ |شفیق فیضی

مشمولات
چار سال سے زیادہ حراست، 122 گواہ اور ایک ایسا مقدمہ جس کا اختتام ابھی دور دکھائی دیتا ہےگرفتاری 2022 میں ہوئی، مگر کہانی آج بھی ختم نہیں ہوئیDefault Bail کا دروازہ بھی بند ہوگیا2025 میں regular bail بھی مسترد122 گواہ: ٹرائل کب ختم ہوگا؟ریاست کے لیے سوال، عدالت کے لیے نہیںکیا سنگین الزام، طویل حراست کا مستقل جواز بن سکتا ہے؟UAPA کے نام پر ہر سوال ختم نہیں ہوجاتاایک اور مقدمہ بھی، مگر سوال وہیتو پھر اصل مسئلہ کیا ہے؟نیوزG24 کا سوال"انصاف میں تاخیر صرف انصاف کی تاخیر ہے، یا کبھی کبھی خود ایک سزا بھی بن جاتی ہے؟”

کسی شخص پر سنگین الزام لگانا ریاست کا حق ہے، اسے گرفتار کرنا بھی قانون کے دائرے میں ممکن ہے، مقدمہ چلانا بھی ریاستی نظام کی ذمہ داری ہے۔ لیکن ایک جمہوری ملک میں ایک سوال اس سے بھی بڑا ہے:

مقدمہ کب ختم ہوگا؟

اور اس سے بھی بڑا سوال:

- Advertisement -
Ad imageAd image

اگر مقدمہ ختم ہونے میں سالوں لگ جائیں تو کیا ایک زیرِ سماعت شخص کو بھی سالوں جیل میں رکھا جا سکتا ہے؟

مولانا قمر غنی عثمانی کا معاملہ اسی بنیادی سوال کو ہمارے سامنے لا کھڑا کرتا ہے۔

یہاں مقصد کسی عدالت کے فیصلے پر سوال اٹھانا نہیں، بلکہ اس قانونی عمل کے ان پہلوؤں کو سمجھنا ہے جن کی وجہ سے ایک شخص کی ضمانت کا معاملہ اتنا طویل ہوتا چلا گیا۔

گرفتاری 2022 میں ہوئی، مگر کہانی آج بھی ختم نہیں ہوئی

مولانا قمر غنی عثمانی کو جنوری 2022 میں گجرات کے کشن بھرواد قتل کیس کے سلسلے میں گرفتار کیا گیا۔ ان کے خلاف قتل اور سازش سمیت متعدد سنگین دفعات عائد کی گئیں، بعد ازاں UAPA اور GUJCTOC جیسے سخت قوانین بھی مقدمے کا حصہ بنے۔

یہیں سے معاملہ عام فوجداری مقدمے سے مختلف ہوگیا۔

- Advertisement -

کیونکہ UAPA صرف ایک قانونی دفعہ نہیں، بلکہ ضمانت کے مرحلے پر ایک سخت قانونی رکاوٹ بھی بن جاتا ہے۔

تو سوال یہ ہے:

کیا کسی شخص کے خلاف سخت قانون لگا دینا ہی اس بات کے لیے کافی ہے کہ وہ غیر معینہ مدت تک جیل میں رہے؟

- Advertisement -

قانون کا جواب "نہیں” ہونا چاہیے۔

لیکن عملی صورت حال کہیں زیادہ پیچیدہ ہے۔

Default Bail کا دروازہ بھی بند ہوگیا

مولانا عثمانی کی طرف سے گرفتاری کے بعد default یا statutory bail کا قانونی راستہ اختیار کیا گیا۔

یہ دلیل دی گئی کہ تفتیش کے لیے مقررہ مدت میں توسیع کے طریقہ کار میں قانونی خامیاں تھیں اور اس بنیاد پر انہیں default bail ملنی چاہیے۔

معاملہ سپریم کورٹ تک پہنچا۔

10 اپریل 2023 کو سپریم کورٹ نے یہ دلیل قبول نہیں کی اور default bail کا راستہ بند ہوگیا۔ تاہم عدالت نے regular bail کے لیے درخواست دینے کا راستہ برقرار رکھا۔

