
اردو زبان و صحافت کی بقا کے لیے اہلِ اردو کا عملی تعاون ناگزیر
بارہ بنکی: (پریس ریلیز) آل انڈیا مائنارٹیز فورم فار ڈیموکریسی کے سیکریٹری نشر و اشاعت ابوشحمہ انصاری نے ایک پریس بیان میں اخبارات کی موجودہ صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اہلِ اردو سے اپیل کی ہے کہ ہر گھر میں کم از کم ایک اخبار کی باقاعدہ خریداری اور مطالعے کو معمول بنائیں۔ ان کا کہنا ہے کہ صحافت کی بقاء اور استحکام میں قارئین کا عملی تعاون بنیادی اہمیت رکھتا ہے۔ زبان پڑھنے اور سمجھنے والوں کی بڑی تعداد کے باوجود کسی اخبار کی اشاعت ایک لاکھ تک نہ پہنچ پانا ایک سنجیدہ معاملہ ہے، جس پر اہلِ زبان اور صحافت سے وابستہ افراد کو غور کرنا چاہیے۔
موجودہ دور میں صحافت کے انداز اور ذرائع تیزی سے تبدیل ہو رہے ہیں۔ نئی نسل کی دلچسپیوں، بدلتے تقاضوں اور عوامی مسائل کو پیش نظر رکھتے ہوئے اخبارات کو بھی اپنے مواد اور پیشکش میں ضروری تبدیلی لانی ہوگی۔ مقامی خبریں، عوامی مسائل، تحقیقی رپورٹیں، مفید معلومات اور سنجیدہ تجزیے قارئین کو اخبار سے جوڑنے میں اہم کردار ادا کرسکتے ہیں۔ دیہی علاقوں میں سڑکوں کی خستہ حالی، نکاسیٔ آب، صاف پانی، بجلی، صحت اور تعلیم جیسے بنیادی مسائل پر حقائق پر مبنی رپورٹنگ عوام کی آواز متعلقہ اداروں تک پہنچانے کا مؤثر ذریعہ بن سکتی ہے۔
صحافت کو درپیش مالی اور اشاعتی مشکلات بھی تشویش کا باعث ہیں۔ متعدد اخبارات اپنی اشاعت بند کرچکے ہیں، جبکہ بعض ایسے ادارے جو کبھی 12 صفحات پر شائع ہوتے تھے، اب 8 صفحات تک محدود ہوگئے ہیں۔ اسی طرح 8 صفحات والے کئی اخبارات کی اشاعت گھٹ کر 4 صفحات تک رہ گئی ہے۔ محدود وسائل کے باوجود کچھ ادارے اشاعت کا سلسلہ برقرار رکھنے کے لیے کوشاں ہیں، تاہم بعض کے مستقبل کے حوالے سے بھی خدشات پیدا ہوگئے ہیں۔
اپنی بات کی وضاحت کرتے ہوئے ابوشحمہ انصاری نے ایک واقعے کا حوالہ دیا کہ ممبئی میں ایک وکیل کے گھر کام کرنے والی ایک ناخواندہ مراٹھی خاتون باقاعدگی سے مراٹھی اخبار خریدا کرتی تھی۔ اس کا کہنا تھا کہ یہ ہماری زبان کا اخبار ہے اور اس کی اشاعت جاری رہنی چاہیے۔ ان کے مطابق یہ واقعہ اس حقیقت کو واضح کرتا ہے کہ اپنی زبان سے وابستگی صرف پڑھنے لکھنے تک محدود نہیں ہوتی بلکہ اس زبان کے صحافتی اداروں کے تحفظ میں بھی اپنا کردار ادا کرتی ہے۔
