By using this site, you agree to the Privacy Policy and Terms of Us
Accept
NewsG24UrduNewsG24UrduNewsG24Urdu
  • سرورق
  • آج کل
  • سیاست
  • عالمی خبریں
  • سپورٹ کریں
  • Hindi
Search
  • اتصل
  • مقالات
  • شكوى
  • يعلن
© NewsG24 Urdu. All Rights Reserved.
Reading: مہاراشٹر میں یونیفارم سول کوڈ (UCC) کے خلاف اپنی رائے کیسے درج کریں؟
Share
Notification Show More
Font ResizerAa
NewsG24UrduNewsG24Urdu
Font ResizerAa
  • سرورق
  • آج کل
  • سیاست
  • عالمی خبریں
  • سپورٹ کریں
  • Hindi
Search
  • سرورق
  • آج کل
  • سیاست
  • عالمی خبریں
  • سپورٹ کریں
  • Hindi
Have an existing account? Sign In
Follow US
NewsG24Urdu > Blog > Blog > مہاراشٹر میں یونیفارم سول کوڈ (UCC) کے خلاف اپنی رائے کیسے درج کریں؟
Blog

مہاراشٹر میں یونیفارم سول کوڈ (UCC) کے خلاف اپنی رائے کیسے درج کریں؟

Last updated: اکتوبر 21, 2026 5:56 صبح
newsg24urdu 5 گھنٹے ago
how can fill Maharashtra UCC suggestion from
مہاراشٹر میں یونیفارم سول کوڈ (UCC) کے خلاف اپنی رائے کیسے درج کریں؟ مکمل رہنما گائیڈ، سوال نمبر 1 سے 37 تک جوابات کے ساتھ
SHARE

مکمل رہنما گائیڈ، سوال نمبر 1 سے 37 تک جوابات کے ساتھ

مہاراشٹر حکومت نے یونیفارم سول کوڈ (UCC) کے سلسلے میں عوام سے تجاویز اور آراء طلب کی ہیں۔ یہ موقع ہے کہ ہم آئینی حقوق، مذہبی آزادی اور اپنے عائلی قوانین کے تحفظ کے حوالے سے اپنی رائے حکومت تک پہنچائیں۔

مشمولات
مکمل رہنما گائیڈ، سوال نمبر 1 سے 37 تک جوابات کے ساتھمرحلہ نمبر 1: سرکاری پورٹل پر جائیںمرحلہ نمبر 2: ذاتی معلومات کا فارم پُر کریںمرحلہ نمبر 3: سوال نمبر 1 سے 31 تک YES اور NO منتخب کریںحصہ اول: سوالات اور ان کے جواباتسوال نمبر 1سوال نمبر 2سوال نمبر 3سوال نمبر 4سوال نمبر 5سوال نمبر 6سوال نمبر 7سوال نمبر 8سوال نمبر 9سوال نمبر 10سوال نمبر 11سوال نمبر 12سوال نمبر 13سوال نمبر 14سوال نمبر 15سوال نمبر 16سوال نمبر 17سوال نمبر 18سوال نمبر 19سوال نمبر 20سوال نمبر 21سوال نمبر 22سوال نمبر 23سوال نمبر 24سوال نمبر 25سوال نمبر 26سوال نمبر 27سوال نمبر 28سوال نمبر 29سوال نمبر 30سوال نمبر 31مرحلہ نمبر 4: سوال نمبر 32 سے 37 تک انگریزی جوابات کاپی پیسٹ کریںسوال نمبر 32سوال نمبر 33سوال نمبر 34سوال نمبر 35سوال نمبر 36سوال نمبر 37مرحلہ نمبر 5: فارم جمع کرنے سے پہلے ان باتوں کا خیال رکھیںایک اہم آئینی نکتہ: اپنی رائے میں کیا مؤقف اختیار کیا جا رہا ہے؟آخری اپیلمہاراشٹر میں یونیفارم سول کوڈ (UCC) کے خلاف اپنی رائے کیسے درج کریں؟ مکمل رہنما گائیڈ، سوال نمبر 1 سے 37 تک جوابات کے ساتھمرحلہ نمبر 1: سرکاری پورٹل پر جائیںمرحلہ نمبر 2: ذاتی معلومات کا فارم پُر کریںمرحلہ نمبر 3: سوال نمبر 1 سے 31 تک YES اور NO منتخب کریںحصہ اول: سوالات اور ان کے جواباتسوال نمبر 1سوال نمبر 2سوال نمبر 3سوال نمبر 4سوال نمبر 5سوال نمبر 6سوال نمبر 7سوال نمبر 8سوال نمبر 9سوال نمبر 10سوال نمبر 11سوال نمبر 12سوال نمبر 13سوال نمبر 14سوال نمبر 15سوال نمبر 16سوال نمبر 17سوال نمبر 18سوال نمبر 19سوال نمبر 20سوال نمبر 21سوال نمبر 22سوال نمبر 23سوال نمبر 24سوال نمبر 25سوال نمبر 26سوال نمبر 27سوال نمبر 28سوال نمبر 29سوال نمبر 30سوال نمبر 31مرحلہ نمبر 4: سوال نمبر 32 سے 37 تک انگریزی جوابات کاپی پیسٹ کریںسوال نمبر 32سوال نمبر 33سوال نمبر 34سوال نمبر 35سوال نمبر 36سوال نمبر 37مرحلہ نمبر 5: فارم جمع کرنے سے پہلے ان باتوں کا خیال رکھیںایک اہم آئینی نکتہ: اپنی رائے میں کیا مؤقف اختیار کیا جا رہا ہے؟آخری اپیل

اس مقصد کے لیے مہاراشٹر حکومت کے یونیفارم سول کوڈ کمیٹی کے سرکاری پورٹل پر ایک آن لائن فارم جاری کیا گیا ہے۔ اس فارم میں ذاتی معلومات درج کرنے کے بعد مجموعی طور پر 37 سوالات کے جوابات دینے ہیں۔

اس مضمون میں فارم بھرنے کا مکمل طریقہ، ہر سوال کے سامنے YES یا NO منتخب کرنے کی ہدایت، اور سوال نمبر 32 سے 37 تک کے لیے انگریزی میں تیار شدہ جوابات دیے جا رہے ہیں۔