یہاں ایک بات واضح ہونی چاہیے:

default bail کا مسترد ہونا جرم ثابت ہونا نہیں تھا۔

یہ صرف ایک مخصوص قانونی بنیاد پر ضمانت کی درخواست کا فیصلہ تھا۔

اصل سوال اب بھی باقی تھا:

کیا مولانا عثمانی کو regular bail مل سکتی ہے؟

2025 میں regular bail بھی مسترد

یہ سوال 2025 میں گجرات ہائی کورٹ کے سامنے پہنچا۔

دفاع نے کئی اہم نکات اٹھائے۔

تفتیش مکمل ہو چکی تھی۔

چارج شیٹ داخل ہو چکی تھی۔

مولانا طویل عرصے سے جیل میں تھے۔

اور مقدمے میں 122 گواہوں کی فہرست موجود تھی۔

یعنی دفاع کا بنیادی سوال یہ تھا کہ جب تفتیش مکمل ہوچکی اور ٹرائل ابھی طویل ہونے والا ہے تو آخر مزید حراست کی ضرورت کیا ہے؟

لیکن عدالت نے ضمانت دینے سے انکار کردیا۔

عدالت کے سامنے استغاثہ نے مولانا عثمانی کے مبینہ کردار، مقدمے کی سنگینی اور ان کے خلاف موجود مواد کو اہم قرار دیا۔ عدالت نے ان کے کردار کو بعض دوسرے ملزمان سے بھی مختلف سمجھا۔

یہاں سے ایک اور بڑا سوال پیدا ہوتا ہے:

اگر ایک شخص چار سال کے قریب جیل میں رہنے کے بعد بھی ضمانت کے قابل نہیں سمجھا جاتا، تو پھر ضمانت کے لیے عملی طور پر کون سا مرحلہ باقی رہ جاتا ہے؟

122 گواہ: ٹرائل کب ختم ہوگا؟

یہ مقدمہ ایک اور وجہ سے بھی غیر معمولی ہے۔

چارج شیٹ میں 122 گواہوں کا ذکر ہے۔

اب ذرا تصور کیجیے۔

ہر گواہ کی گواہی۔

جرح۔

دستاویزات۔

عدالتی کارروائی۔

وکیلوں کے دلائل۔

تاریخ پر تاریخ۔

اور پھر حتمی فیصلہ۔

اگر یہ سب کچھ برسوں تک چلتا ہے تو کیا زیرِ سماعت قیدی کی حراست بھی اسی رفتار سے چلتی رہنی چاہیے؟

یہ وہ مقام ہے جہاں speedy trial کا اصول اہم ہوجاتا ہے۔

کیونکہ انصاف صرف یہ نہیں کہ مقدمہ کسی دن ختم ہوجائے۔

انصاف یہ بھی ہے کہ مقدمہ غیر معمولی تاخیر کے بغیر مکمل ہو۔

ریاست کے لیے سوال، عدالت کے لیے نہیں

یہاں ایک بنیادی فرق سمجھنا ضروری ہے۔

عدالت کے سامنے الزام ثابت کرنا ریاست کی ذمہ داری ہے۔

عدالت کا کام یہ دیکھنا ہے کہ شواہد کیا کہتے ہیں۔

لیکن اگر ریاست کسی شخص کے خلاف مقدمہ برسوں تک چلاتی ہے تو اس تاخیر کا بوجھ صرف ملزم پر کیوں پڑے؟

اگر گواہ 122 ہیں تو انہیں پیش کرنا ریاست کی ذمہ داری ہے۔

اگر شواہد موجود ہیں تو انہیں عدالت کے سامنے لانا ریاست کی ذمہ داری ہے۔

اگر مقدمہ مضبوط ہے تو اسے جلد مکمل کرنا بھی ریاستی نظام کی ذمہ داری ہونی چاہیے۔

ایک مقدمہ جتنا سنگین ہوگا، اسے اتنی ہی سنجیدگی اور رفتار سے مکمل کرنے کی ضرورت ہوگی۔

