

اردو کی خدمت میں ایک بے صلہ مسافر کی داستان
تحریر۔ شیزا جلال پوری
جلالپور، اترپردیش
شاعری ایک ایسی صنف ہے جو ایک تخلیق کار کی امنگوں خواہشوں اور حوصلوں میں خوشگوار اضافہ کرتی ہے، اور زندگی کے مشکل مرحلوں میں بھی اعتماد کے ساتھ گزرنے کا حوصلہ بخشتی ہے- ذہن کے پردے پر ابھرنے والی تصویروں کی ہلکی سی جھلک بھی جب صفحۀ قرطاس پر اجاگر ہوتی ہے تو قارئین کا دل طمانیت کی عجیب و غریب کیفیت سے سرشار ہو جاتا ہے۔
ادب کی دنیا میں کچھ نام ایسے ہوتے ہیں جو شور نہیں مچاتے، اشتہار نہیں بنتے، مگر وقت کی دھیمی رفتار میں اپنی شناخت خود تراش لیتے ہیں، یہ وہ لوگ ہوتے ہیں جو چراغ کی طرح جلتے ہیں، روشنی بانٹتے ہیں اور اندھیروں سے الجھتے رہتے ہیں، بڑے شاعروں اور ادیبوں کی روایت رہی ہے کہ وہ ایسے خاموش خدامِ اردو کو سلام پیش کرتے ہیں جو کسی صلے، کسی منصب یا کسی مفاد کے بغیر زبان و ادب کی خدمت میں جٹے رہتے ہیں۔
ذکی طارق بارہ بنکوی کا نام بھی انہی چراغوں میں شامل ہے، جن کی لو مدھم نہیں پڑتی، بلکہ وقت کے ساتھ ساتھ اور نکھرتی جاتی ہے۔ وہ اپنی محنت اور لگن سے نہ صرف اردو کے علم و ادب کا خزانہ بڑھا رہے ہیں بلکہ نئی نسل کے لیے بھی ایک روشنی کا مینار بنے ہوئے ہیں۔ ایسے خادم کو میں سلام پیش کرتی ہوں، جو خاموشی سے، استقلال کے ساتھ اردو کی خدمت میں مصروف ہے اور جس کی ہر تحریر، ہر لفظ زبان کی عظمت کا پیغام بنتا ہے۔
ان کا تعلق اترپردیش کے ضلع بارہ بنکی کے قصبہ سعادت گنج سے ہے، جو ادب اور اردو شاعری کے لیے اپنی الگ پہچان رکھتا ہے۔ یہ قصبہ نہ صرف علم و ادب کے مرکز کی وجہ سے مشہور ہے بلکہ اردو زبان اور شاعری کے شائقین کے لیے ایک روشن نقطہ بھی ہے۔ ذکی طارق نے اسی فضا میں سانس لی، اسی مٹی کے لمس سے الفاظ کی نزاکت اور زبان کی لطافت سیکھی، اور یوں اپنے قصبے کے ادب کو ایک نیا وقار بخشا ہے۔
ایسے دور میں جب ادبی خدمات اکثر شہرت اور تشہیر کے سہارے پہچانی جاتی ہیں، خاموش خدمت کی قدر کم ہوتی جا رہی ہے، ذکی طارق بارہ بنکوی اسی خاموشی میں اپنی پہچان بنا چکے ہیں۔ ادب اور صحافت کی دنیا میں کچھ لوگ روشنی کی طرح ہوتے ہیں، جو خود تو خاموش رہتے ہیں مگر ان کی چمک دور تک اپنا اثر چھوڑتی ہے۔
ان کی شاعری میں احتیاطِ نظر، وقارِ لہجہ اور تہذیبی شعور کی جھلک صاف دکھائی دیتی ہے۔ اس کیفیت کو ان کے ایک شعر میں یوں محسوس کیا جا سکتا ہے:
جسم کی آنچ سے روح جلنے لگی