اہم ہدایت: فارم میں دیے گئے جوابات کو غور سے پڑھیں۔ سوال نمبر 32 سے 37 تک دی گئی انگریزی تحریروں کو متعلقہ خانوں میں کاپی پیسٹ کیا جا سکتا ہے۔

- Advertisement -
Ad imageAd image

مرحلہ نمبر 1: سرکاری پورٹل پر جائیں

سب سے پہلے مہاراشٹر حکومت کے یونیفارم سول کوڈ سے متعلق سرکاری پورٹل پر جائیں۔

پورٹل پر آپ کو یہ عنوان نظر آئے گا:

Uniform Civil Code Committee, Maharashtra, 2026

اس کے بعد Individual کے آپشن کو منتخب کریں، کیونکہ یہ رہنما گائیڈ انفرادی طور پر اپنی رائے درج کرنے والوں کے لیے ہے۔

اس کے بعد آپ کے سامنے ذاتی معلومات درج کرنے کا فارم کھل جائے گا۔

- Advertisement -

مرحلہ نمبر 2: ذاتی معلومات کا فارم پُر کریں

اس مرحلے میں اپنی معلومات درست طریقے سے درج کریں۔

نمبرفارم میں درج معلوماتکیا لکھنا ہے؟
1First Nameاپنا پہلا نام
2Father’s / Husband’s Nameوالد یا شوہر کا نام
3Last Nameاپنا خاندانی نام
4Mobile Numberاپنا فعال موبائل نمبر
5Religionاپنا مذہب منتخب کریں
6Categoryاپنی متعلقہ کیٹیگری منتخب کریں
7GenderMale یا Female، حسبِ ضرورت
8Ageاپنی عمر منتخب کریں
9StateMaharashtra منتخب کریں، اگر آپ مہاراشٹر کے رہائشی ہیں
10Districtاپنا ضلع منتخب کریں
11Talukaاپنی متعلقہ تحصیل منتخب کریں
12Addressاپنا مکمل پتہ درج کریں

ضروری ہدایات:

  • جن خانوں کے ساتھ سرخ ستارہ (*) لگا ہے، انہیں بھرنا ضروری ہے۔
  • موبائل نمبر درست درج کریں، کیونکہ اس کی تصدیق کی جا سکتی ہے۔
  • اپنے نام، عمر، مذہب اور پتے سمیت تمام معلومات درست درج کریں۔
  • ضلع اور تعلقہ منتخب کرتے وقت اپنے رہائشی علاقے کا خیال رکھیں۔

تمام ضروری معلومات درج کرنے کے بعد اگلے مرحلے کی طرف بڑھیں۔

- Advertisement -

مرحلہ نمبر 3: سوال نمبر 1 سے 31 تک YES اور NO منتخب کریں

اس حصے میں حکومت نے یونیفارم سول کوڈ کے مختلف پہلوؤں کے بارے میں سوالات پوچھے ہیں۔

نیچے ہر سوال کا نمبر، اس کا اردو مفہوم اور اس گائیڈ میں تجویز کردہ جواب دیا گیا ہے۔

اہم وضاحت: یہ جوابات مذہبی آزادی، آئینی حقوق اور مختلف مذہبی برادریوں کے شخصی قوانین کے تحفظ کو ترجیح دینے والے مؤقف کی عکاسی کرتے ہیں۔ یہ سرکاری کمیٹی کی رائے نہیں، بلکہ عوامی فارم بھرنے کے لیے ایک تجویز کردہ جواب نامہ ہے۔

حصہ اول: سوالات اور ان کے جوابات

سوال نمبر 1

کیا آپ موجودہ وقت میں مہاراشٹر میں یونیفارم سول کوڈ نافذ کرنے کی حمایت کرتے ہیں؟

جواب: NO

سوال نمبر 2

کیا آپ کے خیال میں مذہبی آزادی کے حق کو متاثر کیے بغیر یونیفارم سول کوڈ نافذ کیا جا سکتا ہے؟

جواب: NO

سوال نمبر 3

کیا آپ سمجھتے ہیں کہ یونیفارم سول کوڈ نافذ کرنے سے صنفی مساوات اور سماجی انصاف کو فروغ ملے گا؟

جواب: NO

سوال نمبر 4

کیا آپ کے خیال میں یونیفارم سول کوڈ کے نفاذ سے قانونی تنازعات کم ہوں گے اور قانونی کارروائی زیادہ مؤثر ہو جائے گی؟

جواب: NO

سوال نمبر 5

کیا شادی، طلاق اور دیگر متعلقہ معاملات کے اندراج اور ریکارڈ رکھنے کے لیے ایک مشترکہ نظام ہونا چاہیے؟

جواب: NO

سوال نمبر 6

شادی کی کم از کم عمر کیا ہونی چاہیے؟

  • مردوں کے لیے: 18 سال منتخب کریں۔
  • خواتین کے لیے: 18 سال منتخب کریں۔

سوال نمبر 7

کیا شادی کے لیے ممنوع رشتوں کی ایک معیاری فہرست ہونی چاہیے؟

جواب: NO

سوال نمبر 8

کیا کسی شخص کو موجودہ شادی برقرار رہنے کے دوران دوسری شادی کرنے سے روکنا چاہیے؟

جواب: NO

سوال نمبر 9

کیا باطل اور قابلِ فسخ شادیوں کی وجوہات اور نتائج کے لیے یکساں دفعات ہونی چاہئیں؟

جواب: NO

سوال نمبر 10

کیا یونیفارم سول کوڈ میں مذہبی رسومات اور روایتی طریقوں، مثلاً نکاح کی مذہبی تقریب، کو برقرار رکھا جانا چاہیے؟

جواب: YES

سوال نمبر 11

کیا تمام مذہبی برادریوں کے لیے طلاق کی یکساں وجوہات اور طریقۂ کار ہونا چاہیے؟

جواب: NO

سوال نمبر 12

کیا مردوں اور عورتوں کے لیے طلاق کی وجوہات یکساں ہونی چاہئیں؟

جواب: NO

سوال نمبر 13

کیا یونیفارم سول کوڈ کو عدالتی کارروائی کے بغیر طلاق دینے کے طریقوں پر پابندی لگانی چاہیے؟