نئی نسل کو مطالعے اور صحافت سے جوڑنے میں گھر اور تعلیمی اداروں دونوں کی ذمہ داری اہم ہے۔ والدین بچوں میں مطالعے کی عادت پیدا کریں اور اساتذہ اخبارات کے ذریعے طلبہ کو زبان، سماج اور حالاتِ حاضرہ سے واقف کرائیں۔ ہندوستان کی دیگر علاقائی زبانوں کے اخبارات نے بھی اپنے قارئین کی بدلتی ضروریات کو سمجھتے ہوئے صحافت کے نئے انداز اختیار کیے ہیں۔ ملیالم کے ’’ملیالم منورما‘‘ اور ’’ماتروبھومی‘‘ جیسے اخبارات اس حوالے سے قابلِ ذکر مثالیں ہیں۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ ہماری صحافت بھی اپنی مضبوط بنیاد برقرار رکھتے ہوئے جدید ذرائع ابلاغ اور نئی نسل کی ترجیحات سے ہم آہنگ ہوسکے۔
معیاری صحافت کی تشکیل میں صرف صحافتی اداروں کا کردار کافی نہیں۔ اداروں کو عوامی مفاد سے وابستہ معیاری اور قابلِ اعتماد مواد فراہم کرنا ہوگا، جبکہ مدیران اور صحافیوں کے لیے تحقیق، پیشہ ورانہ دیانت اور صحافتی اصولوں کی پاسداری ضروری ہے۔ تعلیمی ادارے مطالعے اور تنقیدی فکر کو فروغ دیں، ادبی و سماجی تنظیمیں مقامی سطح پر مطالعے کی سرگرمیوں کو آگے بڑھائیں اور اہلِ قلم نوجوانوں میں صحافت اور زبان کے تئیں دلچسپی پیدا کرنے کی کوشش کریں۔
قارئین کے کردار کو بھی نظرانداز نہیں کیا جاسکتا۔ اگر ان کے خریدنے والوں کی تعداد مسلسل کم ہوتی جائے گی تو اخبارات کے مالی وسائل بھی متاثر ہوں گے۔ اس لیے ہر خاندان کم از کم ایک اخبار باقاعدگی سے خریدے اور پڑھے۔ بچوں اور نوجوانوں کو بھی اس مطالعے میں شریک کیا جائے اور دوستوں، رشتہ داروں اور پڑوسیوں کو اخبار خریدنے کی ترغیب دی جائے۔ جو افراد الگ سے اخبار خریدنے کی استطاعت نہیں رکھتے، وہ باہمی تعاون سے مشترکہ طور پر اخبار منگوا سکتے ہیں یا مستقل طور پر کسی نیوز ایجنٹ کے ذریعے اخبار حاصل کرنے کا انتظام کرسکتے ہیں۔
اخبارات کو بھی اپنے قارئین سے مضبوط رابطہ قائم رکھنا چاہیے۔ عوام اپنے علاقے کے مسائل، تجاویز، آراء اور اہم مقامی معلومات اخبارات تک پہنچائیں تاکہ صحافت محض خبروں کی ترسیل تک محدود نہ رہے بلکہ معاشرے کے مسائل کی ترجمانی کا مؤثر ذریعہ بنے۔ قارئین کی رائے اور تجاویز سے اداروں کو اپنے مواد اور ترجیحات بہتر بنانے میں بھی مدد مل سکتی ہے۔
آخر میں ابوشحمہ انصاری نے اہلِ اردو سے خصوصی اپیل کی کہ ایک اخبار خریدنا صرف چند صفحات حاصل کرنا نہیں بلکہ اپنی زبان، تہذیبی شناخت اور صحافتی روایت کے تحفظ میں حصہ لینا ہے۔ اگر قارئین آج سے عملی تعاون شروع کریں تو صحافت کے لیے ایک مضبوط بنیاد قائم کی جاسکتی ہے۔ وقت کا تقاضا ہے کہ اخبارات کو صرف پسند کرنے کے بجائے انہیں خرید کر، پڑھ کر اور دوسروں تک پہنچا کر زندہ رکھنے میں اپنا کردار ادا کیا جائے۔یہ پریس بیان آل انڈیا مائنارٹیز فورم فار ڈیموکریسی کے شعبۂ نشر و اشاعت کی جانب سے جاری کیا گیا ہے۔