اتنے نزدیک آنا نہیں چاہئے
یہی وہ وقار اور سنجیدگی ہے جو ان کی تحریر اور گفتگو دونوں میں جھلکتی ہے۔
ذکی طارق نہ صرف ایک سنجیدہ شاعر ہیں بلکہ ایک باخبر اور غیر جانب دار صحافی بھی ہیں۔ ان کے اندر روایت کا احترام بھی ہے اور جدید تقاضوں کا ادراک بھی۔
اگر غور سے دیکھا جائے تو ذکی طارق بارہ بنکوی کی پہچان صرف ان کی شاعری تک محدود نہیں رہتی۔ ان کے لفظ ملک و بیرونِ ملک کے تمامی معیاری اخبارات، رسائل اور ادبی پورٹلز کے ذریعے دور دور تک پہنچے ہوئے ہیں اور یوں بارہ بنکی کا نام وسیع ادبی حلقوں میں احترام کے ساتھ لیا جانے لگا ہے۔ سرحد پار کے اخبارات، جنگ کے سنڈے میگزین اور کئی ادبی رساٸل میں ان کے کلام اور ان کی شعوری شخصیت پر لکھے گئے مضامین کی اشاعت اس بات کی شہادت ہے کہ ان کا قلم سرحدوں کا پابند نہیں رہا۔
یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ جہاں جہاں اردو کے رسائل و اخبارات شائع ہوتے اور پہنچتے ہیں، وہاں وہاں ان کے کلام اور ان کے نام کی خوشبو بھی محسوس کی جا سکتی ہے۔ مگر اس شناخت کے پیچھے ایک طویل خاموش محنت چھپی ہے۔ وہ محنت جو کتابت کے دنوں میں مختلف اردو اخبارات کی میزوں پر صرف ہوئی۔ انہی دنوں میں انہوں نے زبان کی نزاکت، املا کی دیانت اور خبر کی پیشکش کے قرینے سیکھے، جو آج ان کی شاعری اور ادارت دونوں میں جھلکتے ہیں۔
ان کی نعتیہ شاعری ایک قلبی لگاؤ کا مظہر ہے، جس میں جذبہ، سادگی اور ادب کا خوبصورت امتزاج ہے۔ وہ نعت گوئی کو محض صنفِ شاعری نہیں بلکہ اپنے عقیدے، تہذیب اور سیرت کے اظہار کا ذریعہ سمجھتے ہیں۔ اس جذبے کی جھلک ان اشعار میں دیکھی جا سکتی ہے:
پیارا نبی ایمان عطا کرنے آیا
مردہ تھے ہم، جان عطا کرنے آیا
جس طرح اک پھول ہو خاروں کے بیچ
یوں نبی لگتے تھے کفاروں کے بیچ
کرم آمیز، دلآویز، کیف انگیز کتنا ہے
مرے آقا کا اسمِ پاک راحت خیز کتنا ہے
دل کی دھڑکن میں بھی فکرِ امت رہی
میرے سرکار کا سوچنا سوچئے
یہ اشعار محض عقیدت کا اظہار نہیں ہیں بلکہ ایک عاشقِ رسولﷺ کے دل کی سچی صدا ہیں۔ یہاں کوئی تصنع نہیں، کوئی بناوٹ نہیں بس دل کی زبان ہے جو لفظوں میں ڈھل گئی ہے۔
نعت کے ساتھ ساتھ ان کی غزلیں بھی قاری کو ایک الگ ہی دنیا میں لے جاتی ہیں۔ وہاں محبت ہے تو اس کے ساتھ ذمہ داری کا احساس بھی ہے، جذبہ ہے تو اس کے ساتھ شعور کی آنچ بھی۔ مثال کے طور پر:
تجھے اپنا کے ماں کو چھوڑ تو دیں
مگر قدموں میں جنت ہے کریں کیا