کیا سنگین الزام، طویل حراست کا مستقل جواز بن سکتا ہے؟

یہ شاید اس پورے معاملے کا سب سے اہم سوال ہے۔

ہم یہ نہیں کہہ رہے کہ مولانا قمر غنی عثمانی بے قصور ہیں۔

یہ فیصلہ عدالت کرے گی۔

ہم یہ بھی نہیں کہہ رہے کہ ان کے خلاف موجود شواہد بے بنیاد ہیں۔

اس کا فیصلہ بھی ٹرائل کورٹ کرے گی۔

لیکن ایک بات ضرور پوچھی جانی چاہیے:

الزام اور سزا میں فرق کہاں برقرار رہے گا؟

اگر کوئی شخص ابھی عدالت سے مجرم ثابت نہیں ہوا، تو وہ قانونی طور پر ملزم ہے۔

اور اگر وہ برسوں تک زیرِ سماعت قیدی رہتا ہے تو ریاست کو ہر مرحلے پر یہ ثابت کرنا ہوگا کہ اس کی مزید حراست واقعی قانونی طور پر ضروری ہے۔

یہی قانون کی روح ہے۔

UAPA کے نام پر ہر سوال ختم نہیں ہوجاتا

UAPA ایک سخت قانون ہے اور اس کے تحت ضمانت کا معیار بھی سخت ہے۔

لیکن کسی بھی سخت قانون کا مطلب یہ نہیں کہ آئینی اصول غیر متعلق ہوجاتے ہیں۔

شخصی آزادی، منصفانہ ٹرائل اور speedy trial جیسے اصول کسی خاص قانون کے نام پر ختم نہیں کیے جاسکتے۔

اصل قانونی کشمکش یہی ہے:

ریاستی سلامتی اور فرد کی آزادی کے درمیان توازن کہاں قائم ہوگا؟

اگر ریاست کہتی ہے کہ معاملہ انتہائی سنگین ہے تو عدالت پوچھ سکتی ہے:

ثبوت کہاں ہیں؟

اگر دفاع کہتا ہے کہ ملزم برسوں سے جیل میں ہے تو عدالت پوچھ سکتی ہے:

ٹرائل کب مکمل ہوگا؟

اور اگر ٹرائل ابھی مزید کئی سال لینے والا ہے تو پھر سوال اور بھی سنگین ہوجاتا ہے:

کیا زیرِ سماعت حراست ہی عملاً سزا بن جائے گی؟

ایک اور مقدمہ بھی، مگر سوال وہی

ہائی کورٹ کے سامنے مولانا عثمانی کے خلاف تریپورہ میں UAPA کے تحت ایک دوسرے مقدمے کا حوالہ بھی دیا گیا۔

استغاثہ کے لیے یہ ایک اہم نکتہ ہوسکتا ہے۔

لیکن قانونی طور پر اس کا جائزہ بھی شواہد اور مقدمے کی نوعیت کے مطابق ہی ہونا چاہیے۔

محض ایک اور مقدمہ درج ہونا اور اس میں جرم ثابت ہونا دو الگ چیزیں ہیں۔

یہ فرق اگر ہم بھول گئے تو پھر "ملزم” اور "مجرم” کے درمیان موجود پورا قانونی فاصلہ ختم ہوجائے گا۔

تو پھر اصل مسئلہ کیا ہے؟

اصل مسئلہ صرف مولانا قمر غنی عثمانی کی ضمانت نہیں۔

اصل مسئلہ یہ ہے کہ ہندوستانی فوجداری نظام میں طویل زیرِ سماعت حراست کو کس طرح دیکھا جائے گا؟

کیا سنگین دفعات کا مطلب یہ ہوگا کہ ٹرائل کی رفتار چاہے جتنی سست ہو، ملزم جیل میں رہے؟

کیا 122 گواہوں کی موجودگی میں عدالت کو یہ بھی دیکھنا ہوگا کہ ٹرائل کی تکمیل میں کتنا وقت لگ سکتا ہے؟

کیا برسوں کی حراست کے بعد ضمانت کے معیار کو دوبارہ جانچنے کی ضرورت نہیں؟

اور سب سے اہم:

اگر آخرکار ملزم بری ہوگیا تو جیل میں گزارے گئے وہ سال کون واپس کرے گا؟

نیوزG24 کا سوال

یہ اداریہ کسی فرد کو بے قصور قرار دینے یا کسی عدالت کے فیصلے کو غلط ثابت کرنے کی کوشش نہیں۔