جواب: NO

سوال نمبر 14

کیا طلاق اور شادی کی منسوخی کا اندراج لازمی قرار دیا جانا چاہیے؟

جواب: NO

سوال نمبر 15

کیا طلاق یافتہ شریکِ حیات سے دوبارہ شادی کرنے کے لیے کسی شرط، مثلاً تیسرے شخص سے شادی کرنے کی شرط، کو لازمی قرار دینا چاہیے؟

جواب: Yes

سوال نمبر 16

کیا ازدواجی تنازعات میں نان و نفقہ کے دعووں کے لیے یکساں اور صنفی غیر جانب دار دفعات ہونی چاہئیں؟

جواب: NO

سوال نمبر 17

کیا والدین کے مذہب سے قطع نظر، زیرِ کفالت بچوں کے نان و نفقہ کے لیے یکساں قانون ہونا چاہیے؟

جواب: NO

سوال نمبر 18

کیا مالی طور پر صاحبِ استطاعت بالغ بچوں کے لیے اپنے زیرِ کفالت والدین کی کفالت کا یکساں قانونی فریضہ ہونا چاہیے؟

جواب: YES

سوال نمبر 19

کیا بچوں کی تحویل سے متعلق معاملات میں بچے کی فلاح اور بہترین مفاد کو سب سے زیادہ اہمیت دی جانی چاہیے؟

جواب: YES

سوال نمبر 20

کیا والدین کی ازدواجی حیثیت سے قطع نظر تمام بچوں کو وراثت میں یکساں حقوق ملنے چاہئیں؟

جواب: NO

سوال نمبر 21

کیا کسی شخص کے وصیت کیے بغیر انتقال کر جانے کی صورت میں، فریقین کے مذہب سے قطع نظر، وراثت کے لیے یکساں دفعات ہونی چاہئیں؟

جواب: NO

سوال نمبر 22

کیا وصیت اور وصیت کے ذریعے وراثت منتقل کرنے کے لیے تمام مذاہب میں یکساں دفعات ہونی چاہئیں؟

جواب: NO

سوال نمبر 23

کیا تمام مذہبی برادریوں میں مردوں اور عورتوں کو وراثت کے یکساں حقوق ملنے چاہئیں؟

جواب: NO

سوال نمبر 24

کیا کسی شخص کو وصیت کے ذریعے اپنی پوری جائیداد اپنی مرضی سے منتقل کرنے کی آزادی ہونی چاہیے؟

جواب: NO

سوال نمبر 25

کیا موجودہ قانونی نظام میں ازدواجی تنازعات کے حل سے متعلق دفعات اتنی پیچیدہ اور وقت طلب ہیں کہ ممکنہ شریکِ حیات شادی کے بجائے لیو اِن ریلیشن شپ کو ترجیح دینے لگیں؟

جواب: NO

سوال نمبر 26

کیا یونیفارم سول کوڈ میں لیو اِن ریلیشن شپ میں رہنے والے مردوں اور عورتوں کے تحفظ کے لیے دفعات شامل ہونی چاہئیں؟

جواب: NO

سوال نمبر 27

کیا لیو اِن ریلیشن شپ کا اندراج لازمی ہونا چاہیے؟

جواب: YES

سوال نمبر 28

کیا لیو اِن ریلیشن شپ ختم کرنے کا اندراج بھی لازمی ہونا چاہیے؟

جواب: YES

سوال نمبر 29

کیا یونیفارم سول کوڈ میں لیو اِن ریلیشن شپ میں رہنے والی خواتین کے حقوق، مثلاً وراثت اور بعض حالات میں نان و نفقہ کے تحفظ کے لیے دفعات شامل ہونی چاہئیں؟

جواب: NO

سوال نمبر 30

کیا لیو اِن ریلیشن شپ سے پیدا ہونے والے بچوں کو وراثت کے حقوق حاصل ہونے چاہئیں؟

جواب: NO

سوال نمبر 31

کیا لیو اِن ریلیشن شپ سے پیدا ہونے والے بچوں کو اپنے والدین کی دیکھ بھال اور کفالت حاصل کرنے کا حق ہونا چاہیے؟

جواب: YES


مرحلہ نمبر 4: سوال نمبر 32 سے 37 تک انگریزی جوابات کاپی پیسٹ کریں

یہ فارم کا سب سے اہم حصہ ہے، کیونکہ یہاں آپ کو صرف YES یا NO منتخب نہیں کرنا، بلکہ اپنے خیالات اور تجاویز تحریری شکل میں پیش کرنی ہیں۔

نیچے ہر سوال کا نمبر، اس کا اردو مفہوم اور اس کے لیے تیار کردہ انگریزی جواب درج ہے۔

طریقہ: متعلقہ سوال کے نیچے دی گئی انگریزی عبارت کو کاپی کریں اور سرکاری فارم میں اسی سوال کے جواب والے خانے میں پیسٹ کر دیں۔

سوال نمبر 32

سوال: آپ کے خیال میں یونیفارم سول کوڈ کے تحت کن معاملات کو شامل کیا جانا چاہیے؟

کاپی پیسٹ کرنے کے لیے انگریزی جواب:

The Uniform Civil Code (UCC) may cover civil and family matters where common legal principles can be established without infringing upon religious freedom or fundamental religious beliefs. Any such law must comply with Articles 14, 15, 21, and 25 of the Indian Constitution, while ensuring a fair balance between constitutional equality, religious freedom, and the legitimate rights of all religious communities, as envisaged under Article 44.

سوال نمبر 33

سوال: شادی کے اندراج، طلاق، وراثت اور دیگر عائلی معاملات میں لوگوں کو کن مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے؟ موجودہ صورتِ حال کو بہتر بنانے کے لیے آپ کیا تجاویز دیں گے؟

کاپی پیسٹ کرنے کے لیے انگریزی جواب:

India is a pluralistic, multi-religious country. Matters such as marriage, divorce, and inheritance should respect each community’s religious beliefs and personal laws. Any reform must uphold Articles 25 and 26 of the Indian Constitution, while balancing religious freedom, constitutional equality, and the rights, dignity, and justice of all citizens.

سوال نمبر 34

سوال: کیا عائلی قوانین کی بعض دفعات خواتین کے خلاف امتیازی ہیں؟ مثالیں دیں۔ کیا آپ ان دفعات کی حمایت کرتے ہیں؟ اگر نہیں، تو ان میں موجود امتیاز کو ختم کرنے کے لیے تجاویز دیں۔

کاپی پیسٹ کرنے کے لیے انگریزی جواب:

No. Every religion has its own principles and beliefs, which should be respected. Disregarding these differences may lead to unnecessary conflicts and social discord. Therefore, if any discrimination exists, awareness should be promoted to eliminate it while respecting religious freedom, equality, and the constitutional rights of all citizens.