یہ شعر رشتوں کی حرمت اور اخلاقی ترجیحات کا ایک خاموش مگر گہرا اعلان ہے۔ اسی طرح:
شفقت کے آس پاس مروت کے آس پاس
پاؤ گے ہم کو صرف محبت کے آس پاس
یہ اشعار بتاتے ہیں کہ ان کے یہاں محبت محض جذبہ نہیں بلکہ ایک تہذیبی قدر ہے۔
ذکی طارق بارہ بنکوی کا ایک شعری مجموعہ "الفاظ نگر” اردو اور ہندی زبان میں شائع ہو چکا ہے، جسے اہلِ ذوق نے پسندیدگی کی نظر سے دیکھا۔ اس کے علاوہ ایک نعتیہ مجموعہ زیرِ ترتیب ہے، جو ان کے فکری اور روحانی سفر کی ایک اور جھلک پیش کرے گا۔ یہ تسلسل اس بات کی دلیل ہے کہ وہ شاعری کو وقتی شوق نہیں بلکہ عمر بھر کی ذمہ داری سمجھتے ہیں۔
بحیثیت مدیر، وہ گزشتہ چار برسوں سے ہفت روزہ "صدائے بسمل” اپنے ذاتی وسائل سے شائع کر رہے ہیں اور اب پانچویں سال میں قدم رکھ چکے ہیں۔ یہ سفر محض اشاعت کا نہیں، صبر، برداشت اور مسلسل قربانیوں کا سفر ہے، جہاں اکثر راستے تنہا طے کرنے پڑتے ہیں۔ ایسے زمانے میں جب صحافت اکثر تجارتی مفادات یا دباؤ کی نذر ہو جاتی ہے، وہ خاموشی سے اردو کی خدمت میں لگے ہوئے ہیں۔ یہ خدمت کسی سرکاری منصب یا مالی سہولت کے سہارے نہیں، بلکہ خالص ذاتی محنت اور زبان سے محبت کے جذبے کے تحت انجام پا رہی ہے۔
یہ بھی کم اہم نہیں کہ وہ آج بھی اپنے قصبے کے ایک انٹر کالج میں اردو پڑھاتے ہیں۔نجی حیثیت سے، کسی سرکاری عہدے یا مراعات کے بغیر۔ ان کی تدریس محض سبق پڑھانا نہیں، بلکہ نئی نسل کے ذہن میں زبان کی محبت اور لفظوں کی حرمت بٹھانا ہے۔ شاید اسی لیے ان کی تحریر میں زمین سے جڑا ہوا سچ بولتا ہے اور ان کے لہجے میں دکھ سکھ کی سمجھ نظر آتی ہے۔ شاعری کی پرواز ہو یا کتابت کی مشقت، ادارت کی ذمہ داری ہو یا تدریس کی خدمت ان سب راستوں پر چلتے ہوئے انہوں نے لفظوں کو محض ذریعۂ اظہار نہیں رہنے دیا، بلکہ انہیں لوگوں کے دلوں تک پہنچنے کا وسیلہ بنا دیا ہے۔
ایسے خادمِ اردو کو سلام پیش کرنا بنتا ہے، جو کسی مفاد یا صلے کے بغیر خاموشی سے اپنی زبان کی خدمت میں جُتا ہوا ہے۔ واقعی، ذکی طارق بارہ بنکوی کے لیے “اردو کا سچا خادم” کا لقب موزوں معلوم ہوتا ہے۔ ایسے لوگوں کی موجودگی ہی کسی زبان کی اصل زندگی ہوتی ہے، ورنہ زبانیں صرف کتابوں میں دفن ہو جایا کرتی ہیں۔
ذکی ڈوب کر عشقِ سرکار میں
بچی زندگی خوبصورت کرو
یہ شعر محض نعتیہ جذبہ نہیں، بلکہ ایک مکمل طرزِ زندگی کا اعلان ہے۔ایسا طرزِ زندگی جس میں خدمت، محبت، وقار اور سچائی ساتھ ساتھ چلتے ہیں۔