لیکن صحافت کا کام صرف فیصلے نقل کرنا بھی نہیں۔

صحافت کا کام سوال اٹھانا ہے۔

اور آج سوال یہ ہے:

کیا انصاف صرف سزا دینے کا نام ہے، یا انصاف کا مطلب یہ بھی ہے کہ مقدمہ وقت پر چلے؟

کیا ایک سنگین الزام کسی شخص کو غیر معینہ مدت تک زیرِ سماعت قید رکھنے کا جواز بن سکتا ہے؟

کیا ریاست کو اپنی تفتیش اور ٹرائل کی رفتار کی بھی جواب دہی ہونی چاہیے؟

اور سب سے بڑھ کر:

اگر عدالت میں جرم ابھی ثابت نہیں ہوا تو برسوں کی جیل آخر کس کی قیمت پر؟

مولانا قمر غنی عثمانی کے مقدمے کا فیصلہ عدالت کرے گی۔

لیکن اس مقدمے نے ہندوستانی نظامِ انصاف کے سامنے ایک ایسا سوال ضرور کھڑا کردیا ہے جس سے نظریں نہیں چرائی جا سکتیں:

"انصاف میں تاخیر صرف انصاف کی تاخیر ہے، یا کبھی کبھی خود ایک سزا بھی بن جاتی ہے؟”

1Like
0Dislike
100% LikesVS
0% Dislikes

You Might Also Like

ڈاکٹر سشیلا تیواری کے مجسمے کی ازسرِنو تنصیب پر وزیراعلیٰ کا شکریہ، نارائن دت تیواری کے مجسمے کی تنصیب کا بھی مطالبہ

ہند۔برطانیہ جامع اقتصادی و تجارتی معاہدہ دونوں ممالک کے تعلقات میں ایک تاریخی سنگِ میل ثابت ہوگا: ڈاکٹر عمار رضوی

ڈاکٹر عمار رضوی کے نام وزیراعظم نریندر مودی کا مکتوبِ تشکر

ذکی طارق بارہ بنکوی: خاموش چراغ کی لو

ڈاکٹر عمار رضوی کی مؤثر پیروی کے بعد وزارتِ خارجہ حرکت میں آئی

Share This Article
Facebook Twitter Whatsapp Whatsapp LinkedIn Telegram Email Copy Link Print
Previous Article ڈاکٹر سشیلا تیواری کے مجسمے کی ازسرِنو تنصیب پر وزیراعلیٰ کا شکریہ، نارائن دت تیواری کے مجسمے کی تنصیب کا بھی مطالبہ
Leave a review

Leave a review جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Please select a rating!

مولانا قمر غنی عثمانی کی ضمانت آخر اتنی مشکل کیوں؟
ڈاکٹر سشیلا تیواری کے مجسمے کی ازسرِنو تنصیب پر وزیراعلیٰ کا شکریہ، نارائن دت تیواری کے مجسمے کی تنصیب کا بھی مطالبہ
ہند۔برطانیہ جامع اقتصادی و تجارتی معاہدہ دونوں ممالک کے تعلقات میں ایک تاریخی سنگِ میل ثابت ہوگا: ڈاکٹر عمار رضوی
ڈاکٹر عمار رضوی کے نام وزیراعظم نریندر مودی کا مکتوبِ تشکر
کائنات کی ابتداء سے انتہا تک پیغمبر اسلام ﷺ ہی ایک کامل انسان

Advertise

ہمارا موبائل اپلیکیشن ڈاؤن لوڈ کریں

NewsG24بھارت میں پروپیگنڈہ خبروں کے خلاف ایک مہم ہے، جو انصاف اور سچائی پر یقین رکھتی ہے، آپ کی محبت اور پیار ہماری طاقت ہے!
© NewsG24 Urdu. All Rights Reserved.
  • About Us
  • TERMS AND CONDITIONS
  • Refund policy
  • سپورٹ کریں
  • Privacy Policy
  • پیام شعیب الاولیاء
  • Contact us
Welcome Back!

Sign in to your account

Lost your password?