جشنِ عید میلاد النبی کے موقع پر تقریب یوم امن سے دانشوروں کا خطاب
نئی دہلی:(شاہ خالد مصباحی) جواہر لال نہرو یونیورسٹی (جے این یو)، نئی دہلی کے ایس ایس ایس-1 آڈیٹوریم میں 30 اگست 2026 کو رحمتِ عالم ویلفیئر سوسائٹی، جے این یو کے زیرِ اہتمام حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کی ولادتِ باسعادت کی مناسبت سے ’’یومِ امن‘‘ کے عنوان سے جشنِ عید میلاد النبی کا انعقاد کیا گیا۔ پروگرام کا عین مقصد تعلمیات و اقوال اور سیرتِ نبوی کے ذریعے امن و محبت، مساوات و عدل اور رواداری کے پیغامات کو طلبا و معاشرے کے درمیان فروغ دیا جائے۔
اس تقریب سعید کی صدارت پروفیسر خواجہ اکرام الدین، جے این یو، نئی دہلی نے فرمائی۔ پروگرام میں ہندوستان کے مختلف مرکزی جامعات سے وابستہ ممتاز اساتذہ اور دانشوروں نے شرکت کی اور سیرتِ رسول کے مختلف پہلوؤں پر اظہارِ خیال فرمایا۔
اس موقع پر ڈاکٹر مہر فاطمہ، جامعہ ملیہ اسلامیہ نے حیات نبوی، امن و رواداری، مشترکہ ثقافت اور اسلام نے خواتین کے متعلق جو حقوق مرتب کیے ہیں ان پر پرمغز روشنی ڈالی۔ جب کہ پروفیسر سراج اجملی، علی گڑھ مسلم یونیورسٹی نے خطبہ وداع اور پیغامِ مساوات نبوی کے موضوع پر کلیدی خطبہ پیش کرتے ہوئے فرمایا کہ تمام انسان یک اصل گوہر، آدم سے پیدا کیے گئے ہیں اور آدم کو اللہ تعالیٰ نے مٹی سے پیدا کیا۔ اور رنگ و بو، نسل و خانوادگی کے اعتبار سے تفریق کی جانے والی جرائم کی اپنے خاص شعری انداز میں تسدید فرمائی، اور صفت انسانیت کو تمام چیزوں سے اعلی و ارفع قرار دیا۔
ڈاکٹر مہر فاطمہ، جامعہ ہمدرد یونیورسٹی نے عشق نبوت صلی اللہ علیہ وسلم پر روشنی ڈالتے ہوئے اسلام میں حقیقی انصاف اور امن کی عالمی حقیقت کے پس منظر میں اُجاگر فرمائی۔
پروفیسر اخلاق احمد، جے این یو نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کرام کے دور زندگی میں مکہ و مدینہ اور اس کے اردگرد بڑے بڑے سلطنتوں کے سماجی ، سیاسی و ثقافتی حالات پر روشنی ڈالتے ہوئے پیغمبر محمد کو پیغمبرِ امن و انقلاب قرار دیا۔ اور اسلام کے اہم ترین تعلیمات مثلاً عدل و مساوات پر روشنی ڈالتے ہوئے فرمایا: ایرانی سوسائٹی بھی طبقاتی اعتبار سے چار حصوں میں منقسم تھی۔ چین و عرب تک پھیلی ہوئی فارسی سلطنت صرف بائیس دن میں اسلام کے نظام مساوات سے متاثر صرف نہیں ہوئی بلکہ عربیوں کے تسلط میں آکر مشرف بہ اسلام بھی ہوگئے۔
ڈاکٹر محمد اجمل، جے این یو نے پڑوسیوں کے حقوق کے متعلق ابتدائی خطبہ پیش کرتے ہوئے فرمایا: اسلامی تعلیمات کی روشنی میں پڑوسی کے دائرہ میں بلاتفریق مذاہب سبھی ہندو، مسلم، سکھ ، عیسائی شامل ہیں۔ ہم مسلمانوں کو عملی طور پر اپنی سوسائٹیوں میں آباد لوگوں کے ساتھ رواداری برتنی چاہیے اور دست مدد کو دراز کرنا چاہیے۔ ابوذر فاروقی اور محترمہ رقیہ نعت رسول مقبول صلی اللہ علیہ وسلم پیش فرمائے۔
جلسے سے مخاطب سبھی مقررین نے اپنے خطبات میں سیرتِ نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق ان تمام عالمگیر اصولوں پر روشنی ڈالیں، جس میں درس امن و عدل، رحم و مساوات، اخوت و رواداری اور پڑوسیوں کے حقوق پر مبنی اسلامی تعلیمات کو اُجاگر فرمائیں۔ تقریب کی نظامت آصف بلال نے بحسن وخوبی انجام فرمائی ۔ پروگرام میں جے این یو کے مختلف شعبوں کے طلبا و طالبات ، اساتذہ اور عملہ نے شرکت کی۔
تقریب کا آغاز شام 4/ بجے ایس ایس ایس-1 آڈیٹوریم، جے این یو میں محمد تابش علی کی تلاوتِ قرآن مجید سے ہوا، محمد ابشار چشتی نے رحمت عالم سوسائٹی کا تعارف پیش کیا۔ پروگرام کے اختتام پر شرکاء کے لیے ہائی ٹی کا بھی اہتمام کیا گیا۔ اس موقع پر رحمتِ عالم ویلفیئر سوسائٹی کے صدر ڈاکٹر روح الامین، ڈاکٹر طبیر احمد مصباحی، ابو طلحہ، محمد فیصل، شوکت ، اسامہ سمیت جملہ اراکین و کارکنان شامل تقریب رہے۔