سوال نمبر 35

سوال: کیا زرعی زمین اور آبائی گھر کی وراثت کے قوانین کو دوسری جائیدادوں کی وراثت سے مختلف ہونا چاہیے؟ اگر ہاں، تو کیوں اور کس طرح؟

کاپی پیسٹ کرنے کے لیے انگریزی جواب:

No. A uniform inheritance law is not necessary, as different religious communities in India have their own inheritance laws based on their respective religious principles and traditions. These laws should be duly recognised and implemented in accordance with the Constitution of India, while ensuring legal protection, fairness, and respect for religious freedom and the rights of all citizens.

سوال نمبر 36

سوال: کیا بچوں کو اپنے والدین سے یکساں نان و نفقہ اور وراثت کے حقوق ملنے چاہئیں، خواہ وہ شادی کے اندر پیدا ہوئے ہوں یا شادی کے باہر؟

کاپی پیسٹ کرنے کے لیے انگریزی جواب:

Yes, certainly. However, policies should respect India’s diverse religious beliefs, cultural traditions, and social values rather than promote any particular lifestyle. As a pluralistic society, India must balance cultural sensitivities with constitutional rights. Any legal framework concerning live-in relationships should be consistent with the Constitution, applicable laws, individual liberty, and the dignity of all citizens.

سوال نمبر 37

سوال: موجودہ عائلی قوانین کی کن دفعات کو منصفانہ اور مساوی نظام قائم کرنے کے لیے ختم یا تبدیل کرنے کی ضرورت ہے؟ ایک بہتر، ہم آہنگ اور مستقبل بین مہاراشٹر کے لیے یونیفارم سول کوڈ میں کون سی دفعات شامل کی جانی چاہئیں؟

کاپی پیسٹ کرنے کے لیے انگریزی جواب:

Articles 26 and 29 safeguard equality, non-discrimination, religious freedom and cultural rights, while Article 44 guides the State towards a UCC. Muslim marriage, divorce, inheritance and family matters should respect Quranic and Sunnah-based principles. No community should be forced to violate its fundamental religious obligations. Meaningful consultation with all communities is essential to ensure justice, equality, dignity and religious freedom.


مرحلہ نمبر 5: فارم جمع کرنے سے پہلے ان باتوں کا خیال رکھیں

تمام سوالات کے جوابات درج کرنے کے بعد ان نکات کو ضرور دیکھ لیں:

  1. سوال نمبر 1 سے 31: ہر سوال کے سامنے اوپر دی گئی ہدایت کے مطابق YES یا NO منتخب کریں۔
  2. سوال نمبر 6: مردوں اور خواتین کے لیے عمر کے انتخاب کو احتیاط سے چیک کریں۔
  3. سوال نمبر 32 سے 37: ہر انگریزی جواب کو اسی نمبر کے خانے میں پیسٹ کریں۔
  4. الفاظ کی حد: ہر جواب کے نیچے حروف کی تعداد دکھائی دیتی ہے۔ عبارت کو متعلقہ خانے کی مقررہ حد، یعنی 600 حروف، کے اندر رکھیں۔
  5. ذاتی معلومات: نام، موبائل نمبر، ضلع اور پتے کی درستگی یقینی بنائیں۔
  6. اضافی تجاویز: فارم میں ضرورت کے مطابق اضافی دستاویز PDF کی شکل میں اپلوڈ کرنے کا آپشن بھی موجود ہے۔ اس کی حد 2 MB ہے۔ اگر آپ کے پاس کوئی اضافی تحریری تجویز یا دستاویز ہے تو اسے اس حصے میں اپلوڈ کر سکتے ہیں۔
  7. آخری جانچ: فارم جمع کرنے سے پہلے تمام جوابات دوبارہ پڑھ لیں۔

اس کے بعد Submit Suggestion کے بٹن پر کلک کریں۔


ایک اہم آئینی نکتہ: اپنی رائے میں کیا مؤقف اختیار کیا جا رہا ہے؟

اس فارم کے لیے تیار کردہ جوابات میں بنیادی طور پر تین امور پر توجہ دی گئی ہے:

1. مذہبی آزادی کا تحفظ

آئین ہند کا آرٹیکل 25 مذہبی آزادی اور آرٹیکل 26 مذہبی امور کے انتظام سے متعلق حقوق کا تحفظ کرتا ہے۔ کسی بھی قانونی اصلاح کے دوران ان حقوق اور متعلقہ آئینی حدود کو ملحوظ رکھنا ضروری ہے۔

2. مذہبی اور ثقافتی تنوع کا احترام

ہندوستان مختلف مذاہب، روایات اور شخصی قوانین کا حامل ملک ہے۔ عائلی قوانین میں کسی بھی تبدیلی کے وقت مختلف برادریوں کے مذہبی عقائد اور آئینی حقوق کو مناسب اہمیت دی جانی چاہیے۔

3. آئینی مساوات اور مذہبی آزادی میں توازن

آرٹیکل 14 قانون کے سامنے مساوات سے متعلق ہے، جبکہ آرٹیکل 44 ریاست کو یکساں سول کوڈ کے حصول کی سمت کوشش کرنے کی ہدایت دیتا ہے۔ ان دفعات کو ان کے آئینی تناظر میں سمجھنا ضروری ہے۔ آرٹیکل 44، آرٹیکل 25 اور دیگر بنیادی حقوق کی طرح بنیادی حقوق کے باب کا حصہ نہیں، بلکہ ریاستی پالیسی کے رہنما اصولوں میں شامل ہے۔


آخری اپیل

یونیفارم سول کوڈ جیسے اہم معاملے پر اپنی رائے درج کرنا ہر متعلقہ شہری کے لیے ایک اہم موقع ہے۔ اس لیے ضروری ہے کہ ہم محض جذبات کی بنیاد پر نہیں، بلکہ آئینی حقوق، مذہبی آزادی، قانونی اصولوں اور اپنے مؤقف کی واضح تفہیم کے ساتھ اپنی تجاویز حکومت تک پہنچائیں۔

