از:افتخاراحمدقادری، کریم گنج،پورن پور، پیلی بھیت،مغربی اترپردیش۔ ایم. اے اردو گنا کرسک اسناتکوتر مہاودیالیہ پورن پور
معروف اردو شاعر، غزل نگار، دانشور اور پدم شری اعزاز یافتہ ڈاکٹر بشیر بدر کا انتقال اُردو زبان کے ایک پورے عہد کا اختتام ہے۔ ان کے جانے سے اُردو ادب کی وہ روشن شمع بجھ گئی جس کی روشنی میں کئی نسلوں نے محبت، درد، تنہائی، رشتوں کی نزاکت اور زندگی کی تلخیوں کو محسوس کیا۔
ان کی شاعری صرف کتابوں کے صفحات تک محدود نہیں رہی بلکہ لوگوں کی روزمرہ گفتگو، سیاسی تقریروں، مشاعروں، محبت ناموں، اداس راتوں اور تنہائیوں تک میں زندہ رہی۔ وہ ان خوش نصیب شاعروں میں شامل تھے جن کے اشعار خواص کے حلقوں سے نکل کر عوام کی زبان بن گئے۔ ان کے انتقال کی خبر سامنے آتے ہی ادبی دنیا پر سوگواری کی کیفیت طاری ہوگئی۔ سوشل میڈیا پر ان کے اشعار گونجنے لگے، ادبی انجمنوں میں ان کی یادیں تازہ ہونے لگیں اور ہر شخص اپنی پسند کا کوئی نہ کوئی شعر دہرا کر انہیں خراجِ عقیدت پیش کرتا دکھائی دیا۔
ڈاکٹر بشیر بدر کا اصل نام سید محمد بشیر تھا۔ آپ 15 فروری 1935ء کو اتر پردیش کے تاریخی اور مذہبی شہر ایودھیا میں پیدا ہوئے۔ آپ کا تعلق ایک ایسے گھرانے سے تھا جہاں ادب اور زبان سے دلچسپی پائی جاتی تھی۔ بچپن ہی سے آپ کے اندر الفاظ سے کھیلنے اور جذبات کو اشعار میں ڈھالنے کی صلاحیت نمایاں ہونے لگی تھی۔ کہا جاتا ہے کہ آپ نے صرف سات برس کی عمر میں شعر کہنا شروع کردیا تھا۔ یہی ابتدائی ذوق بعد میں اردو شاعری کی ایک عظیم شناخت بن گیا۔ آپ کے والد بھی ادب کے شائق تھے اور گھر کا ماحول علمی و ادبی تھا جس نے بشیر بدر کی شخصیت کو سنوارنے میں اہم کردار ادا کیا۔
ابتدائی تعلیم کے بعد آپ نے علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کا رخ کیا۔ علی گڑھ اس زمانے میں صرف ایک تعلیمی ادارہ نہیں بلکہ اردو تہذیب، ادب اور فکری شعور کا ایک بڑا مرکز سمجھا جاتا تھا۔ آپ نے وہیں سے بی اے، ایم اے اور بعد ازاں پی ایچ ڈی کی تعلیم مکمل کی۔ طالب علمی کے دور ہی میں آپ کی شاعری ادبی حلقوں میں توجہ حاصل کرنے لگی تھی۔ علی گڑھ کے ادبی ماحول نے ان کے شعری شعور کو جلا بخشی اور ان کے اندر موجود شاعر کو ایک واضح سمت عطا کی۔ وہ مشاعروں میں پڑھے جانے لگے اور ان کی غزلوں کو سنجیدگی سے لیا جانے لگا۔ ان کے لہجے میں روایت بھی تھی اور جدت بھی، سادگی بھی تھی اور گہرائی بھی۔ تعلیم مکمل کرنے کے بعد آپ تدریس کے شعبے سے وابستہ ہوگئے۔