اس مضمون کو ان لوگوں تک بھی پہنچائیں جو مہاراشٹر حکومت کے سرکاری پورٹل پر اپنی رائے درج کرنا چاہتے ہیں، تاکہ وہ فارم بھرنے کے طریقے کو سمجھ سکیں اور مقررہ مدت کے اندر اپنی تجاویز پیش کر سکیں۔

اپلوڈ کی 4 تصاویر مہاراشٹر میں یونیفارم سول کوڈ پر حکومت کی طرف سے مانگی گئی رائے کا جواب ہے، اس پوری جانکاری کو ایک ویب سائٹ پوسٹ کی شکل میں اس طرح لکھ کر دو جس میں یہ بتایا گیا ہو کہ اس فارم کو کیسے بھرنا ہے، کہاں YES اور کہاں No کو ٹک کرنا ہے۔ Step4 میں دی گئی رائے کو کاپی پیسٹ کرنا رہے گا، ہر سوال کا جواب اس کے نمبر کے ساتھ رہنا چاہئے

مہاراشٹر میں یونیفارم سول کوڈ (UCC) کے خلاف اپنی رائے کیسے درج کریں؟ مکمل رہنما گائیڈ، سوال نمبر 1 سے 37 تک جوابات کے ساتھ

مہاراشٹر حکومت نے یونیفارم سول کوڈ (UCC) کے سلسلے میں عوام سے تجاویز اور آراء طلب کی ہیں۔ یہ موقع ہے کہ ہم آئینی حقوق، مذہبی آزادی اور اپنے عائلی قوانین کے تحفظ کے حوالے سے اپنی رائے حکومت تک پہنچائیں۔

اس مقصد کے لیے مہاراشٹر حکومت کے یونیفارم سول کوڈ کمیٹی کے سرکاری پورٹل پر ایک آن لائن فارم جاری کیا گیا ہے۔ اس فارم میں ذاتی معلومات درج کرنے کے بعد مجموعی طور پر 37 سوالات کے جوابات دینے ہیں۔

اس مضمون میں فارم بھرنے کا مکمل طریقہ، ہر سوال کے سامنے YES یا NO منتخب کرنے کی ہدایت، اور سوال نمبر 32 سے 37 تک کے لیے انگریزی میں تیار شدہ جوابات دیے جا رہے ہیں۔

اہم ہدایت: فارم میں دیے گئے جوابات کو غور سے پڑھیں۔ سوال نمبر 32 سے 37 تک دی گئی انگریزی تحریروں کو متعلقہ خانوں میں کاپی پیسٹ کیا جا سکتا ہے۔


مرحلہ نمبر 1: سرکاری پورٹل پر جائیں

سب سے پہلے مہاراشٹر حکومت کے یونیفارم سول کوڈ سے متعلق سرکاری پورٹل پر جائیں۔

پورٹل پر آپ کو یہ عنوان نظر آئے گا:

Uniform Civil Code Committee, Maharashtra, 2026

اس کے بعد Individual کے آپشن کو منتخب کریں، کیونکہ یہ رہنما گائیڈ انفرادی طور پر اپنی رائے درج کرنے والوں کے لیے ہے۔

اس کے بعد آپ کے سامنے ذاتی معلومات درج کرنے کا فارم کھل جائے گا۔

آخری تاریخ: اپلوڈ کردہ اسکرین شاٹ کے مطابق تجاویز جمع کرانے کی آخری تاریخ 15 نومبر 2026 درج ہے۔ فارم جمع کرانے سے پہلے سرکاری پورٹل پر اس تاریخ کی تصدیق کر لیں۔


مرحلہ نمبر 2: ذاتی معلومات کا فارم پُر کریں

اس مرحلے میں اپنی معلومات درست طریقے سے درج کریں۔

نمبرفارم میں درج معلوماتکیا لکھنا ہے؟
1First Nameاپنا پہلا نام
2Father’s / Husband’s Nameوالد یا شوہر کا نام
3Last Nameاپنا خاندانی نام
4Mobile Numberاپنا فعال موبائل نمبر
5Religionاپنا مذہب منتخب کریں
6Categoryاپنی متعلقہ کیٹیگری منتخب کریں
7GenderMale یا Female، حسبِ ضرورت
8Ageاپنی عمر منتخب کریں
9StateMaharashtra منتخب کریں، اگر آپ مہاراشٹر کے رہائشی ہیں
10Districtاپنا ضلع منتخب کریں
11Talukaاپنی متعلقہ تحصیل منتخب کریں
12Addressاپنا مکمل پتہ درج کریں

ضروری ہدایات:

  • جن خانوں کے ساتھ سرخ ستارہ (*) لگا ہے، انہیں بھرنا ضروری ہے۔
  • موبائل نمبر درست درج کریں، کیونکہ اس کی تصدیق کی جا سکتی ہے۔
  • اپنے نام، عمر، مذہب اور پتے سمیت تمام معلومات درست درج کریں۔
  • ضلع اور تعلقہ منتخب کرتے وقت اپنے رہائشی علاقے کا خیال رکھیں۔

تمام ضروری معلومات درج کرنے کے بعد اگلے مرحلے کی طرف بڑھیں۔


مرحلہ نمبر 3: سوال نمبر 1 سے 31 تک YES اور NO منتخب کریں

اس حصے میں حکومت نے یونیفارم سول کوڈ کے مختلف پہلوؤں کے بارے میں سوالات پوچھے ہیں۔

نیچے ہر سوال کا نمبر، اس کا اردو مفہوم اور اس گائیڈ میں تجویز کردہ جواب دیا گیا ہے۔

اہم وضاحت: یہ جوابات مذہبی آزادی، آئینی حقوق اور مختلف مذہبی برادریوں کے شخصی قوانین کے تحفظ کو ترجیح دینے والے مؤقف کی عکاسی کرتے ہیں۔ یہ سرکاری کمیٹی کی رائے نہیں، بلکہ عوامی فارم بھرنے کے لیے ایک تجویز کردہ جواب نامہ ہے۔

حصہ اول: سوالات اور ان کے جوابات

سوال نمبر 1

کیا آپ موجودہ وقت میں مہاراشٹر میں یونیفارم سول کوڈ نافذ کرنے کی حمایت کرتے ہیں؟

جواب: NO

سوال نمبر 2

کیا آپ کے خیال میں مذہبی آزادی کے حق کو متاثر کیے بغیر یونیفارم سول کوڈ نافذ کیا جا سکتا ہے؟