آپ نے علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں تدریسی خدمات انجام دیں جبکہ بعد میں میرٹھ کالج میں شعبہ اردو کے صدر اور لکچرر کے طور پر تقریباً سترہ برس تک خدمات انجام دیتے رہے۔ آپ صرف شاعر ہی نہیں بلکہ ایک سنجیدہ استاد اور محقق بھی تھے۔ آپ کی شخصیت میں علم، تہذیب، شائستگی اور فکری وقار نمایاں تھا۔ آپ کے شاگرد آج بھی آپ احترام سے یاد کرتے ہیں۔ آپ کا اندازِ تدریس اتنا متاثر کن تھا کہ طلبہ صرف زبان ہی نہیں بلکہ ادب کی روح کو بھی سمجھنے لگتے تھے۔
بشیر بدر کی شاعری کی سب سے بڑی خوبی اس کی سادگی تھی۔ انہوں نے مشکل الفاظ، ثقیل تراکیب اور پیچیدہ استعاروں کے بجائے عام فہم زبان کو اختیار کیا۔ یہی وجہ ہے کہ ان کے اشعار براہِ راست دل میں اتر جاتے تھے۔ وہ ایسے شاعر تھے جو قاری کو لفظوں کے بھاری پن سے متاثر نہیں کرتے تھے بلکہ احساسات کی شدت سے اپنے ساتھ باندھ لیتے تھے۔ ان کے یہاں محبت محض رومان نہیں بلکہ انسانی وجود کی ایک گہری کیفیت بن کر سامنے آتی ہے۔ جدائی صرف فراق نہیں بلکہ اندر ٹوٹ جانے کا احساس بن جاتی ہے۔ تنہائی صرف ایک لمحہ نہیں بلکہ زندگی کا مستقل سایہ محسوس ہوتی ہے۔
ان کی غزلوں میں انسانی رشتوں کی نزاکت، بدلتے سماجی رویے، بے وفائیاں، فاصلے، محبت، یاد، اداسی اور وقت کی بے ثباتی کو نہایت خوبصورتی سے بیان کیا گیا۔ یہی وجہ ہے کہ ان کے کئی اشعار زبان زدِ عام ہوگئے۔ ان کا یہ شعر آج بھی ہر دور کی سچائی معلوم ہوتا ہے:
کوئی ہاتھ بھی نہ ملائےگاجوگلےملو گےتپاک سے
یہ نئے مزاج کا شہر ہے ذرا فاصلے سے ملا کرو
یہ شعر رومانوی احساس نہیں بلکہ بدلتے معاشرے کی مکمل تصویر ہے۔ آج کے دور میں رشتوں کی مصنوعیت انسانوں کے درمیان بڑھتی دوری اور جذبات کے سرد پڑتے موسم کو بشیر بدر نے صرف دو مصرعوں میں سمو دیا۔
اسی طرح ان کا یہ شعر بھی زندگی کی حقیقت بیان کرتا ہے:
شہرت کی بلندی بھی اک پل کا تماشا ہے
جس شاخ پہ بیٹھے ہو وہ ٹوٹ بھی سکتی ہے
یہ شعر انسان کو غرور، تکبر اور دنیاوی کامیابیوں کی حقیقت یاد دلاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ یہ شعر صرف ادبی محفلوں میں نہیں بلکہ سیاسی تقاریر اور سماجی گفتگو میں بھی بار بار سنائی دیتا ہے۔ بشیر بدر کی شاعری کی اصل طاقت یہی تھی کہ وہ ہر طبقے کے انسان کو اپنے اندر کی آواز محسوس ہوتی تھی۔
بشیر بدر کی زندگی کا سب سے بڑا سانحہ 1987ء کے میرٹھ فسادات تھے۔ ان فسادات میں ان کا گھر جلا دیا گیا۔ اس آتش زدگی میں صرف اینٹیں اور سامان ہی نہیں جلے بلکہ برسوں کا ادبی سرمایہ، قیمتی کتابیں، یادیں اور تخلیقی اثاثے بھی خاکستر ہوگئے۔ یہ حادثہ ان کی زندگی پر گہرا اثر چھوڑ گیا۔ اس سانحے کے بعد وہ میرٹھ چھوڑ کر بھوپال منتقل ہوگئے۔ کہا جاتا ہے کہ اس واقعے کے بعد ان کی شاعری میں درد اور گہرائی مزید بڑھ گئی۔ ان کے اشعار میں بچھڑنے، ٹوٹنے، اجڑنے اور تنہائی کے احساسات زیادہ شدت کے ساتھ ابھرنے لگے۔ ان کا مشہور شعر:
لوگ ٹوٹ جاتے ہیں ایک گھر بنانے میں
تم ترس نہیں کھاتے بستیاں جلانے میں
یہ صرف ایک شعر نہیں بلکہ فسادات، نفرت، تشدد اور انسانیت کے زخموں کی پوری داستان ہے۔ اس شعر نے نہ صرف اردو ادب بلکہ سماجی شعور پر بھی گہرا اثر ڈالا۔ بشیر بدر نے اپنی ذات کے دکھ کو پوری انسانیت کے دکھ میں تبدیل کردیا تھا۔ انہوں نے اردو غزل کو ایک نیا لہجہ عطا کیا۔ روایتی غزل میں محبوب، ساقی اور میخانے کی دنیا کے ساتھ ساتھ انہوں نے جدید زندگی کے مسائل، بدلتے رشتے، شہری تنہائی اور انسان کی داخلی شکست کو بھی شامل کیا۔ ان کی شاعری میں روایت کا حسن بھی تھا اور جدید احساسات کی تازگی بھی۔ یہی وجہ ہے کہ نئی نسل بھی ان کی شاعری سے جڑتی چلی گئی۔ بشیر بدر صرف اردو تک محدود نہیں تھے۔ انہیں اردو، فارسی، ہندی اور انگریزی زبانوں پر عبور حاصل تھا۔ ان کی کئی غزلیں دیوناگری رسم الخط میں بھی شائع ہوئیں، جس کے ذریعے ہندی قارئین تک بھی ان کا کلام پہنچا۔ ان کے شعری مجموعوں کے انگریزی اور فرانسیسی زبانوں میں تراجم بھی ہوئے۔ انہوں نے عالمی سطح پر اردو زبان کو متعارف کرانے میں اہم کردار ادا کیا۔ امریکہ، دبئی، قطر، پاکستان اور دیگر کئی ممالک میں ہونے والے عالمی مشاعروں میں شرکت کرکے انہوں نے اردو شاعری کا وقار بلند کیا۔ ان کے شعری مجموعوں میں آمد، آہٹ، امیج، اکائی، آس اور کلیاتِ بشیر بدر کو خصوصی شہرت حاصل ہوئی۔ ان کا مجموعہ آس جدید اردو شاعری کا اہم سرمایہ سمجھا جاتا ہے۔ ان کے یہاں صرف جذبات ہی نہیں بلکہ فکری گہرائی بھی موجود تھی۔ شاعری کے ساتھ ساتھ انہوں نے اردو تنقید میں بھی اہم خدمات انجام دیں۔ ان کی کتابیں آزادی کے بعد اردو غزل کا تنقیدی مطالعہ اور بیسویں صدی میں غزل اردو تنقید میں معتبر مقام رکھتی ہیں۔ اردو ادب میں ان کی خدمات کے اعتراف میں انہیں کئی اعزازات سے نوازا گیا۔ ہندوستان کے باوقار شہری اعزاز پدم شری سے انہیں سرفراز کیا گیا۔ اس کے علاوہ اتر پردیش اردو اکیڈمی نے انہیں چار مرتبہ ایوارڈ دیا جبکہ بہار اردو اکیڈمی نے بھی ان کی خدمات کا اعتراف کیا۔ انہیں “میر اکیڈمی ایوارڈ” اور نیویارک میں پوئٹ آف دی ایئر 1980 جیسے بین الاقوامی اعزازات بھی حاصل ہوئے۔ یہ تمام اعزازات دراصل اس بات کا اعتراف تھے کہ بشیر بدر صرف ایک شاعر نہیں بلکہ اردو ادب کا ایک روشن باب تھے۔ ان کی شاعری کی مقبولیت کا اندازہ اس بات سے بھی لگایا جاسکتا ہے کہ ان کے اشعار صرف مشاعروں تک محدود نہیں رہے بلکہ فلموں، سیاسی جلسوں، اخباری مضامین، تقریروں اور عام گفتگو کا حصہ بن گئے۔ نوجوان محبت کے اظہار میں ان کے اشعار استعمال کرتے تھے جبکہ اداس دل تنہائی کے لمحوں میں انہی کے لفظوں میں اپنا درد تلاش کرتے تھے۔ ان کے یہاں درد کی ایسی شائستگی تھی جو قاری کو رُلانے کے ساتھ ساتھ سوچنے پر بھی مجبور کرتی تھی۔