جواب: NO

سوال نمبر 3

کیا آپ سمجھتے ہیں کہ یونیفارم سول کوڈ نافذ کرنے سے صنفی مساوات اور سماجی انصاف کو فروغ ملے گا؟

جواب: NO

سوال نمبر 4

کیا آپ کے خیال میں یونیفارم سول کوڈ کے نفاذ سے قانونی تنازعات کم ہوں گے اور قانونی کارروائی زیادہ مؤثر ہو جائے گی؟

جواب: NO

سوال نمبر 5

کیا شادی، طلاق اور دیگر متعلقہ معاملات کے اندراج اور ریکارڈ رکھنے کے لیے ایک مشترکہ نظام ہونا چاہیے؟

جواب: NO

سوال نمبر 6

شادی کی کم از کم عمر کیا ہونی چاہیے؟

  • مردوں کے لیے: 18 سال منتخب کریں۔
  • خواتین کے لیے: 18 سال منتخب کریں۔

نوٹ: یہ اس گائیڈ میں دکھائے گئے فارم کے مطابق منتخب کردہ جوابات ہیں۔ یہ قانونی مشورہ نہیں ہے۔ فارم میں عمر سے متعلق جواب دینے سے پہلے موجودہ قانونی تقاضوں کو بھی ملحوظ رکھیں۔

سوال نمبر 7

کیا شادی کے لیے ممنوع رشتوں کی ایک معیاری فہرست ہونی چاہیے؟

جواب: NO

سوال نمبر 8

کیا کسی شخص کو موجودہ شادی برقرار رہنے کے دوران دوسری شادی کرنے سے روکنا چاہیے؟

جواب: NO

سوال نمبر 9

کیا باطل اور قابلِ فسخ شادیوں کی وجوہات اور نتائج کے لیے یکساں دفعات ہونی چاہئیں؟

جواب: NO

سوال نمبر 10

کیا یونیفارم سول کوڈ میں مذہبی رسومات اور روایتی طریقوں، مثلاً نکاح کی مذہبی تقریب، کو برقرار رکھا جانا چاہیے؟

جواب: YES

سوال نمبر 11

کیا تمام مذہبی برادریوں کے لیے طلاق کی یکساں وجوہات اور طریقۂ کار ہونا چاہیے؟

جواب: NO

سوال نمبر 12

کیا مردوں اور عورتوں کے لیے طلاق کی وجوہات یکساں ہونی چاہئیں؟

جواب: NO

سوال نمبر 13

کیا یونیفارم سول کوڈ کو عدالتی کارروائی کے بغیر طلاق دینے کے طریقوں پر پابندی لگانی چاہیے؟

جواب: NO

سوال نمبر 14

کیا طلاق اور شادی کی منسوخی کا اندراج لازمی قرار دیا جانا چاہیے؟

جواب: NO

سوال نمبر 15

کیا طلاق یافتہ شریکِ حیات سے دوبارہ نکاح کرنے پر کوئی شرط عائد کرنا، مثلاً دوبارہ نکاح سے پہلے کسی تیسرے شخص سے نکاح کرنا، ممنوع قرار دیا جانا چاہیے؟

جواب: NO

سوال نمبر 16

کیا ازدواجی تنازعات میں نان و نفقہ کے دعووں کے لیے یکساں اور صنفی غیر جانب دار دفعات ہونی چاہئیں؟

جواب: NO

سوال نمبر 17

کیا والدین کے مذہب سے قطع نظر، زیرِ کفالت بچوں کے نان و نفقہ کے لیے یکساں قانون ہونا چاہیے؟

جواب: NO

سوال نمبر 18

کیا مالی طور پر صاحبِ استطاعت بالغ بچوں کے لیے اپنے زیرِ کفالت والدین کی کفالت کا یکساں قانونی فریضہ ہونا چاہیے؟

جواب: YES

سوال نمبر 19

کیا بچوں کی تحویل سے متعلق معاملات میں بچے کی فلاح اور بہترین مفاد کو سب سے زیادہ اہمیت دی جانی چاہیے؟

جواب: YES

سوال نمبر 20

کیا والدین کی ازدواجی حیثیت سے قطع نظر تمام بچوں کو وراثت میں یکساں حقوق ملنے چاہئیں؟

جواب: NO

سوال نمبر 21

کیا کسی شخص کے وصیت کیے بغیر انتقال کر جانے کی صورت میں، فریقین کے مذہب سے قطع نظر، وراثت کے لیے یکساں دفعات ہونی چاہئیں؟

جواب: NO

سوال نمبر 22

کیا وصیت اور وصیت کے ذریعے وراثت منتقل کرنے کے لیے تمام مذاہب میں یکساں دفعات ہونی چاہئیں؟

جواب: NO

سوال نمبر 23

کیا تمام مذہبی برادریوں میں مردوں اور عورتوں کو وراثت کے یکساں حقوق ملنے چاہئیں؟

جواب: NO

سوال نمبر 24

کیا کسی شخص کو وصیت کے ذریعے اپنی پوری جائیداد اپنی مرضی سے منتقل کرنے کی آزادی ہونی چاہیے؟

جواب: NO

سوال نمبر 25

کیا موجودہ قانونی نظام میں ازدواجی تنازعات کے حل سے متعلق دفعات اتنی پیچیدہ اور وقت طلب ہیں کہ ممکنہ شریکِ حیات شادی کے بجائے لیو اِن ریلیشن شپ کو ترجیح دینے لگیں؟

جواب: NO

سوال نمبر 26

کیا یونیفارم سول کوڈ میں لیو اِن ریلیشن شپ میں رہنے والے مردوں اور عورتوں کے تحفظ کے لیے دفعات شامل ہونی چاہئیں؟

جواب: NO

سوال نمبر 27

کیا لیو اِن ریلیشن شپ کا اندراج لازمی ہونا چاہیے؟

جواب: YES

سوال نمبر 28

کیا لیو اِن ریلیشن شپ ختم کرنے کا اندراج بھی لازمی ہونا چاہیے؟

جواب: YES

سوال نمبر 29

کیا یونیفارم سول کوڈ میں لیو اِن ریلیشن شپ میں رہنے والی خواتین کے حقوق، مثلاً وراثت اور بعض حالات میں نان و نفقہ کے تحفظ کے لیے دفعات شامل ہونی چاہئیں؟