ڈاکٹر بشیر بدر گزشتہ کئی برسوں سے بھوپال میں گوشہ نشینی کی زندگی گزار رہے تھے۔ وہ یادداشت سے متعلق بیماری میں مبتلا تھے، جس کے باعث ان کی گفتگو اور حافظہ متاثر ہوگیا تھا۔ لیکن شاعری سے ان کا تعلق آخری وقت تک قائم رہا۔ ان کے قریبی افراد کے مطابق جب کوئی ان کے سامنے ان کی غزلیں پڑھتا تھا تو ان کے چہرے پر مسکراہٹ آجاتی تھی۔ وہ اشعار سن کر داد دیے بغیر نہیں رہتے تھے۔ یہ منظر اس بات کا ثبوت تھا کہ شاعری ان کے لیے صرف فن نہیں بلکہ زندگی تھی۔ ان کے انتقال کے بعد اردو ادب میں جو خلا پیدا ہوا ہے وہ آسانی سے پُر ہونے والا نہیں۔ وہ ان شاعروں میں شامل تھے جنہوں نے اردو غزل کو عوامی سطح پر نئی زندگی دی۔ ان کی شاعری میں وہ سچائی، سادگی اور تاثیر تھی جو بہت کم شاعروں کو نصیب ہوتی ہے۔ آج جب اردو ادب کے بڑے ناموں کا ذکر ہوگا تو بشیر بدر کا نام احترام، محبت اور عقیدت کے ساتھ لیا جائے گا۔
ان کے اشعار آنے والے زمانوں میں بھی زندہ رہیں گے۔ نئی نسلیں بھی ان کی غزلوں میں اپنی محبتیں، اداسیاں، خواب اور شکستیں تلاش کرتی رہیں گی۔ وہ جسمانی طور پر اس دنیا سے رخصت ہوگئے ہیں لیکن ان کے لفظ ہمیشہ زندہ رہیں گے۔ ان کی شاعری اردو ادب کے افق پر ہمیشہ جگمگاتی رہے گی۔ بشیر بدر نے ثابت کیا کہ شاعری صرف مشکل الفاظ کا کھیل نہیں بلکہ دلوں کی زبان ہے۔ وہ ایسے شاعر تھے جنہوں نے لاکھوں لوگوں کے احساسات کو لفظوں میں ڈھالا۔ ان کے اشعار میں محبت بھی ہے، درد بھی، فلسفہ بھی اور زندگی کی سچائی بھی۔ یہی وجہ ہے کہ وہ صرف ایک شاعر نہیں بلکہ ایک عہد کی آواز بن گئے۔ آج جب ان کی رحلت پر پورا ادبی منظرنامہ سوگوار ہے تو یہ احساس اور بھی گہرا ہو جاتا ہے کہ اردو ادب نے واقعی اپنا ایک بڑا سرمایہ کھو دیا ہے۔ مگر بڑے فنکار کبھی مکمل طور پر نہیں مرتے۔ وہ اپنی تخلیقات میں زندہ رہتے ہیں۔ بشیر بدر بھی اپنے اشعار، غزلوں اور لفظوں کی خوشبو میں ہمیشہ زندہ رہیں گے۔
اڑنے دو پرندوں کو ابھی شوخ ہوا میں
پھر لوٹ کے بچپن کے زمانے نہیں آتے
یہ شعر بھی شاید آج خود بشیر بدر کی زندگی کی سب سے خوبصورت تعبیر معلوم ہوتا ہے۔ وقت گزر جاتا ہے، لوگ رخصت ہو جاتے ہیں مگر کچھ آوازیں تاریخ کے حافظے میں ہمیشہ باقی رہتی ہیں۔ بشیر بدر بھی انہی آوازوں میں شامل ہوگئے ہیں جنہیں اردو ادب کبھی فراموش نہیں کرسکے گا۔