جواب: NO

سوال نمبر 30

کیا لیو اِن ریلیشن شپ سے پیدا ہونے والے بچوں کو وراثت کے حقوق حاصل ہونے چاہئیں؟

جواب: NO

سوال نمبر 31

کیا لیو اِن ریلیشن شپ سے پیدا ہونے والے بچوں کو اپنے والدین کی دیکھ بھال اور کفالت حاصل کرنے کا حق ہونا چاہیے؟

جواب: YES


مرحلہ نمبر 4: سوال نمبر 32 سے 37 تک انگریزی جوابات کاپی پیسٹ کریں

یہ فارم کا سب سے اہم حصہ ہے، کیونکہ یہاں آپ کو صرف YES یا NO منتخب نہیں کرنا، بلکہ اپنے خیالات اور تجاویز تحریری شکل میں پیش کرنی ہیں۔

نیچے ہر سوال کا نمبر، اس کا اردو مفہوم اور اس کے لیے تیار کردہ انگریزی جواب درج ہے۔

طریقہ: متعلقہ سوال کے نیچے دی گئی انگریزی عبارت کو کاپی کریں اور سرکاری فارم میں اسی سوال کے جواب والے خانے میں پیسٹ کر دیں۔

سوال نمبر 32

سوال: آپ کے خیال میں یونیفارم سول کوڈ کے تحت کن معاملات کو شامل کیا جانا چاہیے؟

کاپی پیسٹ کرنے کے لیے انگریزی جواب:

The Uniform Civil Code (UCC) may cover civil and family matters where common legal principles can be established without infringing upon religious freedom or fundamental religious beliefs. Any such law must comply with Articles 14, 15, 21, and 25 of the Indian Constitution, while ensuring a fair balance between constitutional equality, religious freedom, and the legitimate rights of all religious communities, as envisaged under Article 44.

سوال نمبر 33

سوال: شادی کے اندراج، طلاق، وراثت اور دیگر عائلی معاملات میں لوگوں کو کن مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے؟ موجودہ صورتِ حال کو بہتر بنانے کے لیے آپ کیا تجاویز دیں گے؟

کاپی پیسٹ کرنے کے لیے انگریزی جواب:

India is a pluralistic, multi-religious country. Matters such as marriage, divorce, and inheritance should respect each community’s religious beliefs and personal laws. Any reform must uphold Articles 25 and 26 of the Indian Constitution, while balancing religious freedom, constitutional equality, and the rights, dignity, and justice of all citizens.

سوال نمبر 34

سوال: کیا عائلی قوانین کی بعض دفعات خواتین کے خلاف امتیازی ہیں؟ مثالیں دیں۔ کیا آپ ان دفعات کی حمایت کرتے ہیں؟ اگر نہیں، تو ان میں موجود امتیاز کو ختم کرنے کے لیے تجاویز دیں۔

کاپی پیسٹ کرنے کے لیے انگریزی جواب:

No. Every religion has its own principles and beliefs, which should be respected. Disregarding these differences may lead to unnecessary conflicts and social discord. Therefore, if any discrimination exists, awareness should be promoted to eliminate it while respecting religious freedom, equality, and the constitutional rights of all citizens.

سوال نمبر 35

سوال: کیا زرعی زمین اور آبائی گھر کی وراثت کے قوانین کو دوسری جائیدادوں کی وراثت سے مختلف ہونا چاہیے؟ اگر ہاں، تو کیوں اور کس طرح؟

کاپی پیسٹ کرنے کے لیے انگریزی جواب:

No. A uniform inheritance law is not necessary, as different religious communities in India have their own inheritance laws based on their respective religious principles and traditions. These laws should be duly recognised and implemented in accordance with the Constitution of India, while ensuring legal protection, fairness, and respect for religious freedom and the rights of all citizens.

سوال نمبر 36

سوال: کیا بچوں کو اپنے والدین سے یکساں نان و نفقہ اور وراثت کے حقوق ملنے چاہئیں، خواہ وہ شادی کے اندر پیدا ہوئے ہوں یا شادی کے باہر؟

کاپی پیسٹ کرنے کے لیے انگریزی جواب:

Yes, certainly. However, policies should respect India’s diverse religious beliefs, cultural traditions, and social values rather than promote any particular lifestyle. As a pluralistic society, India must balance cultural sensitivities with constitutional rights. Any legal framework concerning live-in relationships should be consistent with the Constitution, applicable laws, individual liberty, and the dignity of all citizens.

سوال نمبر 37

سوال: موجودہ عائلی قوانین کی کن دفعات کو منصفانہ اور مساوی نظام قائم کرنے کے لیے ختم یا تبدیل کرنے کی ضرورت ہے؟ ایک بہتر، ہم آہنگ اور مستقبل بین مہاراشٹر کے لیے یونیفارم سول کوڈ میں کون سی دفعات شامل کی جانی چاہئیں؟

کاپی پیسٹ کرنے کے لیے انگریزی جواب:

Articles 26 and 29 safeguard equality, non-discrimination, religious freedom and cultural rights, while Article 44 guides the State towards a UCC. Muslim marriage, divorce, inheritance and family matters should respect Quranic and Sunnah-based principles. No community should be forced to violate its fundamental religious obligations. Meaningful consultation with all communities is essential to ensure justice, equality, dignity and religious freedom.


مرحلہ نمبر 5: فارم جمع کرنے سے پہلے ان باتوں کا خیال رکھیں

تمام سوالات کے جوابات درج کرنے کے بعد ان نکات کو ضرور دیکھ لیں:

  1. سوال نمبر 1 سے 31: ہر سوال کے سامنے اوپر دی گئی ہدایت کے مطابق YES یا NO منتخب کریں۔
  2. سوال نمبر 6: مردوں اور خواتین کے لیے عمر کے انتخاب کو احتیاط سے چیک کریں۔
  3. سوال نمبر 32 سے 37: ہر انگریزی جواب کو اسی نمبر کے خانے میں پیسٹ کریں۔
  4. الفاظ کی حد: ہر جواب کے نیچے حروف کی تعداد دکھائی دیتی ہے۔ عبارت کو متعلقہ خانے کی مقررہ حد، یعنی 600 حروف، کے اندر رکھیں۔
  5. ذاتی معلومات: نام، موبائل نمبر، ضلع اور پتے کی درستگی یقینی بنائیں۔
  6. اضافی تجاویز: فارم میں ضرورت کے مطابق اضافی دستاویز PDF کی شکل میں اپلوڈ کرنے کا آپشن بھی موجود ہے۔ اس کی حد 2 MB ہے۔ اگر آپ کے پاس کوئی اضافی تحریری تجویز یا دستاویز ہے تو اسے اس حصے میں اپلوڈ کر سکتے ہیں۔
  7. آخری جانچ: فارم جمع کرنے سے پہلے تمام جوابات دوبارہ پڑھ لیں۔

اس کے بعد Submit Suggestion کے بٹن پر کلک کریں۔

اگر پورٹل موبائل نمبر کی تصدیق یا کسی دوسری کارروائی کا مطالبہ کرے تو اس کی ہدایات پر عمل کریں اور جمع کرانے کی تصدیق محفوظ کر لیں۔


ایک اہم آئینی نکتہ: اپنی رائے میں کیا مؤقف اختیار کیا جا رہا ہے؟

اس فارم کے لیے تیار کردہ جوابات میں بنیادی طور پر تین امور پر توجہ دی گئی ہے:

1. مذہبی آزادی کا تحفظ

آئین ہند کا آرٹیکل 25 مذہبی آزادی اور آرٹیکل 26 مذہبی امور کے انتظام سے متعلق حقوق کا تحفظ کرتا ہے۔ کسی بھی قانونی اصلاح کے دوران ان حقوق اور متعلقہ آئینی حدود کو ملحوظ رکھنا ضروری ہے۔

2. مذہبی اور ثقافتی تنوع کا احترام

ہندوستان مختلف مذاہب، روایات اور شخصی قوانین کا حامل ملک ہے۔ عائلی قوانین میں کسی بھی تبدیلی کے وقت مختلف برادریوں کے مذہبی عقائد اور آئینی حقوق کو مناسب اہمیت دی جانی چاہیے۔

3. آئینی مساوات اور مذہبی آزادی میں توازن

آرٹیکل 14 قانون کے سامنے مساوات سے متعلق ہے، جبکہ آرٹیکل 44 ریاست کو یکساں سول کوڈ کے حصول کی سمت کوشش کرنے کی ہدایت دیتا ہے۔ ان دفعات کو ان کے آئینی تناظر میں سمجھنا ضروری ہے۔ آرٹیکل 44، آرٹیکل 25 اور دیگر بنیادی حقوق کی طرح بنیادی حقوق کے باب کا حصہ نہیں، بلکہ ریاستی پالیسی کے رہنما اصولوں میں شامل ہے۔


آخری اپیل

یونیفارم سول کوڈ جیسے اہم معاملے پر اپنی رائے درج کرنا ہر متعلقہ شہری کے لیے ایک اہم موقع ہے۔ اس لیے ضروری ہے کہ ہم محض جذبات کی بنیاد پر نہیں، بلکہ آئینی حقوق، مذہبی آزادی، قانونی اصولوں اور اپنے مؤقف کی واضح تفہیم کے ساتھ اپنی تجاویز حکومت تک پہنچائیں۔

اس مضمون کو ان لوگوں تک بھی پہنچائیں جو مہاراشٹر حکومت کے سرکاری پورٹل پر اپنی رائے درج کرنا چاہتے ہیں، تاکہ وہ فارم بھرنے کے طریقے کو سمجھ سکیں اور مقررہ مدت کے اندر اپنی تجاویز پیش کر سکیں۔

0Like
0Dislike
50% LikesVS
50% Dislikes

You Might Also Like

ہر گھر میں کم از کم ایک اخبار کی باقاعدہ خریداری اور مطالعے کو معمول بنائیں: ابوشحمہ انصاری

دانش آزاد انصاری کی ڈاکٹر عمار رضوی سے ملاقات،اقلیتوں سے متعلق مختلف اہم امور پر تفصیلی تبادلۂ خیال

مولانا قمر غنی عثمانی کی ضمانت آخر اتنی مشکل کیوں؟

ڈاکٹر سشیلا تیواری کے مجسمے کی ازسرِنو تنصیب پر وزیراعلیٰ کا شکریہ، نارائن دت تیواری کے مجسمے کی تنصیب کا بھی مطالبہ

ہند۔برطانیہ جامع اقتصادی و تجارتی معاہدہ دونوں ممالک کے تعلقات میں ایک تاریخی سنگِ میل ثابت ہوگا: ڈاکٹر عمار رضوی

Share This Article
Facebook Twitter Whatsapp Whatsapp LinkedIn Telegram Email Copy Link Print
Previous Article ہر گھر میں کم از کم ایک اخبار کی باقاعدہ خریداری اور مطالعے کو معمول بنائیں: ابوشحمہ انصاری
Leave a review

Leave a review جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Please select a rating!

مہاراشٹر میں یونیفارم سول کوڈ (UCC) کے خلاف اپنی رائے کیسے درج کریں؟
ہر گھر میں کم از کم ایک اخبار کی باقاعدہ خریداری اور مطالعے کو معمول بنائیں: ابوشحمہ انصاری
انتخابی فہرست کی تطہیر کا عمل اہل ووٹر کے لئے آزمائش!
دانش آزاد انصاری کی ڈاکٹر عمار رضوی سے ملاقات،اقلیتوں سے متعلق مختلف اہم امور پر تفصیلی تبادلۂ خیال
اسلامی تعلیمات پر سماج کے درمیان باہمی مکالمہ وقت کی ضرورت

Advertise

ہمارا موبائل اپلیکیشن ڈاؤن لوڈ کریں

NewsG24بھارت میں پروپیگنڈہ خبروں کے خلاف ایک مہم ہے، جو انصاف اور سچائی پر یقین رکھتی ہے، آپ کی محبت اور پیار ہماری طاقت ہے!
© NewsG24 Urdu. All Rights Reserved.
  • About Us
  • TERMS AND CONDITIONS
  • Refund policy
  • سپورٹ کریں
  • Privacy Policy
  • پیام شعیب الاولیاء
  • Contact us
Welcome Back!

Sign in to your account

Lost your password?